دہلی پولیس کا احتجاج 11 گھنٹوں کےبعد ختم، مختلف ریاستوں کا بھی ملا ساتھ، تمام مطالبات تسلیم

اعلی حکام کی یقین دہانی کے بعد پولیس اہلکاروں نےدھرنا ختم کرنےکا فیصلہ کیا۔ ایک افسرنے بتایا کہ مظاہرہ کررہے پولیس اہلکاروں کےمطالبات مان لئےگئے ہیں۔

Nov 05, 2019 10:37 PM IST | Updated on: Nov 05, 2019 10:48 PM IST
دہلی پولیس کا احتجاج 11 گھنٹوں کےبعد ختم، مختلف ریاستوں کا بھی ملا ساتھ، تمام مطالبات تسلیم

پولیس اہلکاروں نےاحتجاجی مظاہرہ کرکے10 گھنٹےکے بعد ختم کردیا ہے۔

نئی دہلی: وکیلوں اوردہلی پولیس کے درمیان تیس ہزاری کورٹ میں ہوئی پُرتشدد تصادم کا معاملہ مزید طول پکڑتا جارہا ہے۔ منگل کو دہلی پولیس کے جوان سڑکون پراترآئے اور حادثےکی جم کرمخالفت کی۔ منگل کی صبح سے ہی دہلی پولیس ہیڈ کوارٹرکے باہرجوانوں نےاحتجاجی مظاہرہ کرکے وکیلوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اس احتجاجی مظاہرہ کے تقریباً 11 گھنٹے بعد پولیس اہلکاروں نےاس احتجاج کوختم کردیا۔ اس معاملے میں دہلی کےلیفٹیننٹ گورنرانل بیجل کوکمان سونپی گئی تھی۔ افسران کے ساتھ ہوئی میٹنگ کے دوران کسی طرح سے پولیس اہلکاروں کومنانے میں کامیابی ملی۔

پولیس اہلکاروں نے وکلاء کے رویے کے خلاف منگل کے روز پولیس ہیڈ کوارٹر کے باہر مظاہرہ کرکےاس معاملے میں کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ پولیس کمشنر انمول پٹنائک سمیت سبھی اعلی حکام نے بار بار کام پر واپس آنے کی اپیل کی، مگر پولیس اہلکار اپنے مطالبات پر بضد رہے۔ دہلی پولیس کی تاریخ میں پہلی بار پولیس افسر اور ملازم دھرنےپر بیٹھے۔

Loading...

پولیس اہلکار اپنےمطالبات پر بضد رہے۔

واضح رہےکہ وکلاء کے رویےکے خلاف آج صبح سے پولیس اہلکار تحریک چلا رہے تھے جس میں دوپہربعد ان کی بیویاں اوربچے بھی شامل ہو گئے۔ پولیس اہلکاروں نے پولیس ہیڈ کوارٹرکےباہراوران کے اہل خانہ نے انڈیا گیٹ کے نزدیک مظاہرہ کیا۔ ہفتہ کے روز دہلی کی تیس ہزاری عدالت میں ہوئے ہنگامہ میں دہلی پولیس کے خصوصی کمشنر (قانون اور اتتظام شمالی زون ) سینئر آئی پی ایس سنجے سنگھ اور شمالی ضلع کے پولیس ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر هریندرکمارسنگھ کو ان کےعہدے سے فوری طورپرعمل کرتے ہوئےہٹا دیا گیا ہے۔ ان دونوں افسران کو ہٹانے کا حکم دہلی ہائی کورٹ نے اتوار کے روز دیا تھا اور اس کے ساتھ معاملے کی عدالتی تحقیقات کا حکم بھی دیا ہے۔

منگل صبح سے ہی دہلی پولیس ہیڈ کوارٹرکے باہر سینکڑوں کی تعداد میں جوان جمع ہونے لگے تھے۔ منگل صبح سے ہی دہلی پولیس ہیڈ کوارٹرکے باہر سینکڑوں کی تعداد میں جوان جمع ہونے لگے تھے۔

پولیس اہلکاروں کے 6 مطالبات 

پولیس اہلکاروں کے 6 مطالبات ہیں۔ پہلا معطل پولیس افسرکو بحال کرنا،  دوسرا زخمی پولیس افسرکومعاوضہ، تیسرا وکلاء کے خلاف کارروائی، چوتھا مطالبہ سپریم کورٹ میں ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف اپیل، پانچواں مطالبہ پولیس اہلکاروں کےساتھ مارپیٹ کرنے والے اشخاص کی نشاندہی، چھٹا مطالبہ نچلے افسران کے لئے پولیس ایسوسی ایشن کا مطالبہ ہے۔

احتجاجی پولیس اہلکاروں کے کئی مطالبات تسلیم کئے گئے۔ احتجاجی پولیس اہلکاروں کے کئی مطالبات تسلیم کئے گئے۔

کمشنرکی اپیل بے اثر،احتجاج جاری

اس سے قبل پولیس ہیڈ کوارٹرپرجمع پولیس اہلکاروں کی بڑھتی مخالفت دیکھ کرکمشنرامولیہ پٹنائک خود موقع پرپہنچے اورجوانوں سے بات چیت کی۔ اس دوران انہوں نے پولیس اہلکاروں سے کہا کہ آپ سبھی قانون کے محافظ ہیں اورمیں چاہتا ہوں کہ آپ محافظ کی طرح سلوک کریں۔ انہوں نے کہا کہ لاء اینڈ آرڈر کوبنا ئے رکھیں۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے  اورہم نے اسے ہمیشہ صحیح سے نبھاتے آئے ہیں۔ انہوں نے سبھی جوانوں سے کام پرلوٹنے کی اپیل کی، لیکن اس دوران مسلسل وہاں پرہائے ہائے کے نعرے لگتے رہے اورپولیس اہلکار پوسٹر اورتختیوں کو دکھا کراپنی مخالفت کرتے رہے۔

Loading...