ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

دہلی تشدد:چاندباغ میں پولیس کانسٹیبل رتن لال پرفائرنگ کرنے والوں کی گئی نشاندہی، پولیس کا دعویٰ

شمال مشرقی دہلی تشدد معاملہ میں ایک بڑا انکشاف ہوا ہے۔ کرائم برانچ نے دعویٰ کیا ہے دو اہم معاملوں میں ملزمین کی شناخت کرلی ہے۔ اور انہیں جلد ہی گرفتار کرلیا جائے گا۔

  • Share this:
دہلی تشدد:چاندباغ میں پولیس کانسٹیبل رتن لال پرفائرنگ کرنے والوں کی گئی نشاندہی، پولیس کا دعویٰ
راجدھانی دہلی کے مشرقی علاقے (North East Delhi) میں دو دن کے تشدد ((Delhi Violence)) کے بعد اب ماحول بہتر ہو رہا ہے۔ دہلی میں بھڑکے تشدد میںپر قابو پانے کیلئے پولیس نےدیر رات تک فلیگ مارچ کیا۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لئے چپے۔چپے پر پولیس کی تعیناتی کی گئی ہے۔

شمال مشرقی دہلی تشدد معاملہ میں ایک بڑا انکشاف ہوا ہے۔ کرائم برانچ نے دعویٰ کیا ہے دو اہم معاملوں میں ملزمین کی شناخت کرلی ہے۔ جسے جلد ہی گرفتار کرلیا جائے گا۔ ہم آپ کو بتادیں کہ 24 فروری کو دہلی کے چاند باغ کے علاقے میں تشدد ہوا تھا۔ جس میں ہیڈ کانسٹیبل رتن لال کا قتل کردیا گیا تھا۔ اس دوران ، ڈی سی پی امت شرما اور اے سی پی انوج پر ہجوم نے حملہ کردیا تھا۔جمعرات کے روز ، شمال مشرقی دہلی میں تشدد سے متعلق ایک ویڈیو سامنے آیا۔جس میں بے قابو ہجوم ڈی سی پی پر پتھراؤ کرتے ہوئے نظر آرہا ہے۔ یہ ویڈیوز 24 فروری کا بتایاجارہاہے۔جبکہ ایک دوسرےویڈیو میں پولیس ، ہجوم پر پتھراؤ کررہی ہے۔ پولیس کا کہناہے کہ یہ ویڈیوز دہلی کے علاقے چاند باغ کے ہی ہیں۔



دہلی پولیس کے اے سی پی انوج کا کہنا ہے کہ ڈی سی پی ڈیوائڈر کے قریب گر چکے تھے۔ انوج کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ 24 کا ہے ۔جہاں وزیر آباد روڈ پر اچانک مشتعل ہجوم جمع ہوگیاتھا۔ ہم کسی نہ کسی طرح نجی ذرائع سے یمنا وہار سے یہاں پہنچے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈی سی پی بیہوش ہوکر ڈیوائڈر کے قریب گر گئے۔ کسی کی شناخت کرنے پر ، اے سی پی نے کہا کہ ہجوم میں سبھی مشتعل تھے اسی لیے وہ کسی کی شناخت نہیں کرپائیں ہیں۔

پتھراؤ بعد کی گئی تھی فائرنگ

ذرائع کے مطابق ، یہ ویڈیو 24 فروری کاہے ، جب چاند باغ کے قریب گروپ کے درمیان جھگڑے اور ہاتھا پائی کی اطلاع ملنے پر ڈی سی پی امت شرما ٹیم کے ساتھ وہاں پہنچ گئے ، لیکن تب ہی شرپسندوں نے پولیس پر پتھراؤ شروع کردیا۔ بتایا جارہا ہے کہ پولیس روکنے کی کوشش کر رہی تھی ، جب پتھر اؤ نے شدت اختیار کرلی تو پولیس کارروائی کرنے سے قاصر رہی۔ مسلسل پتھراؤ کے دوران ہی فائرنگ بھی کی گئی ہے۔ کرائم برانچ کی ایس آئی ٹی بھی اس ویڈیو کی تحقیقات کر رہی ہے۔ اسی کے ساتھ ہی ، موقع پر موجود تمام پولیس اہلکاروں کے بیانات لئے گئے ہیں۔ یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ شرپسندوں نے رتن لال پر فائرنگ کی تھی ، جس کی وجہ سے انکی موت ہوگئی۔
First published: Mar 06, 2020 12:20 PM IST