اپنا ضلع منتخب کریں۔

    دہلی فساد سے جڑے کیس میں عمر خالد اور خالد سیفی کو کورٹ نے کیا بری، جانئے پورا معاملہ

     اس پتھراؤ کے دوران خالد سیفی اور عمر خالد کے نام بھی شامل کیے گئے۔ تاہم، عدالت نے پایا کہ ان دونوں کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے جس کی بنیاد پر عدالت نے انہیں اس معاملے میں بری کر دیا۔

    اس پتھراؤ کے دوران خالد سیفی اور عمر خالد کے نام بھی شامل کیے گئے۔ تاہم، عدالت نے پایا کہ ان دونوں کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے جس کی بنیاد پر عدالت نے انہیں اس معاملے میں بری کر دیا۔

    اس پتھراؤ کے دوران خالد سیفی اور عمر خالد کے نام بھی شامل کیے گئے۔ تاہم، عدالت نے پایا کہ ان دونوں کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے جس کی بنیاد پر عدالت نے انہیں اس معاملے میں بری کر دیا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi, India
    • Share this:
      نئی دہلی: دہلی کی ککڑڈوما عدالت نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے سابق طلباء لیڈر عمر خالد اور خالد سیفی کو دہلی فسادات کے ایک معاملے میں بری کر دیا ہے۔ ان دونوں کو  فروری 2020 میں راجدھانی دہلی کے چاند باغ علاقے میں پتھراؤ کے معاملے میں ضمانت ملی تھی لیکن دوسرے معاملے میں وہ جیل میں ہیں۔

      دراصل ان دونوں کے خلاف دہلی فسادات کے سلسلے میں ایک پولیس کانسٹیبل کے بیان کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ 24 فروری 2020 کو چاند باغ پلیا کے قریب جمع ایک بڑی بھیڑ نے پتھراؤ کیا تھا۔ اس پتھراؤ کے دوران خالد سیفی اور عمر خالد کے نام بھی شامل کیے گئے۔ تاہم، عدالت نے پایا کہ ان دونوں کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے جس کی بنیاد پر عدالت نے انہیں اس معاملے میں بری کر دیا۔

      حالانکہ اس معاملے میں عدالت کی طرف سے بری ہونے کے باوجود دونوں ملزمین فی الحال یو اے پی اے سے متعلق کیس میں عدالتی حراست میں ہیں۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: