ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

دہلی فساد : مہینوں سے جیل میں بند ظریف عرف موٹا کو آٹھوں مقدمات میں ملی ضمانت

ایڈوکیٹ محمد نوراللہ نے بتایا کہ عدالت میں استدلال کیا کہ ملزم کو ’ڈسکلوزر‘ کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا تھا ۔ جن لوگوں نے اس کا نام پولیس کے سامنے ظاہر کیا تھا ، وہ آج کی تاریخ میں ضمانت پر ہیں ، تو پھر اس ملزم کو کس بنیاد پر جیل میں رکھا جارہا ہے ۔

  • Share this:
دہلی فساد : مہینوں سے جیل میں بند ظریف عرف موٹا کو آٹھوں مقدمات میں ملی ضمانت
دہلی فساد : مہینوں سے جیل میں بند ظریف عرف موٹا کو آٹھوں مقدمات میں ملی ضمانت

دہلی فسادات سے وابستہ معاملات کی سماعت کر رہی کڑکڑڈوما عدالت نے ڈسکلوزر کی بنیاد پر کئی مہینوں سے جیل میں بند ظریف عرف موٹا  کو ضمانت دے دی۔ ظریف کو جن ملزمان کے بیان کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا تھا ، ان تمام ملزموں کو ضمانت پہلے ہی ضمانت مل گئی تھی ۔ اسی بنیاد پر ملزم کو ضمانت دی گئی۔


تفصیلات کے مطابق کرکر ڈوما کورٹ میں امیتابھ راوت کی عدالت نے ظریف عرف موٹا کو دس ماہ بعد سبھی آٹھوں مقدمات میں ضمانت کا فیصلہ سنایا ۔ اس طرح طویل عرصے کے بعد وہ اپنے گھروالوں سے مل سکے گا ۔ اس مقدمہ میں ایڈوکیٹ آن ریکاڈر عبدالغفاراور ایڈوکیٹ محمد نوراللہ موجود تھے ۔ جب کہ پبلک پراسیکیوٹر شری اتم دت نے ملزم کی ضمانت کی مخالفت کی ۔ طرفین سے بحث ومباحثہ کے بعد عدالت  نے سیکشن 439 کے تحت ملزم کو کچھ شرائط کے ساتھ گھر جانے کی اجازت دی ہے۔


عدالتی کارروائی کے سلسلے میں ایڈوکیٹ محمد نوراللہ نے بتایا کہ عدالت میں استدلال کیا کہ ملزم کو ’ڈسکلوزر‘ کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا تھا ۔ جن لوگوں نے اس کا نام پولیس کے سامنے ظاہر کیا تھا ، وہ آج کی تاریخ میں ضمانت پر ہیں ، تو پھر اس ملزم کو کس بنیاد پر جیل میں رکھا جارہا ہے ۔ موکل ظریف اس مقدمہ میں بے قصور ہے ۔ کوئی ایسا پختہ ثبوت نہیں ہے جو پولیس کی شناخت کی تائید کرے ۔ دہلی پولس کے آن ڈیوٹی سپاہیوں کی شناخت ناقابل اعتبار ہے اور اس بنیاد پر کسی کو مجرم نہیں ٹھہرا یا جاسکتا ۔


دہلی فساد سے متعلق قانونی معاملات کے نگراں ایڈوکیٹ نیاز احمد فاروقی نے بتایا کہ اب تک گرچہ 188 لوگوں کو جمعیت علما ہند کی جد وجہد کی وجہ سے ضمانت مل چکی ہے اور دوسرے بہت سارے افراد کسی اور فورم سے ضمانت پا چکے ہوں گے۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Feb 11, 2021 02:52 PM IST