உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Hindu Mahapanchayat: اشتعال انگیز ٹوئٹ کرنے والوں پر دہلی پولیس کا شکنجہ، مکھرجی نگر تھانے میں درج ہوئی ایف آئی آر

    اشتعال انگیز ٹوئٹ کرنے والوں کے خلاف دہلی پولیس نے مکھرجی نگر تھانے میں درج کرائی ایف آئی آر

    اشتعال انگیز ٹوئٹ کرنے والوں کے خلاف دہلی پولیس نے مکھرجی نگر تھانے میں درج کرائی ایف آئی آر

    FIR Against hatred Tweets: دہلی پولیس کی طرف سے جانکاری دی گئی ہے کہ کچھ لوگ ٹوئٹر پر دو فرقوں کے گروپوں کے درمیان نفرت آمیز، اشتعال انگیز بیانات والی اشیا کو پوسٹ کر رہے ہیں۔ اس پر پولیس نے ٹوئٹر ہینڈل کے خلاف مکھرجی نگر تھانے میں ایف آئی آر درج کی ہے۔ دہلی پولیس اس معاملے میں آگے کی جانچ کر رہی ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: براڑی میں کل اتوار کو ’ہندو مہا پنچایت‘ میں دیئے گئے اشتعال انگیز خطاب سے متعلق دہلی پولیس جہاں پہلے ہی یتی نرسنہا نند اور دیگر مقررین کے خلاف ایف آئی آر درج کرچکی ہے۔ وہیں اب ان لوگوں پر شکنجہ کسنے کی تیاری کر رہی ہے، جو کہ سوشل میڈیا ٹوئٹر ہینڈل پر دو فرقوں کے درمیان آپسی بھائی چارہ کو خراب کرنے والی پوسٹ ڈال رہے ہیں۔ اس پر دہلی پولیس کے مکھرجی نگر تھانہ نے آئی پی سی کی دفعہ 505(2) کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے اور معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔

      دہلی پولیس کی طرف سے جانکاری دی گئی ہے کہ کچھ لوگ ٹوئٹر پر دو فرقوں کے گروپوں کے درمیان نفرت آمیز، اشتعال انگیز بیانات والی اشیا کو پوسٹ کر رہے ہیں۔ اس پر پولیس نے ٹوئٹر ہینڈل کے خلاف مکھرجی نگر تھانے میں ایف آئی آر درج کی ہے۔ دہلی پولیس اس معاملے میں آگے کی جانچ کر رہی ہے۔

      واضح رہے کہ براڑی میں ہوئی ’ہندو مہاپنچایت‘ میں یتی نرسنہا نند نے بیان دیا، ’اگر کوئی مسلمان وزیر اعظم بنتا ہے تو 20 سالوں کے اندر 50 فیصد ہندووں کی نقل مکانی ہوجائے گی‘۔ یتی نرسنہا نند سرسوتی ڈاسنا دیوی مندر کے پجاری ہیں۔ اس حادثہ کے بعد دہلی پولیس کا کہنا تھا کہ اس پروگرام کے لئے آرگنائزروں کو اجازت نہیں دی گئی تھی، لیکن پھر بھی مہا پنچایت کی گئی اور 700-800 لوگ پروگرام میں شامل ہوئے۔ پولیس کے مطابق، اس پروگرام سے متعلق تین ایف آئی آر درج ہوئی ہیں۔ دو فرقوں کے گروپوں کے درمیان دشمنی، نفرت اور بغض کو ہوا دینے والے الفاظ کہنے پر پولیس اسٹیشن مکھرجی نگر میں دفعہ 188/153A کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے اور تحقیقات جاری ہے۔

      صحافیوں کے ساتھ بھی ہوئی تھی مارپیٹ

      تھانہ مکھرجی نگر میں ایک نیوز پورٹل کے دو صحافیوں کی شکایت ملی تھی جو ہندو مہا پنچایتسبھا کے آرگنائزروں کی رپورٹ کرنے کے لئے براڑی گراونڈ آئے تھے۔ اپنی شکایت میں انہوں نے الزام لگایا تھا کہ تین اپریل کو دوپہر تقریباً 1.30 بجے جب وہ باہر نکلنے کے لئے جا رہے تھے، تو لوگوں کے ایک گروپ نے ان کے ساتھ مارپیٹ کی اور موبائل فون اور آئی کارڈ چھیننے کی کوشش کی۔ انہوں نے میڈیکل جانچ کرانے سے انکار کردیا۔ اس سے متعلق تھانہ مکھرجی نگر میں دفعہ  354/323/341/379/356/34 آئی پی سی کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: