உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Delhi News: پریاگ راج میں بلڈوزر کارروائی کے خلاف احتجاج کرنے جا رہے ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے کارکنوں کو پولیس نے حراست میں لیا

    Delhi News: پریاگ راج میں بلڈوزر کارروائی کے خلاف احتجاج کرنے جا رہے ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے کارکنوں کو پولیس نے حراست میں لیا

    Delhi News: پریاگ راج میں بلڈوزر کارروائی کے خلاف احتجاج کرنے جا رہے ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے کارکنوں کو پولیس نے حراست میں لیا

    Delhi News: ویلفیئر پارٹی نے آج جنتر منتر پر دن بھر کے دھرنے کی کال دی تھی، جس کا مقصد ملک میں بلڈوزر کارروائی اور سماجی کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرنا تھا۔

    • Share this:
    نئی دہلی : ویلفیئر پارٹی نے آج جنتر منتر پر دن بھر کے دھرنے کی کال دی تھی، جس کا مقصد ملک میں بلڈوزر کارروائی اور سماجی کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرنا تھا۔ پارٹی کے قومی جنرل سیکرٹری (آرگنائزیشن) سبرامنی آرموگم نے ایک بیان میں کہا کہ اس دھرنے کی اطلاع پولیس کو کافی دن قبل دے دی گئی تھی اور ایک دن پہلے تک ہماری پارٹی کے دہلی پردیش کے جنرل سیکرٹری محمد عارف اخلاق، پولیس سے برا ہ راست رابطہ میں تھے اور ان کی طرف سے برابر یہی کہا جارہا تھا کہ آپ دھرنا کرسکتے ہیں۔

     

    یہ بھی پڑھئے: اودے پور میں ٹیلر کا بہیمانہ قتل، ملزمین گرفتار، علاقہ میں کشیدگی، انٹرنیٹ بند


    لیکن کل رات پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانہ سے اطلاع دی گئی کہ آپ کی اجازت ختم کردی گئی اور آج صبح ایس ایچ او پارلیمنٹ اسٹریٹ نے عارف اخلاق کو فون کرکے بتایا کہ ملک کی فرقہ وارانہ صورت حال صحیح نہیں ہے، اس لئے آپ کو دھرنے کی اجازت نہیں ہے۔ ہمارے یہ کہنے پر بھی کہ ہمارا دھرنا کسی فرقہ کے خلاف نہیں ہے بلکہ حکومت کے اقدامات کے خلاف ہے، وہ کسی بھی طرح تیار نہیں ہوئے۔ بہرحال پارٹی نے یہ فیصلہ کیا کہ ہم دھرنا ضرور کریں گے اور اگر ہمیں گرفتار کیا گیا تو گرفتاری بھی دیں گے۔

     

    یہ بھی پڑھئے: بڑی خبر: پٹیالہ ہاوس کورٹ نے صحافی محمد زبیر کو 4 دن کی پولیس ریمانڈ پر بھیجا


    انہوں نے بتایا کہ ابوالفضل انکلیو سے جب ہمارے ورکرس جنتر منتر جانے کے لئے بس میں بیٹھ  گئے، تو شاہین باغ تھانے کی پولیس نے انہیں آگے نہیں بڑھنے دیا اور انھیں کالکاجی پولس اسٹیشن لے کر چلی گئی۔ ویلفیئر پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے جب شاہین باغ کے ایس ایچ او سے بات کرنے کی کوشش کی تو ان سے بات کرنے کی بجائے انہیں اور ان کے ساتھ گئے قومی سکریٹری رزاق پالیری اور کرناٹک ویلفیئر پارٹی کے ریاستی صدر ایڈوکیٹ طاہر حسین کو بھی حراست میں لے کر کالکاجی تھانہ بھیج دیا۔ تقریباً 6 گھنٹے کے بعد ان سب کی رہائی عمل میں آئی۔

    رہا ہو نے کے بعد ڈاکٹر الیاس نے پارٹی آفس میں میڈیا سے بات کر تے ہو ئے کہا کہ موجودہ حکومت ملک میں جمہوری آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ وہ ایک طرف نوپورشرما کو سیکوریٹی فراہم کر تی ہے اور ممبئی پولیس کو اسے حراست میں نہیں لینے دیتی ہے اور دوسری طرف جو لوگ نوپور کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہو ئے احتجاج کر تے ہیں، انہیں گرفتار کر لیا جاتا ہے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: