உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Delhi-NCR Air Pollution: آلودگی پرقابوپانے کےلیےتشکیل دی گئی ٹاسک فورس، سپریم کورٹ میں مرکزکاحلف نامہ

    دہلی میں فضائی آلودگی Delhi Air Pollution کی سطح خطرناک بنی ہوئی ہے۔

    دہلی میں فضائی آلودگی Delhi Air Pollution کی سطح خطرناک بنی ہوئی ہے۔

    جمعہ کو سپریم کورٹ(Supreme Court) میں سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل تشار مہتا (Tushar Mehta)نے بتایا کہ آلودگی سے نمٹنے کے لیے حکومت نے انفورسمنٹ ٹاسک فورس اور فلائنگ اسکواڈ تشکیل دیا ہے۔ یہ ٹاسک فورس پانچ ارکان پر مشتمل ہے

    • Share this:
      مرکزی حکومت نے دہلی۔این سی آر میں جاری فضائی آلودگی (Delhi-NCR Air Pollution)کے سلسلے میں ایک ٹاسک فورس(Task Force) تشکیل دی ہے۔ مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کرکے اس کی جانکاری دی ہے۔ جمعہ کو سپریم کورٹ(Supreme Court) میں سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل تشار مہتا (Tushar Mehta)نے بتایا کہ آلودگی سے نمٹنے کے لیے حکومت نے انفورسمنٹ ٹاسک فورس اور فلائنگ اسکواڈ تشکیل دیا ہے۔ یہ ٹاسک فورس پانچ ارکان پر مشتمل ہے اور اسے قانون سازی کے اختیارات دیے گئے ہیں۔ ٹاسک فورس کو سزا اور روک تھام کے لئے قانون سازی کے اختیارات دیئے گئے ہیں۔

      مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں دیے گئے اپنے حلف نامہ میں کہا کہ 17 فلائنگ اسکواڈ براہ راست انفورسمنٹ ٹاسک فورس کو رپورٹ کریں گے۔ حکومت نے کہا ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں میں فلائنگ اسکواڈز کی تعداد بڑھا کر 40 کر دی جائے گی۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آلودگی کے پیش نظر راجدھانی دہلی آنے والے ٹرکوں پر پابندی برقرار رہے گی۔ تاہم حکومت نے یہ بھی کہا ہے کہ صرف ضروری سامان کی سپلائی کرنے والے ٹرک ہی دہلی میں داخل ہوپائیں گے۔ اپنے حلف نامہ میں حکومت نے سپریم کور ٹ کو بتایا کہ آئندہ احکامات تک دہلی میں اسکول بند رہیں گے۔

      سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے پوچھا کہ کیا یہ فلائنگ اسکواڈ صرف دہلی یا این سی آر کا ہی معائنہ کریں گے۔ اس پر سالیسٹر جنرل نے کہا کہ فلائنگ اسکواڈ پورے این سی آر کے لیے ٹاسک فورس کے تحت کام کرینگے۔ پاور پلانٹ کی بند رکھنے پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا اس سے بجلی کی پیداوار متاثر نہیں ہوگی؟ تو مہتا نے جو اب دیا کہ نہیں ہوگی۔


      عدالت نے دہلی حکومت کو پھٹکار لگائی

      اس کے ساتھ ہی چیف جسٹس این وی رمنا (CJI Justice NV Ramana)نے دہلی حکومت کے وکیل ابھیشیک منو سنگھوی سے کہا کہ آپ میڈیا کے سامنے ہمیں ولن کیوں بنا رہے ہیں کہ ہم نے اسکول بند کر دیے ہیں۔ جب کہ آپ نے اپنا کام ٹھیک سے نہیں کیا۔ سنگھوی نے کہا کہ یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ ایک اخبار نے ایسی چیز شائع کی ہے۔ ہمیں اس پر بھی اعتراض ہے۔ سی جے آئی نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ہم تعلیم کے خلاف ہیں۔ آپ باہر جا کر اس کے بارے میں بات کر سکتے ہیں، ہم نہیں کر سکتے۔

      سنگھوی نے کہا کہ ہم نے حلف نامہ داخل کیا ہے۔ ہم نے سینٹرل کمیشن کے کہنے پر اسکول کھولے تھے اور اب دوبارہ اسکول بند کردیئے گئے ہیں۔ نومبر میں اسکول صرف 15-16 دن کے لیے کھلے تھے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ایسا پیش کیا جا رہا ہے جیسے سپریم کورٹ نےا سکول بند کرنے کو آپ نے خود ہی کہا جب کہ آپ نے کہا اسکول بند کر دیں گے۔

      اگلی سماعت 10 دسمبر کو ہوگی

      چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے مرکز اور این سی ٹی کے حلف ناموں کا مطالعہ کیا ہے۔ ہم نے مجوزہ ہدایات کو ذہن میں رکھا ہے۔ ہم دہلی اور مرکز کو 2 دسمبر کے احکامات کو نافذ کرنے کی ہدایت دیتے ہیں۔ ہم اس معاملے کو زیر التوا رکھتے ہیں اور اگلے جمعہ یعنی 10 دسمبر کو اس کی سماعت کریں گے۔
      Published by:Mirzaghani Baig
      First published: