உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دہلی تشدد کی جانچ کی ہوگی 'جانچ'، کورٹ کو شک : کیا جان بوجھ کر مجرموں کو بچایا گیا؟

    دہلی تشدد کی جانچ کی ہوگی 'جانچ'، کورٹ کو شک : کیا جان بوجھ کر مجرموں کو بچایا گیا؟

    دہلی تشدد کی جانچ کی ہوگی 'جانچ'، کورٹ کو شک : کیا جان بوجھ کر مجرموں کو بچایا گیا؟

    Delhi Violence : دہلی کی عدالت نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ وہ اس بات کی جانچ کرے کہ کیا جان بوجھ کر پانچ مجرموں کو بچانے کی کوشش کی گئی ، جنہیں فروری 2020 کے فسادات کے معاملہ میں عدالت نے ثبوتوں کے فقدان میں الزامات سے بری کردیا تھا ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : دہلی کی عدالت نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ وہ اس بات کی جانچ کرے کہ کیا جان بوجھ کر پانچ مجرموں کو بچانے کی کوشش کی گئی ، جنہیں فروری 2020 کے فسادات کے معاملہ میں عدالت نے ثبوتوں کے فقدان میں الزامات سے بری کردیا تھا ۔ ایڈیشنل سیشن جج ویریندر بھٹ نے پانچ ملزمین کو الزامات سے بری کردیا تھا ۔ اس معاملہ میں فیروز خان نے شکایت درج کرائی تھی کہ یہ پانچ ملزمین دوا کی دکان اور گھر لوٹنے والی دنگائیوں کی بھیڑ کا حصہ تھے ۔ خان نے شکایت کی تھی کہ 25 فروری 2020 کو پیش آئے واقعہ میں شرپسند عناصر تقریبا 22 سے 23 لاکھ روپے قیمت کی دوا اور میک اپ کی چیزیں لوٹ کر اپنے ساتھ لے گئے تھے ۔

      جج نے کہا کہ ملزمین کو اس لئے الزامات سے بری نہیں کیا گیا کہ واقعہ پیش آیا ہی نہی تھا یا انہیں غلط طریقہ سے پھنسایا گیا بلکہ انہیں صرف اس لئے چھوڑا گیا کیونکہ ان کے خلاف وافر ثبوت پیش نہیں کئے جاسکے ۔ انہوں نے حکم دیا کہ شمال مشرقی دہلی کے ڈپٹی پولیس کمشنر جانچ افسر کے ذریعہ معاملہ میں کی گئی تفتیش کے طور طریقوں کی جانچ کریں تاکہ پتہ لگایا جاسکے کہ کہیں مجرموں کو جان بوجھ کر تو نہیں بچایا گیا اور اس معاملہ میں اگلی سماعت کے دن اس عدالت میں اپنی رپورٹ پیش کریں ۔

      سیشن جج نے مزید کہا کہ کیا فیروز خان معاملہ میں صرف واحد ایک چشم دید ہے ، جنہوں نے دعوی کیا کہ پولیس کے ذریعہ دکھائی گئی تصویر میں سے انہوں نے مجرموں کی شناخت کی ہے ۔ جسٹس بھٹ نے 22 نومبر کو دئے حکم میں کہا کہ الزامات طے کرنے کیلئے ملزم کے خلاف وافر اور قانونی طریقے سے قابل قبول ثبوت ہونے چاہئے ، جس کی اس معاملہ میں کمی ہے ۔

      بتادیں کہ سال 2020 میں فروری مہینے میں دہلی میں تشدد بھڑک اٹھا تھا، جس میں 50 سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے ۔ وہیں کئی لوگ زخمی ہوئے تھے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: