உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Gurugram میں دو مسلم نوجوانوں کو گھیر کر پیٹا گیا، مذہب کو لے کر دی گئی گالیاں، جانئے پورا معاملہ

    Gurugram میں دو مسلم نوجوانوں کو گھیر کر پیٹا گیا، مذہب کو لے کر دی گئی گالیاں، جانئے پورا معاملہ

    Gurugram میں دو مسلم نوجوانوں کو گھیر کر پیٹا گیا، مذہب کو لے کر دی گئی گالیاں، جانئے پورا معاملہ

    Gurugram Police: دہلی سے متصل گروگرام میں دو افراد نے مبینہ طور پر دو مسلم نوجوانوں کے موبائل فون چھیننے کے بعد ان کے مذہب کو لے کر نازیبا الفاظ کہے اور ان کی پٹائی بھی کی ۔ گروگرام پولیس نے پیر کو یہ جانکاری دی ۔

    • Share this:
      گروگرام : دہلی سے متصل گروگرام (Gurugram) میں دو افراد نے مبینہ طور پر دو مسلم نوجوانوں (Muslim Youths)  کے موبائل فون چھیننے کے بعد ان کے مذہب کو لے کر نازیبا الفاظ کہے اور ان کی پٹائی بھی کی ۔ گروگرام پولیس نے پیر کو یہ جانکاری دی ۔ متاثرین کی شناخت بہار کے رہنے والے عبد الرحمان اور اس کے دوست محمد اعظم کے طور پر ہوئی ہے ۔

      گروگرام پولیس نے بتایا کہ حملہ آوروں نے انہیں خنزیر کا گوشت کھلانے کی بات کہی اور ان میں سے ایک نے متاثرین کو کوئی سفید پاوڈر کھانے پر مجبور کیا ۔ یہ واقعہ سیکٹر 45 میں رماڈا ہوٹل کے نزدیک اس وقت پیش آیا جب رحمان اور اعظم مدرسے سے عطیہ جمع کرنے کے بعد اپنی موٹرسائیکل پر چکّر پور جارہے تھے ۔ دونوں کو حملہ آوروں نے روک لیا ۔

       

       

      یہ بھی پڑھئے : کون ہیں Ukraine کی خاتون اول اولینا زیلینسکی؟ کیسے ہوئی زیلینسکی سے ملاقات، پھر پیار... جانئے سب کچھ


      اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس (صدر) امن یادیو نے کہا کہ واقعہ کے بعد سیکٹر 40 پولیس تھانہ میں ایک معاملہ درج کیا گیا ۔ پولیس نے ایک ملزم کی شناخت امت کے طور پر کی ہے ۔ اے سی پی یادو نے کہا کہ پولیس ملزمین کو پکڑنے کیلئے چھاپہ ماری کررہی ہے ۔

       

      یہ بھی پڑھئے : روینڈر جڈیجہ نے بلے کے بعد گیند سے مچایا کہرام، 49 سال بعد کوئی کھلاڑی یہاں پہنچا


      انہوں نے بتایا کہ متاثرین نے کہا کہ جب وہ ہوٹل کے پاس رکے تو ایک شخص کار میں ان کے پاس آیا اور پوچھا کہ وہ وہاں کیا کررہے ہیں ۔ یادو کے مطابق شخص کے سوال پر رحمان اور اعظم نے کہا کہ وہ اپنے گھر جارہے تھے اور ایسے ہی وہاں رک گئے ۔ اس پر اس شخص نے ایک دیگر شخص کو وہاں بلایا اور دونوں نے متاثرین کے مذہب کو لے کر نازیبا الفاظ کہے اور ان کی پٹائی کی ۔

      اے سی پی نے کہا کہ حملہ آوروں نے اپنی کار سے سفید رنگ کا پاوڈر نکالا اور اعظم کے منہ میں ڈال دیا ۔ اس کے بعد حملہ آور موبائل فون اور موٹرسائیکل لے کر فرار ہوگئے ۔ اے سی پی نے بتایا کہ بعد میں موٹرسائیکل پاس میں ایک جگہ پر پڑی ملی ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: