ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ترنگے کی توہین نہیں سہے گا ہندوستان، سنگھو بارڈر سے لے کر شاہجہاں پور تک کسانوں کے خلاف نعرے بازی

Delhi Tractor Parade Violence: سنگھو سرحد پر پہنچے نریلا علاقے کے آس پاس کے مقامی لوگوں نے کہا کہ ہندوستان اب تک ترنگے کی توہین نہیں برداشت کرے گی۔ ساتھ ہی کسانوں کے خلاف جم کر نعرے بازی کر رہے ہیں۔

  • Share this:
ترنگے کی توہین نہیں سہے گا ہندوستان، سنگھو بارڈر سے لے کر شاہجہاں پور تک کسانوں کے خلاف نعرے بازی
ترنگے کی توہین نہیں سہے گا ہندوستان، سنگھو بارڈر سے لے کر شاہجہاں پور تک کسانوں کے خلاف نعرے بازی

نئی دہلی: گزشتہ 26 جنوری کو راجدھانی میں کسانوں کی ٹریکٹر پریڈ کے دوران ہوئے تشدد کے خلاف لوگوں میں ناراضگی ہے۔ غصے کا عالم یہ ہے کہ آندولن کی جگہ پر لوگوں کا پہنچنا شروع ہوگیا ہے۔ لوگ آندولن ختم کئے جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ جمعرات کو مقامی لوگوں نے سنگھو بارڈر (Singhu Border) پر پہنچ کر جم کر ہنگامہ کیا۔ ناراض لوگوں کا کہنا تھا کہ کسانوں نے ترنگے (Tricolor) کی توہین کی ہے۔ خاص بات ہے کہ تشدد کے بعد مرکزی حکومت اور پولیس انتظامیہ بھی حرکت میں آگئے ہیں۔


سنگھو سرحد پر پہنچے نریلا علاقے کے آس پاس کے مقامی لوگوں نے کہا کہ ہندوستان اب ترنگے کی توہین نہیں برداشت کرے گا۔ ساتھ ہی وہ کسانوں کے خلاف جم کر نعرے بازی کر رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ سرحدوں پر سے کسانوں کے آندولن کو ختم کیا جائے۔ تقریباً دو ماہ سے زیادہ وقت سے کسان دہلی کی الگ الگ سرحدوں پر مرکزی حکومت کے نئے زرعی قوانین (New Farm Laws) کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔


راجدھانی دہلی کے سنگھو بارڈر کے علاوہ راجستھان کے شاہجہاں پور میں بھی کسانوں کے خلاف نعرے بازی شروع ہوچکی ہے۔ یہاں 15 گاوں کی مہاپنچایتیں چل رہی ہیں۔ یہ لوگ شاہجہاں پور میں کسانوں کے احتجاج کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ہائی وے خالی کرانے کے لئے احتجاج کر رہے ہیں۔ اس دوران لوگوں نے کسانوں سے کہا کہ ترنگے کی توہین نہیں برداشت کریں گے۔


راکیش ٹکیٹ کو ملی وارننگ

تشدد کے بعد مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ (Amit Shah)  نے دہلی پولیس کو ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے احکامات دیئے تھے۔ جمعرات کو دہلی پولیس نے بھارتیہ کسان یونین کے ترجمان راکیش ٹکیٹ کے غازی پور سرحد واقع تنبو کے باہر نوٹس لگا دیا ہے۔ نوٹس کے ذریعہ دہلی پولیس نے تشدد میں شامل لوگوں کے نام مانگے گئے ہیں۔ نیوز ایجنسی اے این آئی کی رپورٹ کے مطابق، نوٹس میں لکھا ہے، ’آپ کو بھی آپ کی تنظیم کے متعلق ایسے پُرتشدد عمل میں شامل لوگوں کے نام بتانے کے احکامات دیئے گئے ہیں’۔ راکیش ٹکیٹ کو دہلی پولیس نے ردعمل ظاہر کرنے کے لئے 3 دنوں کا وقت دیا ہے۔

ساتھ ہی پولیس نے ایف آئی آر میں درج ناموں کے خلاف لُک آوٹ سرکلر جاری کر دیئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، کسان لیڈروں سمیت کئی ملزمین سے پاسپورٹ جمع کرنے کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے۔ وہیں، کسانوں نے ٹکری بارڈر پر حکومت کے خلاف اپنے احتجاج کو جاری رکھا ہے۔ حالانکہ، بجٹ کے دن مجوزہ پارلیمنٹ تک ریلی کو کسانوں نے ملتوی کردیا ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jan 28, 2021 03:00 PM IST