உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جہانگیر پوری تشدد معاملہ میں دہلی پولیس نے درج کی FIR، اب تک 15 مشتبہ افراد حراست میں، جانئے 10 بڑی اپ ڈیٹس

    جہانگیر پوری تشدد معاملہ میں دہلی پولیس نے درج کی FIR، اب تک 15 مشتبہ افراد حراست میں، جانئے 5 بڑی اپ ڈیٹس (ANI)

    جہانگیر پوری تشدد معاملہ میں دہلی پولیس نے درج کی FIR، اب تک 15 مشتبہ افراد حراست میں، جانئے 5 بڑی اپ ڈیٹس (ANI)

    دہلی پولیس کے پی آر او انییش رائے نے کہا کہ حالات اب قابو میں ہیں، جہانگیر پوری اور دہلی کے دیگر حساس علاقوں میں سیکورٹی فورسز کو تعینات کیا گیا ہے۔ دہلی پولیس نے اس واقعہ کے سلسلے میں اب تک 15 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: شمال مغربی دہلی کے جہانگیر پوری علاقہ میں 16 اپریل کی شام ہنومان جینتی کے موقع پر نکالے جانے والے جلوس پر پتھراؤ کے بعد تشدد پھوٹ پڑا۔ دونوں طرف سے پتھراؤ شروع ہوگیا اور شرپسندوں نے کچھ گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ اس واقعہ میں کچھ پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔ دہلی پولیس کے پی آر او انییش رائے نے کہا کہ حالات اب قابو میں ہیں، جہانگیر پوری اور دہلی کے دیگر حساس علاقوں میں سیکورٹی فورسز کو تعینات کیا گیا ہے۔ دہلی پولیس نے اس واقعہ کے سلسلے میں اب تک 15 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے دہلی پولیس کمشنر راکیش استھانہ سے بات کی اور حالات کو قابو میں لانے کی ہدایات دیں۔ جانئے جہانگیر پوری واقعہ سے متعلق پانچ بڑی اپ ڈیٹس …

      1- جہانگیرپوری تشدد پر دہلی پولیس کمشنر راکیش استھانہ نے کہا ہے کہ امن و امان کو بگاڑنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ تشدد کرنے والے شرپسندوں کو بخشا نہیں جائے گا۔

      2- پولیس کمشنر نے کہا کہ جہانگیر پوری سمیت دہلی کے دیگر حساس علاقوں میں اضافی سیکورٹی فورسز کو تعینات کیا گیا ہے۔ سینئر افسران کو الرٹ رہنے اور صورتحال پر نظر رکھنے کیلئے کہا گیا ہے۔ جہانگیرپوری میں صورتحال اب قابو میں ہے۔ تشدد کی تحقیقات کیلئے 10 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔

       

      یہ بھی پڑھئے : 'اتنے پیسوں میں تو سری لنکا خرید لو'، ایلن مسک کے Twitter کو خریدنے کے آفر پر لوگوں کا مشورہ


      3- دہلی پولیس نے قومی راجدھانی کے جہانگیر پوری علاقے میں تشدد کے سلسلے میں ایف آئی آر درج کی ہے۔ اسپیشل کمشنر آف پولیس، لاء اینڈ آرڈر، نئی دہلی، دیپیندر پاٹھک نے کہا کہ ہم نے واقعہ کی ایف آئی آر درج کر لی ہے اور تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔ صورتحال اب پرامن اور قابو میں ہے۔ اس معاملہ میں اب تک 15 لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے اور ان سے پوچھ گچھ جاری ہے۔

      4- دہلی کے جہانگیر پوری علاقے میں ہنومان جینتی کے جلوس پر پتھراؤ کے بعد بھڑکنے والے تشدد کو لے کر یوپی میں بھی سیکورٹی ایجنسیوں کو چوکنا کردیا گیا ہے۔ مغربی اتر پردیش سمیت ریاست کے دیگر حساس علاقوں میں پولیس تیار ہے اور ضرورت پڑنے پر فلیگ مارچ بھی کر رہی ہے۔ یوپی پولیس کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل لاء اینڈ آرڈر پرشانت کمار نے تمام اضلاع کے پولیس کپتانوں کو چوکس رہنے کی ہدایت دی ہے۔

      5- مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے قومی راجدھانی کے جہانگیر پوری علاقہ میں تشدد کے حوالے سے دہلی پولیس کمشنر اور اسپیشل کمشنر (لا اینڈ آرڈر) سے بات کی ہے اور انہیں ضروری کارروائی کرنے کی ہدایت دی ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ دہلی پولیس نے مرکزی وزیر داخلہ کو بھی تشدد کے بارے میں آگاہ کیا ہے اور تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا ہے۔

      6- نیوز 18 کے نمائندے جاوید منصوری، جو جہانگیر پوری میں واقعہ کی جگہ پر موجود تھے، نے بتایا کہ پولس چوراہے کے بیچ میں کیمپ لگا کر بیٹھی ہے۔ سی آر پی ایف کے جوان بھی یہاں تعینات نظر آتے ہیں۔ سڑک پر پتھر اور شیشے کے ٹکڑے اب بھی بکھرے ہوئے نظر آتے ہیں۔

       

      یہ بھی پڑھئے : کانگریس میں شامل ہوں گے پرشانت کشور؟ دہلی میں Congress ہائی کمان کے ساتھ میٹنگ


      7- مقامی لوگوں نے بتایا کہ اب صورتحال قابو میں ہے۔ چاروں طرف پولیس ہے۔ ریلی نکل رہی تھی کہ کچھ شرپسند آئے اور پتھراؤ شروع کر دیا۔ بھگدڑ مچ گئی، جو لوگ یہاں تھے وہ چھپ گئے۔ ریلی نکالنے والے بھی بھاگ گئے۔ جلوس جاری تھا کہ اچانک ہنگامہ ہوگیا۔ اینٹیں برسنے لگیں۔

      8- اس واقعہ کے بارے میں دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا کہ جہانگیر پوری میں ہنومان جینتی کے جلوس میں پتھراؤ کا واقعہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ تمام لوگوں سے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر امن برقرار رکھنے کی اپیل ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ امن کے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ ایجنسیاں اور دہلی پولیس مرکزی حکومت کی ذمہ داری ہے، اس لیے مرکزی حکومت کو دہلی میں امن و امان برقرار رکھنا چاہئے۔

      9- وہیں بی جے پی نے ہفتہ کی شام جہانگیر پوری میں ہوئے تشدد کو سازش قرار دیا ہے۔ بی جے پی دہلی کے ریاستی صدر آدیش گپتا اور پارٹی کے رکن پارلیمنٹ منوج تیواری نے کہا کہ ہنومان جینتی کے موقع پر نکالے جانے والے جلوس پر حملہ کوئی اچانک واقعہ نہیں تھا بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش تھی۔

      10- بی جے پی لیڈروں نے کہا ہے کہ تشدد کے معاملہ میں باہر سے دراندازی کرنے والوں کا کیا رول ہے، اس کی جانچ ہونی چاہئے۔ آدیش گپتا نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ دہلی میں غیر قانونی طور پر رہنے والے روہنگیا اور بنگلہ دیشیوں کی آباد کاری کے لئے پانی اور بجلی کے کنکشن کیسے دئے گئے؟
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: