உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بڑی خبر: کسان آندولن میں شامل ہونے کے لئے سندھو بارڈر پہنچیں شاہین باغ کی دادی بلقیس بانو کو پولیس نے کیا گرفتار

    کسان آندولن میں شامل ہونے کے لئے سندھو بارڈر پہنچیں شاہین باغ کی دادی بلقیس بانو کو پولیس نے کیا گرفتار

    کسان آندولن میں شامل ہونے کے لئے سندھو بارڈر پہنچیں شاہین باغ کی دادی بلقیس بانو کو پولیس نے کیا گرفتار

    Farmers Protest: کسان احتجاج میں شامل ہونے پہنچیں شاہین باغ کی دادی بلقیس بانو کو سندھو بارڈر پر دہلی پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) اور این آرسی کے خلاف احتجاج کا چہرہ بن چکیں شاہین باغ کی دادی بلقیس بانو کو سندھو بارڈر پر دہلی پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔ وہ آج کسان احتجاج کی حمایت کرنے کے لئے سندھو بارڈر پہنچی تھیں۔ اس سے پہلے بلقیس دادی نے کہا تھا کہ ہم کسانوں کی بیٹیاں ہیں اور ہم آج کسانوں کے احتجاجی مظاہرہ کو حمایت دیں گے۔ ہم اپنی آواز اٹھائیں گے، حکومت کو ہماری بات سننی چاہئے۔

      دراصل، گزشتہ کئی دنوں سے اترپردیش، ہریانہ اور پنجاب کے کسان تنظیمیں مرکزی حکومت کے تین نئے زرعی قانون کے خلاف دہلی کے ٹکری، غازی پور اور سندھو بارڈر پر احتجاجی مظاہرہ کر رہے ہیں جبکہ پولیس نے کسانوں کے دہلی چلو کی اپیل کے پیش نظر سرحد پر احتیاط کے طور پر گاڑیوں کی جانچ تیز کردی ہے۔ ویسے ٹکری، سندھو اور غازی پور بارڈر کے علاوہ دہلی کو ہریانہ اور اترپردیش سے جوڑنے والے کسی دیگر سرحدی علاقے سے احتجاجی مظاہرہ کی خبر نہیں ہے۔ احتیاطاً دہلی - گڑگاوں سرحد پر بھی سیکورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کو مضبوط کردیا گیا ہے۔



      شاہین باغ سے سرخیوں میں آئی تھیں دادی بلقیس

      ایسا نہیں ہے کہ بلقیس دادی شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت کے سبب احتجاج کے دوران صرف خاص موقع پر ہی نظر آئی تھیں۔ وہ صبح سے لے کر رات تک ہی دھرنا کی جگہ پر بیٹھی رہتی تھیں۔ انہوں نے احتجاج میں آخری وقت تک بنے رہنے کی بات کہی تھی۔

      بلقیس دادی نے کہا تھا کہ ہم کسانوں کی بیٹیاں ہیں اور ہم آج کسانوں کے احتجاجی مظاہرہ کو حمایت دیں گے۔ ہم اپنی آواز اٹھائیں گے، حکومت کو ہماری بات سننی چاہئے۔
      بلقیس دادی نے کہا تھا کہ ہم کسانوں کی بیٹیاں ہیں اور ہم آج کسانوں کے احتجاجی مظاہرہ کو حمایت دیں گے۔ ہم اپنی آواز اٹھائیں گے، حکومت کو ہماری بات سننی چاہئے۔


      ٹائم میگزین میں ہوا تھا ذکر

      ٹائم میگزین کی صحافی رعنا ایوب نے اپنے کالم میں بلقیس دادی کا خاص طور پر ذکر کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کیسے بلقیس دادی دہلی کی کپکپاتی سردی میں احتجاج کے مقام پر ڈٹی رہیں اور شاہین باغ احتجاج میں لوگوں کی آواز بن گئیں۔ اتنا ہی نہیں بلقیس دادی کے بیان بھی کم سرخیوں میں نہیں رہے۔ احتجاج کے دوران جب ان کا نام پوچھا گیا تو انہوں نے واضح طور پر کہہ دیا کہ ہم نام نہیں بتائیں گے کیونکہ ان کے پاس دستاویز نہیں ہیں۔

      یوپی کی رہنے والی ہیں دادی

      بلقیس دادی کے نام سے مشہور بلقیس بانو اترپردیش کے بلند شہر کی رہنے والی ہیں، لیکن وہ فی الحال اپنے بچوں کے ساتھ دہلی میں رہ رہی ہیں۔  ان کے شوہر کھیتی مزدوری کیا کرتے تھے، جو اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔ یہی نہیں، احتجاج کے دوران بلقیس دادی نے بتایا تھا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں کبھی کسی سیاسی احتجاج میں حصہ نہیں لیا تھا۔ اس سے پہلے وہ صرف ایک گھریلو خاتون ہوا کرتی تھیں۔ انہوں نے پہلے کبھی اپنا گھر نہیں چھوڑا، لیکن اس احتجاج میں ان کا کھانا سونا احتجاج کے مقام پر ہی ہوتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ صرف کچھ وقت کے لئے کپڑے بدلنے گھر جاتی تھیں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: