உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Delhi Violence: تشدد بھڑکانے کی ملزم اور کانگریس کی سابق کونسلر عشرت جہاں کو ملی ضمانت

    دہلی تشدد کے بعد سازش کرنے کے الزام میں کانگریس کی سابق کونسلر عشرت جہاں کو ملزم بنایا گیا تھا۔ معاملے میں عشرت جہاں کو ایک بار پہلے بھی 2022 میں ہی دس دن کی ضمانت دی جاچکی ہے۔ یہ ضمانت انہیں شادی کرنے کے لئے دی گئی تھی۔

    دہلی تشدد کے بعد سازش کرنے کے الزام میں کانگریس کی سابق کونسلر عشرت جہاں کو ملزم بنایا گیا تھا۔ معاملے میں عشرت جہاں کو ایک بار پہلے بھی 2022 میں ہی دس دن کی ضمانت دی جاچکی ہے۔ یہ ضمانت انہیں شادی کرنے کے لئے دی گئی تھی۔

    دہلی تشدد کے بعد سازش کرنے کے الزام میں کانگریس کی سابق کونسلر عشرت جہاں کو ملزم بنایا گیا تھا۔ معاملے میں عشرت جہاں کو ایک بار پہلے بھی 2022 میں ہی دس دن کی ضمانت دی جاچکی ہے۔ یہ ضمانت انہیں شادی کرنے کے لئے دی گئی تھی۔

    • Share this:
      نئی دہلی: فروری 2020 میں دہلی میں ہوئے فسادات معاملے میں عدالت نے کانگریس کی سابق کونسلر عشرت جہاں کو ضمانت دے دی ہے۔ عشرت جہاں پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے دہلی میں تشدد کے دوران سازش کی تھی۔ اس الزام میں عشرت جہاں سمیت کئی دیگر کے خلاف غیر قانونی سرگرمیاں روک تھام ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت معاملہ درج کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے عشرت جہاں کو جون 2020 میں شادی کرنے کے لئے دس دنوں کی عبوری ضمانت دی گئی تھی۔ واضح رہے کہ ان فسادات میں 53 افراد کی موت ہوگئی تھی اور 700 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے تھے۔

      عمر خالد کی ضمانت پر نہیں آیا فیصلہ

      وہیں تشدد کی سازش کرنے کے الزام میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طالب علم عمر خالد کی ضمانت عرضی پر اب فیصلہ 21 مارچ کو آئے گا۔ دہلی کے کڑکڑ ڈوما عدالت نے پیر کے روز اپنا فیصلہ ایک ہفتے کے لئے ملتوی کردیا ہے۔ جانکاری کے مطابق، تین مارچ کو ہی عدالت نے عمر خالد کی ضمانت سے متعلق اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      یوپی اسمبلی انتخابات میں BJP کے لئے'وردان' بنی AIMIM، کئی سیٹوں پر سماجوادی کی سائیکل کو پنکچر کرکے کھلادیا کمل

      قابل ذکر ہے کہ عدالت میں عمر خالد کے وکیل نے کہا تھا کہ استغاثہ فریق کے پاس ان کے خلاف کیس ثابت کرنے کے لئے ثبوتوں کی کمی ہے۔ ایسے میں انہیں ضمانت دی جائے۔ عمر خالد کے وکیل تردیپ پیس نے کہا تھا کہ استغاثہ کے پاس معاملے سے متعلق عمر خالد کے خلاف کوئی ثبوت ایسے نہیں ہیں، جن پر انہیں سزا دی جاسکے۔

      پولیس نے لگایا تھا سنگین الزام

      اس سے قبل دہلی پولیس عمر خاند اور چھ دیگر کی ضمانت عرضی کی مخالفت کی تھی۔ ساتھ ہی الزام لگایا تھا کہ انہوں نے قومی دارالحکومت میں 2020 کے فسادات کے دوران تشدد بھڑکانے اور پولیس افسران پر حملے کرنے کی سازش کی تھی۔ استغاثہ فریق نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ معاملے کے اہم سازش کرنے والوں نے بھیم آرمی اور بی جے پی کے لیڈر کپل مشرا کو قصور وار ٹھہرانے کی کوشش کی۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: