ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

دہلی فسادات متاثرین کی پیروی کیلئے بنایا گیا تشار مہتا امن لیکھی پینل ہائی کورٹ میں چیلنج

عرضی میں دہلی ہائی کورٹ سے 24 جون کو ایڈوکیٹ پینل کی تقرری سے متعلق جاری کردہ نوٹیفکیشن کو منسوخ کرنے کی درخواست کی گئی ہے ۔ دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ تقرری سی آر پی سی کے تحت مہیا کی گئی اسکیم کی خلاف ورزی ہے ۔

  • Share this:
دہلی فسادات متاثرین کی پیروی کیلئے بنایا گیا تشار مہتا امن لیکھی پینل ہائی کورٹ میں چیلنج
دہلی فسادات متاثرین کی پیروی کیلئے بنایا گیا تشار مہتا امن لیکھی پینل ہائی کورٹ میں چیلنج

دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل کے ذریعہ دہلی فسادات متاثرین کی پیروی کے لئے تقرر کردہ وکلاء پینل کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے ۔ جس سے ایک بار پھر اس معاملہ میں تنازع کی شروعات ہو گئی ہے ۔ دراصل دہلی حکومت کے ذریعے سرکار کی طرف سے پیروی کے لیے بنائے گئے وکیلوں کے پینل کی ایک تنظیم نے فروری میں شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے فسادات سے متعلق معاملات میں سالیسیٹر جنرل تشار مہتا سمیت خصوصی پبلک پراسیکیوٹرز کی تقرری کے دہلی حکومت کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے ۔


عرضی میں دہلی ہائی کورٹ سے 24 جون کو ایڈوکیٹ پینل کی تقرری سے متعلق جاری کردہ نوٹیفکیشن کو منسوخ کرنے کی درخواست کی گئی ہے ۔ دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ تقرری سی آر پی سی کے تحت مہیا کی گئی اسکیم کی خلاف ورزی ہے ۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ شفافیت کے اصولوں کے تحت آزادانہ طور پر استغاثہ کے وکیلوں کی تقرری ہونی چاہئے ۔ وکیل کشور کمار کے ذریعے داخل عرضی میں کہا گیا ہے کہ دستور ہند کے آرٹیکل 21 کے تحت آزادانہ اور شفاف سماعت ہونی چاہیے ۔


دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر نے دہلی پولیس کے ذریعہ سے سفارش کیے گئے پینل کو منظوری دیتے ہوئے گیارہ وکلاء کی تقرری خصوصی پبلک پراسیکیوٹرز کے طور پر کی ہے ۔ وکیل مونیکا گوسوامی اور وکیل آدتیہ کپور کے ذریعہ داخل کی گئی عرضی میں کہا گیا ہے کہ دہلی پولیس کے ذریعہ پینل کی تقرری کو دہلی حکومت نے مسترد کر دیا تھا ۔ دہلی پولیس کے ترمیم شدہ مجوزہ پینل کو بھی دہلی حکومت نے نامنظور کر دیا تھا ۔ دہلی حکومت اپنے طور پر وکیلوں کی تقریری کرنا چاہتی تھی ، لیکن لیفٹیننٹ گورنر کے ذریعہ سے مداخلت کئے جانے اور خصوصی اختیارات کا استعمال کرنے کی بدولت دہلی پولیس کے مجوزہ پینل کو منظوری دے دی گئی تھی ۔


اس صورتحال میں دہلی حکومت اور لیفٹیننٹ گورنر کے بیچ اختلافات کو دیکھتے ہوئے معاملہ صدر جمہوریہ ہند تک گیا اور صدر جمہوریہ ہند رام ناتھ کووند  نے دہلی پولیس کے مجوزہ ناموں کو منظوری دے دی تھی ۔ اس سلسلہ میں 24 جون کو باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا ۔ اس معاملہ پر سماعت ایک ہفتہ کے اندر ہونے کا امکان ہے ۔

غور طلب ہے کہ دہلی پولیس کے پینل میں حکومت ہند کے سالیسٹر جنرل تشار مہتا ، ایڈیشنل سالیسٹر جنرل اور بی جے پی ممبر پارلیمنٹ میناکشی لیکھی کے شوہر امن لیکھی ، اڈیشنل سالیسیٹر جنرل چیتن شرما ، ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو ، وکیل امت مہاجن اور وکیل رجت نایر شامل ہیں ۔ گرچہ دہلی کی اروند کیجریوال حکومت دہلی حکومت کے وکیل پینل راہل مہرہ کے ذریعہ اس معاملے میں پیروی کرانا چاہتی تھی ، سرکار کی طرف سے کابینہ کی میٹنگ کرکے دہلی پولیس کے پینل کو نامنظور کر دیا گیا تھا ۔ تاہم ایل جی کے خصوصی اختیارات استعمال کرنے کی وجہ سے پولیس کے پیش کردہ پینل کی تقرری ہو گئی تھی ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Oct 21, 2020 12:00 AM IST