உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Delhi News: شب برات پر کھلے گا تبلیغی جماعت مرکز ، تاہم پوری کرنی ہوں گی کئی شرطیں 

    دہلی ہائی کورٹ نے دہلی وقف بورڈ کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے مرکز تبلیغی جماعت کی مسجد بنگلہ والی کی چار منزلیں شب برات پر عبادت کے لئے کھولنے کی اجازت دی ہے لیکن کئی طرح کی شرطیں لگائی گئی ہیں ۔

    دہلی ہائی کورٹ نے دہلی وقف بورڈ کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے مرکز تبلیغی جماعت کی مسجد بنگلہ والی کی چار منزلیں شب برات پر عبادت کے لئے کھولنے کی اجازت دی ہے لیکن کئی طرح کی شرطیں لگائی گئی ہیں ۔

    دہلی ہائی کورٹ نے دہلی وقف بورڈ کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے مرکز تبلیغی جماعت کی مسجد بنگلہ والی کی چار منزلیں شب برات پر عبادت کے لئے کھولنے کی اجازت دی ہے لیکن کئی طرح کی شرطیں لگائی گئی ہیں ۔

    • Share this:
    نئی دہلی : دہلی ہائی کورٹ نے دہلی وقف بورڈ کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے مرکز تبلیغی جماعت کی مسجد بنگلہ والی کی چار منزلیں شب برات پر عبادت کے لئے کھولنے کی اجازت دی ہے ، لیکن کئی طرح کی شرطیں لگائی گئی ہیں ۔ غیر ملکیوں کا داخلہ ممنوع ہوگا ، سماجی دوری کا التزام کیا جائے گا ، سی سی ٹی وی کیمروں سے نگرانی ہوگی ۔ تاہم ویڈیو گرافی نہیں ہوگی ۔ اس سے قبل دہلی پولیس اور وقف بورڈ میں شرطوں کو لے کر اختلاف ہوگیا تھا ، جس کے بعد دہلی ہائی کورٹ نے کئی شرطوں کو تبدیل کردیا تو کئی شرطوں کو پوری طرح سے ہٹادیا ۔

     

    یہ بھی پڑھئے : ماں نے بچہ کو زمین میں دفنایا ، پھر موت کو چکمہ دے کر لوٹ آیا معصوم


    غورطلب ہے کہ دہلی پولیس کے ذریعہ کئی طرح کی شرطیں لگاکر مرکز تبلیغی جماعت کھولنے کے لئے تجویز دہلی وقف بورڈ کے وکیلوں کو دی گئی تھی ، جس میں کافی شرطیں ایسی تھیں جن کا پورا کرنا مسجد انتظامیہ یا وقف بورڈ کیلئے آسان نہیں تھا۔ ایک شرط یہ لگائی گئی تھی کہ مسجد میں ہر منزل پر صرف سو افراد ہی نماز پڑھیں گے ، اس سے زیادہ افراد مسجد میں داخل نہ ہوں گے ۔ ظاہر یہ دہلی میں تمام عبادت گاہیں پہلے ہی کھل چکی ہیں کسی طرح کی کوئی پابندی باقی نہیں ہے ۔

    دہلی ہائی کورٹ نے اس شرط پر اعتراض اور اشکال کے بعد اس شرط کو پوری طرح سے ہٹادیا ۔ صرف ہدایت دی کہ سماجی دوری کے لحاظ سے نماز یوں کی تعداد طے ہوگی اور نماز سماجی دوری سے ادا کی جائے گی اس کے علاوہ ایک شرط دہلی پولیس کی جانب سے دی گئی تھی کہ اس پورے پروسیس کی ویڈیو گرافی کی جائے گی اور نظام الدین پولیس اسٹیشن ایس ایچ او کو دی جائے گی ، جس کو عدالت کے ذریعہ ہٹایا گیا ہے ۔

    دہلی پولیس کی جانب سے ایک شرط لگائی گئی تھی کہ کوئی بھی غیر ملکی مسجد میں داخل نہیں ہوگا ۔ اس شرط پر اعتراض کیا گیا کہ اس کو جانچنا اور معلوم کرنا مشکل امر ہے ، جس کے بعد شرط کو دہلی ہائی کورٹ کے ذریعہ تبدیل کرکے صرف نوٹس لگانے تک محدود کردیا گیا کہ غیرملکیوں کا مسجد داخلہ ممنوع ہے ۔ ایک رجسٹر بنانا کہ کتنے لوگ آرہے ہیں ان کا نام پتہ معلوم کرنا ان کا رجسٹر میں اندراج کرانا یہ کافی مشکل تھا، جس پراعتراض کیا گیا کہ جو لوگ عبادت کے لئے آرہے ہیں ، ان سے کہنا آپ اپنا نام پتہ لکھئے یہ تھیک نہیں تھا ، کیونکہ لوگ عبادت کرنے آرہے ہیں ۔ ایسا کسی بھی مذہنی جگہ پر نہیں ہے ، ایسا کہیں اور نہیں ہورہا ہے ۔

     

    یہ بھی پڑھئے: ہندوستانی میزائل گرتے ہی پاکستان میں مچ گیا تھا ہنگامہ، اٹھانے والا تھا یہ بڑا قدم!


    اس کے علاوہ ایک شرط یہ لگائی گئی کہ ٹیکہ لگواچکے لوگ ہی مسجد میں داخل ہوں گے ، جن کو ٹیکہ نہیں لگا ہے ان کو داخلہ نہیں ملے گا اس کو چیک کرنا اور یقینی بنانا ممکن نہیں تھا ، جس کے بعد اس شرط کو ہٹاکر صرف جسم کی حرارت چیک کرنا اور سینیٹائزر وغیر کا استعمال کرنے کے لئے کہا گیا ہے ۔

    دہلی وقف بورڈ کے وکیل وجیہ شفیق نے بتایا کہ فی الحال اجازت صرف شب برات کے لئے دی گئی ہے اور رمضان کے لئے 30 مارچ کو سماعت ہوگی ۔ اس سے قبل دہلی وقف بورڈ ایک بار پھر سے اپلائی کرے گا اور پولیس کے ساتھ تال میل بنائے گا تاہم اگر اتفاق نہیں ہوتا تو اس معاملے میں عدالت کا دروازہ کھلاہے ۔

    یاد رہے کہ گزشتہ سال شب برات اور رمضان کے لئے صرف پچاس افرا د کو ہی عبادت کی اجازت دی گئی تھی اور اس کے بعد سے چند افراد ہی مسجد میں نماز ادا کرپارہے تھے جبکہ باہر مرکز و مسجد پر پوری طرح سے تالا لگا ہوا تھا ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: