உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دہلی تشدد:چاندباغ میں پولیس کانسٹیبل رتن لال پرفائرنگ کرنے والوں کی گئی نشاندہی، پولیس کا دعویٰ

    انجینئر محمد سلیم نے کہا کہ کمیشن کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ بہت سے کیس رجسٹرڈ نہیں کئے گئے تو کافی کیس ایسے ہیں، جن کو الگ لگ سے درج کرکے ایف آئی آر کئے جانے کی ضرورت ہے، لیکن ایسانہیں کیا گیا ہے۔ اس لئے دہلی کے فساد کے دوران دہلی پولیس کے کردار کی جانچ ہونی چاہئے۔

    انجینئر محمد سلیم نے کہا کہ کمیشن کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ بہت سے کیس رجسٹرڈ نہیں کئے گئے تو کافی کیس ایسے ہیں، جن کو الگ لگ سے درج کرکے ایف آئی آر کئے جانے کی ضرورت ہے، لیکن ایسانہیں کیا گیا ہے۔ اس لئے دہلی کے فساد کے دوران دہلی پولیس کے کردار کی جانچ ہونی چاہئے۔

    شمال مشرقی دہلی تشدد معاملہ میں ایک بڑا انکشاف ہوا ہے۔ کرائم برانچ نے دعویٰ کیا ہے دو اہم معاملوں میں ملزمین کی شناخت کرلی ہے۔ اور انہیں جلد ہی گرفتار کرلیا جائے گا۔

    • Share this:
    شمال مشرقی دہلی تشدد معاملہ میں ایک بڑا انکشاف ہوا ہے۔ کرائم برانچ نے دعویٰ کیا ہے دو اہم معاملوں میں ملزمین کی شناخت کرلی ہے۔ جسے جلد ہی گرفتار کرلیا جائے گا۔ ہم آپ کو بتادیں کہ 24 فروری کو دہلی کے چاند باغ کے علاقے میں تشدد ہوا تھا۔ جس میں ہیڈ کانسٹیبل رتن لال کا قتل کردیا گیا تھا۔ اس دوران ، ڈی سی پی امت شرما اور اے سی پی انوج پر ہجوم نے حملہ کردیا تھا۔جمعرات کے روز ، شمال مشرقی دہلی میں تشدد سے متعلق ایک ویڈیو سامنے آیا۔جس میں بے قابو ہجوم ڈی سی پی پر پتھراؤ کرتے ہوئے نظر آرہا ہے۔ یہ ویڈیوز 24 فروری کا بتایاجارہاہے۔جبکہ ایک دوسرےویڈیو میں پولیس ، ہجوم پر پتھراؤ کررہی ہے۔ پولیس کا کہناہے کہ یہ ویڈیوز دہلی کے علاقے چاند باغ کے ہی ہیں۔


    دہلی پولیس کے اے سی پی انوج کا کہنا ہے کہ ڈی سی پی ڈیوائڈر کے قریب گر چکے تھے۔ انوج کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ 24 کا ہے ۔جہاں وزیر آباد روڈ پر اچانک مشتعل ہجوم جمع ہوگیاتھا۔ ہم کسی نہ کسی طرح نجی ذرائع سے یمنا وہار سے یہاں پہنچے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈی سی پی بیہوش ہوکر ڈیوائڈر کے قریب گر گئے۔ کسی کی شناخت کرنے پر ، اے سی پی نے کہا کہ ہجوم میں سبھی مشتعل تھے اسی لیے وہ کسی کی شناخت نہیں کرپائیں ہیں۔

    پتھراؤ بعد کی گئی تھی فائرنگ

    ذرائع کے مطابق ، یہ ویڈیو 24 فروری کاہے ، جب چاند باغ کے قریب گروپ کے درمیان جھگڑے اور ہاتھا پائی کی اطلاع ملنے پر ڈی سی پی امت شرما ٹیم کے ساتھ وہاں پہنچ گئے ، لیکن تب ہی شرپسندوں نے پولیس پر پتھراؤ شروع کردیا۔ بتایا جارہا ہے کہ پولیس روکنے کی کوشش کر رہی تھی ، جب پتھر اؤ نے شدت اختیار کرلی تو پولیس کارروائی کرنے سے قاصر رہی۔ مسلسل پتھراؤ کے دوران ہی فائرنگ بھی کی گئی ہے۔ کرائم برانچ کی ایس آئی ٹی بھی اس ویڈیو کی تحقیقات کر رہی ہے۔ اسی کے ساتھ ہی ، موقع پر موجود تمام پولیس اہلکاروں کے بیانات لئے گئے ہیں۔ یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ شرپسندوں نے رتن لال پر فائرنگ کی تھی ، جس کی وجہ سے انکی موت ہوگئی۔
    Published by:Mirzaghani Baig
    First published: