ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

Delhi Violence: کردم پوری تشدد میں فیضان کی موت کو لے کر مشکل میں دہلی پولیس ، ہائی کورٹ نے دیا یہ حکم 

فیضان کی والدہ کی جانب سے داخل عرضی پر ہائی کورٹ کی جانب سے دہلی پولیس کو نوٹس جاری گیا ہے جبکہ دہلی کرائم برانچ کو بھی اس معاملہ میں تحقیقات کو لے کر اسٹیٹس رپورٹ داخل کرنے کے لئے کہا گیا ہے ۔

  • Share this:
Delhi Violence: کردم پوری تشدد میں فیضان کی موت کو لے کر مشکل میں دہلی پولیس ، ہائی کورٹ نے دیا یہ حکم 
فائل فوٹو

شمال مشرقی دہلی میں گزشتہ دنوں ہوئے فساد کے دوران 5 مسلم نوجوانوں کی پٹائی اور زبردستی قومی ترانہ گانے پر مجبور کیے جانے کی تصویریں سامنے آئیں تھیں ، اب اس معاملے میں دہلی پولیس کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ کیونکہ پورے واقعہ میں فیضان نامی نوجوان کی موت ہوگئی تھی ، اس کی والدہ کی جانب سے داخل عرضی پر ہائی کورٹ کی جانب سے دہلی پولیس کو نوٹس جاری گیا ہے جبکہ دہلی کرائم برانچ کو بھی اس معاملہ میں تحقیقات کو لے کر اسٹیٹس رپورٹ داخل کرنے کے لئے کہا گیا ہے ۔


کرائم برانچ کو اپنی رپورٹ میں عدالت کو یہ بتانا ہے کہ اس معاملہ میں ہورہی تحقیقات آخر کہاں تک پہنچی ہیں ۔ اس معاملہ میں اب یکم فروری کو سماعت ہونا ہے ۔ غورطلب ہے کہ شمال مشرقی دہلی کے کردم پوری علاقہ میں پولیس کے ذریعہ پانچ نوجوانوں کی پر پٹائی اور زبردستی قومی ترانہ ، وندے ماترم پڑھوانے کا ویڈیو وائرل ہوا تھا ، ان نوجوانوں میں سے ایک نوجوان فیضان کی موت بعد میں اسپتال میں علاج کے دوران ہوگئی تھی ۔ لیکن اب تک اس معاملہ میں کسی طرح کی کوئی قانونی چارہ جوئی یا کیس درج نہیں ہوا ہے


فیضان کے اہل خانہ کا الزام تھا کہ 24 فروری کو پولیس نے نوجوانوں کی پٹائی کی اور پھر ان کو تھانے لے گئی جہاں ان کی ہلکی پھلکی مرہم پٹی کی گئی لیکن ان کا ٹھیک سے خیال نہیں رکھا گیا ۔ فیضان کی والدہ نے نیوز 18کو بتایا تھا کہ وہ چوبیس تاریخ کو ہی تھانے پہنچ گئی تھی اور پولیس سے لگاتار درخواست کرتی رہی کہ ان کے بیٹے کو ان کے حوالہ کردے ۔ لیکن بچیس تاریخ میں رات ایک بجے ان کے بیٹے کو ان کے حوالے کیا گیا ۔ 26 تاریخ کی صبح وہ اس کو اروند اسپتال لے کر گئیں ، جہاں پر رات 11 بجے فیضان نے دم توڑ دیا ۔ حالانکہ اس معاملہ میں موج پور تھانہ میں کیس درج کیا گیا تھا ، لیکن اب تک کسی بھی سیکورٹی اہلکار کی نہ تو شناخت ہوئی اور نہ ہی کسی کی گرفتاری ہوئی ۔


دہلی حکومت کے افسران نے ظاہر کی لاعلمی

اس پورے میں معاملہ میں جب دہلی اسمبلی کی اقلیتی فلاحی کمیٹی نے دہلی کے افسران سے 22 ستمبر کو ہونے والی میٹنگ کے دوران یہ وائرل ویڈیو چلاکر استفسار کیا تھا تو اس وقت دہلی کے سکریٹری ہوم اور دیگر افسران نے اس واقعہ سے لاعلمی کا اظہار کیا تھا ، جس کی وجہ سے کیجریوال حکومت کی سخت فضیحت بھی ہوئی تھی ۔

فیضان کے اہل خانہ کو دیا گیا دس لاکھ کا معاوضہ

دہلی حکومت کی فسادات متاثرین کیلئے لائی گئی پالیسی میں موت پر دس لاکھ روپے کی امداد و معاوضہ دیے جانے کا التزام ہے اور اس معاملہ میں دس لاکھ کا معاوضہ دیا گیا ۔ معاوضہ کی رقم ڈی ایم کے ذریعہ دی جاتی ہے ۔ مزید یہ کہ اس معاملہ میں جو دیگر نوجوان زخمی ہوئے اوران کا کافی عرصہ تک علاج ہوا ، ان کو بھی ہزاروں روپے معاوضہ کے طورپر دیے گئے ہیں ۔ لیکن افسران پورے معاملہ سے لاعلمی کا اظہار کرتے کرتے ہیں ، جو بڑا ہی تعجب خیز ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Dec 24, 2020 11:54 PM IST