ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

Toolkit Case: ٹوئٹر کے دفاتر پر دہلی پولیس کی چھاپہ ماری ، لی گئی تلاشی ، نوٹس بھی کیاگیاجاری

اس سے پہلے دن دہلی پولیس کے اسپیشل سیل کے ذرائع سے یہ اطلاع ملی تھی کہ اس معاملے کی تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔ تاہم ، ایف آئی آر درج نہیں کی گئی تھی۔ہم آپ کو بتادیں کہ بی جے پی کے بہت سے رہنماؤں نے کورونا ٹول کٹ کیس سے متعلق مائیکروبلاگنگ سائٹ پر پوسٹیں شیئر کیں

  • Share this:
Toolkit Case: ٹوئٹر کے دفاتر پر دہلی پولیس کی چھاپہ  ماری ، لی گئی تلاشی ، نوٹس بھی کیاگیاجاری
دہلی پولیس کی خصوصی ٹیم نے گروگرام اور ہریانہ کے لڈو سرائے علاقے ہریانہ میں واقع ٹویٹر آفس کی تلاشی لی۔

کورونا سے متعلق مبینہ ٹول کٹ کیس میں پولیس کی تفتیش تیز ہوگئی ہے۔ اس معاملے پر مائیکروبلاگنگ سائٹ ٹویٹر کو نوٹس بھیجنے کے بعد ، دہلی پولیس کی خصوصی ٹیم اب اپنے دفتر پہنچی ہے ۔ آج شام دہلی پولیس کی ایک ٹیم دہلی اور ہریانہ میں ٹویٹر آفس پہنچی۔ دہلی پولیس کی خصوصی ٹیم نے گروگرام اور ہریانہ کے لڈو سرائے علاقے ہریانہ میں واقع ٹویٹر آفس کی تلاشی لی۔ خصوصی ٹیم نے ٹول کٹ کیس سے متعلق ٹویٹر پر شیئر کردہ پوسٹس کے تحت مینپولیٹڈ میڈیا کو لکھنے کے لئے یہ کارروائی کی۔ اس معاملے پر ، خصوصی سیل نے ٹویٹر کو نوٹس بھجوایا اور جواب طلب کیاہے۔



اس سے پہلے دن دہلی پولیس کے اسپیشل سیل کے ذرائع سے یہ اطلاع ملی تھی کہ اس معاملے کی تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔ تاہم ، ایف آئی آر درج نہیں کی گئی تھی۔ہم آپ کو بتادیں کہ بی جے پی کے بہت سے رہنماؤں نے کورونا ٹول کٹ کیس سے متعلق مائیکروبلاگنگ سائٹ پر پوسٹیں شیئر کیں۔ بہت ساری پوسٹوں میں کانگریس پارٹی کے خلاف ٹول کٹ کے بارے میں الزامات عائد کیے گئے تھے ، جن کے خلاف کانگریس نے پولیس کو شکایت بھی دی تھی۔ اس کے بعد ، ٹویٹر نے ایسی ہی پوسٹس کے تحت 'مینپولیٹڈ میڈیا ' کا ٹیگ لگا دیا تھا ۔جس پر بی جے پی قائدین کے ساتھ ساتھ مرکزی حکومت نے بھی اعتراض جتایا تھا۔


مرکزی حکومت نے اس معاملے کے متعلق کہا تھا کہ ٹویٹر کے اس کارروائی سے اس مائکروبلاگنگ سائٹ کے ہنڈلس ،ان کے کردار اور غیر جانبداری کے بارے میں سوالات اٹھتے ہیں۔ مرکزی حکومت نے ٹول کٹ کو ملک میں کورونا روکنے کے لئے کی جانے والی کوششوں کو لیکر حکومت کوبدنام کرنے کی سازش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب اس معاملے کی تحقیقات کی جارہی ہیں تو ، ٹویٹر پوسٹوں کے تحت رکھے گئے مینپولیٹڈ میڈیا کا ٹیگ ختم کیا جانا چاہئے۔ حکومت نے ٹویٹر کو تلخی سے کہا تھا کہ ٹویٹر اس کا فیصلہ نہیں کرے گا ، لیکن تفتیشی ایجنسیوں کی رپورٹ سے پتہ چل سکے گا کہ آیا یہ مواد صحیح ہے یا غلط۔ جبکہ معاملے کی تحقیقات کی جارہی ہیں ، ٹویٹر اپنا فیصلہ نہیں دیتا ہے۔
Published by: Mirzaghani Baig
First published: May 24, 2021 09:34 PM IST