உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Shocking : پہلے کی اجتماعی آبروریزی پھر استرے سے سینے کو کاٹنے کی خوفناک کوشش، متاثرہ کی کہانی پڑھ کر کانپ جائے گی روح!

    Delhi Gang Rape Case : چھبیس جنوری کو مشرقی دہلی کے وویک وہار علاقہ میں ہوئی خاتون کے ساتھ حیوانیت (Cruelty to Women) کے معاملہ میں درندگی کی خوفناک کہانی (Creepy Story) سامنے آرہی ہے۔

    Delhi Gang Rape Case : چھبیس جنوری کو مشرقی دہلی کے وویک وہار علاقہ میں ہوئی خاتون کے ساتھ حیوانیت (Cruelty to Women) کے معاملہ میں درندگی کی خوفناک کہانی (Creepy Story) سامنے آرہی ہے۔

    Delhi Gang Rape Case : چھبیس جنوری کو مشرقی دہلی کے وویک وہار علاقہ میں ہوئی خاتون کے ساتھ حیوانیت (Cruelty to Women) کے معاملہ میں درندگی کی خوفناک کہانی (Creepy Story) سامنے آرہی ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی : 26 جنوری کو مشرقی دہلی ( Delhi Gang Rape Case)  کے وویک وہار علاقہ میں ہوئی خاتون کے ساتھ حیوانیت (Cruelty to Women) کے معاملہ میں درندگی کی خوفناک کہانی (Creepy Story) سامنے آرہی ہے۔ دہلی پولیس (Delhi Police) کو دئے گئے بیان میں خاتون نے الزام لگایا کہ واقعہ کے دوران اس کے بال کاٹنے کے بعد استرا سے اس کے سینے کو کاٹنے کی کوشش کی گئی ۔ نابالغوں اور دوسرے لڑکوں نے اس کے ساتھ غیر فطری سیکس کیا تو خواتین نے اس کے پرائیویٹ پارٹ میں انگلی ڈال دی ۔ متاثرہ درد سے چھٹپٹائی ، روئی اور چلائی لیکن حیوانوں کو کوئی فرق نہیں پڑا ۔

      اتنا سب کے بعد بھی ملزمین یہیں نہیں رکے، انہوں نے اس کو ڈنڈوں، پلاسٹک کے پائکس اور بیلٹ سے مارنا شروع کر دیا اور جان سے مارنے کی کوشش کی۔ ایک خاتون کے ساتھ ہوئی اس حیوانیت میں خواتین بھی شامل تھیں، وہ چیخ چیخ کر کہہ رہی تھیں کہ وہ متاثرہ کے خاتون ہونے کی سبھی نشانیاں مٹا دیں گے ۔

      پہلے کمرے میں لے جا کر آبروریزی کی، پھر گلیوں میں گھمایا

      امر اُجالا کی ایک خبر کے مطابق متاثرہ خاتون کو پہلے کمرے میں لے جا کر حیوانیت کا نشانہ بنایا گیا ، اس کے بعد وہ اس کے چہرے پر کالکھ پوت کر گلیوں گلیوں میں گھمایا گیا ۔ بعد میں دوبارہ کمرے میں لے جا کر اس کے ساتھ درندگی کی گئی ۔ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک یہ سب چلتا رہا ، لیکن یوم جمہوریہ کے دن ہائی الرٹ کے دوران پولیس کو خبر تک نہیں ہوئی ۔ آخر کار اطلاع ملنے پر خاتون کو حیوانوں کے چنگل سے چھڑایا گیا ۔

      پولیس نے کہا : ملزمین کے خلاف دفعات بڑھائی جا سکتی ہیں

      پولیس ذرائع کے مطابق فی الحال متاثرہ کی شکایت پر آئی پی سی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس میں اغوا، اجتماعی عصمت دری، چھیڑ چھاڑ، جسمانی چھیڑ چھاڑ، جرائم کیلئے اکسانے ، مارپیٹ کرنے ، جان سے مارنے کی دھمکی ، غلط زبان کا استعمال، جرائم کی سازش اور دیگر دفعات شامل ہیں ۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش کے بعد کیس میں مزید دفعات جوڑی جا سکتی ہیں ۔

      وہیں کیس کی جانچ کرنے والے ایک پولیس افسر نے بتایا کہ گرفتار کئے گئے نابالغ لڑکوں میں سے ایک کے بالغ ہونے کا امکان ہے۔ اس کی جانچ جاری ہے۔ اگر جانچ کے بعد وہ بالغ ثابت ہوا تو اس کو معاملہ میں باضابطہ گرفتار کرکے اس کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا ۔ پولیس معاملہ کے دیگر ملزمان کی تلاش میں چھاپے مار رہی ہے ۔ ویڈیو اور سی سی ٹی وی کی بنیاد پر ملزمین کی مسلسل شناخت کی جا رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ معاملہ میں گرفتار اور حراست میں لئے گئے سبھی افراد ایک دوسرے کے رشتہ دار ہیں ۔

      شاہدرہ ضلع کے ڈی سی پی نے بتایا کہ اس معاملہ میں ہم نے اب تک کل 11 ملزمان کو گرفتار کیا ہے ، جن میں زیادہ تر خواتین شامل ہیں۔ ایک نابالغ کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ابھی ہماری پولیس ٹیمیں معاملہ کے دیگر ملزمین کی شناخت کی کوشش کر رہی ہیں اور کئی ملزمین مفرور ہیں ، جن کی گرفتاری کے لئے مسلسل دبش دی جارہی ہیں ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: