உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Delhi Riots Second Anniversary: داخلی راستوں پر آہنی دروازو‌ں کے سائے میں تلخ یادوں کے ساتھ امن کے راستے پر زندگی 

    Delhi Riots Second Anniversary : دو سال قبل آج ہی کے دن 24 فروری 2020 کو دہلی کے شمال مشرقی علاقے میں فسادات پھیل گئے تھے ، لیکن یہ علاقہ فسادات کا درد بھول کر واپس پٹری پر آ رہا ہے، دکانیں کھلی ہیں، حالات معمول پر ہیں اور لوگ انصاف کا انتظار کر رہے ہیں۔

    Delhi Riots Second Anniversary : دو سال قبل آج ہی کے دن 24 فروری 2020 کو دہلی کے شمال مشرقی علاقے میں فسادات پھیل گئے تھے ، لیکن یہ علاقہ فسادات کا درد بھول کر واپس پٹری پر آ رہا ہے، دکانیں کھلی ہیں، حالات معمول پر ہیں اور لوگ انصاف کا انتظار کر رہے ہیں۔

    Delhi Riots Second Anniversary : دو سال قبل آج ہی کے دن 24 فروری 2020 کو دہلی کے شمال مشرقی علاقے میں فسادات پھیل گئے تھے ، لیکن یہ علاقہ فسادات کا درد بھول کر واپس پٹری پر آ رہا ہے، دکانیں کھلی ہیں، حالات معمول پر ہیں اور لوگ انصاف کا انتظار کر رہے ہیں۔

    • Share this:
    نئی دہلی : دو سال قبل آج ہی کے دن 24 فروری 2020 کو دہلی کے شمال مشرقی علاقے میں فسادات پھیل گئے تھے ، لیکن یہ علاقہ فسادات کا درد بھول کر واپس پٹری پر آ رہا ہے، دکانیں کھلی ہیں، حالات معمول پر ہیں اور لوگ انصاف کا انتظار کر رہے ہیں۔ دراصل شمال مشرقی دہلی کے علاقے مصطفی آباد میں 24 فروری 2020 سے 27 فروری کے درمیان فساد ہوا تھا ، جس میں پچاس سے زیادہ لوگوں کی جانیں چلی گئی تھیں ۔ مصطفی آباد کا چاند باغ علاقہ بھی دہلی فسادات کی آگ میں جھلس گیا تھا، دوسرے علاقوں کی طرح یہاں بھی دکانیں لوٹی گئی تھیں، گھر جلائے گئے تھے لیکن اب یہ علاقہ تمام تلخ یادیں بھلا کر امن کے راستے پر آگے بڑھ رہا ہے ۔ گھروں اور جلی دکانوں کی نشانات بھی آہستہ آہستہ مٹ رہے ہیں ، لیکن بہت سے لوگ اب بھی جیلوں میں ہیں، مقدمات کا سامنا ہے ۔

    ایسے ہی لوگوں میں شامل اور 13 ماہ جیل میں رہ کر ضمانت پر قید سے باہر آئے ہے حاجی لیاقت علی بتاتے ہیں کہ کس طرح اس وقت کی کڑوی یادیں انہیں پریشان کرتی ہیں۔ وہ بتاتے ہیں آج ہی کا دن تھا اور کسی بھی مسلمان کو اس بات کی خبر نہیں تھی کہ ان کے آس پاس ہزاروں لوگوں کی بھیڑ جمع ہو چکی ہے ۔ بعد میں اسی بھیڑ نے فساد شروع کر دیا ۔ لوگوں کی دکانیں لوٹیں اور گھروں اور دکانوں کو جلا دیا ۔ مسلمانوں کا ہی نقصان ہوا اور پولیس میں بھی مسلمانوں کو ہی ملزم بنایا گیا ، خود مجھے اور میرے بیٹے کو کو پکڑ لیا گیا ، میرے اوپر آگ زنی اور لوٹ کا الزام لگایا گیا ۔ تیرہ مہینوں تک جیل میں رہا اور ضمانت پر باہر آیا ۔ حاجی لیاقت نے کہا کہ جب عدالت میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ کیا کہ فساد اور دنگا صرف مسلمان ہی کر رہے تھے اور خود ہی وہ اپنی دکانیں اور گھر جلا رہے تھے تو اس کے بعد دوسرے لوگوں کو بھی پکڑا گیا ، لیکن اس معاملہ میں انصاف نہیں ہوا ۔



    بیرونی دہلی کے اس علاقے کی ہر گلی کے باہر لوہے کے بھاری دروازے نظر آتے ہیں۔ گزشتہ دو سالوں میں فسادات کے بعد ہندو اور مسلم دونوں برادریوں کی گلیوں اور محلوں کے داخلی دروازوں میں تبدیلی آئی ہے، چاند باغ پلیا کے قریب ستپال سنگھ اور فیضان اشرف کی دکانیں ہیں، دونوں جل کر راکھ ہو گئیں، اشرفی دوا خانہ کے باہر ایک دیوار ابھی تک کالی ہے جو بتاتی ہے کہ کیا ہوا تھا۔ ہندو ہو یا مسلمان، دونوں کا بہت نقصان ہوا ہے۔ ستپال سنگھ کی بیٹی کی شادی اب تک رکی ہے۔ وہ اپنا کاروبار شروع نہیں کر سکے،اس دکان میں کاروبار کرتے تھے اس دکان کو آپ کرائے پر دیا ہے۔ لاکھوں کے نقصان کے بعد چھ لاکھ روپے کا معاوضہ ملا ۔ 5 لاکھ روپے دہلی سرکار سے ملے اور ایک لاکھ روپے رفاہی تنظیم کے ذریعے دئے گئے۔

    وہیں دوسری جانب فیضان اشرف کے لیے نقصان ڈیڑھ کروڑ روپے سے زیادہ کا ہے ۔ فیضان کی دکان ان کی آنکھوں کے سامنے جلتی رہی ، سامنے سڑک پر فائر بریگیڈ کی گاڑی بھی موجود تھی ، لیکن اس نے آگ نہیں بجھائی ۔ فیضان اشرف بتاتے ہیں کہ بڑی کوشش اور بھاگ دوڑ کے بعد پانچ لاکھ روپے کا معاوضہ تو ملا ، لیکن نقصان کے مقابلے تو یہ کچھ بھی نہیں ہے۔

    فیضان اشرف دہلی فسادات کے اثر اور علاقہ کے ماحول کے بارے میں بتاتے ہیں کہ بہت سے لوگوں نے اپنا علاقہ بدل لیا، بہت سے لوگ اپنے لوگوں کے پاس واپس آ گئے، دو سال گزر گئے ، حالات بہتر ہوئے ہیں ، ماحول میں امن ہے ، لیکن پہلے جیسی بات نہیں رہی۔ تمام نقصان کے بعد اب سب لوگ ساتھ میں رہ رہے ہیں ۔ لیکن جن فسادیوں نے دکانیں جلائیں ، گھروں کو جلایا ، ان کو کب سزا ملے گی ، وہ پکڑے جائیں گے ، اس بات کا انتظار تمام فساد متاثرین کررہے ہیں ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: