ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

دہلی تشدّد پر سخت رخ لینے والے دہلی ہائی کورٹ کے جج کا تبادلہ، حکومت سے ملی منظوری

راجدھانی دہلی میں گزشتہ دنوں ہوئے تشدد پر بدھ کو سماعت کرنے والے دہلی ہائی کورٹ (Delhi Highcourt) کے جج جسٹس ایس مرلی دھر (Justice S. Murlidhar ) کا پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ میں ٹرانسفرکردیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے کالجیم نے 12 فروری کو ہوئی میٹنگ میں مرلی دھر کے تبادلے کا فیصلہ کیا گیاتھا۔

  • Share this:

نئی دہلی: راجدھانی دہلی میں گزشتہ دنوں ہوئے تشدد پر بدھ کو سماعت کرنے والے دہلی ہائی کورٹ (Delhi Highcourt) کے جج جسٹس ایس مرلی دھر (Justice S. Murlidhar ) کا پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ میں ٹرانسفرکردیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے کالجیم نے 12 فروری کو ہوئی میٹنگ میں  مرلی دھر کے تبادلے کا فیصلہ کیا گیاتھا۔

وزارت قانون و انصاف کی جانب سے بدھ کو دیر رات اس بابت نوٹیفکیشن جاری کی گئی۔ نوٹیفکیشن کے مطابق، صدر رام ناتھ كووند نے آئین کے آرٹیکل 222 کے تحت دیئے گئے حقوق کا استعمال کرتے ہوئے ہندوستان کے چیف جسٹس شرد اروند بوبڈے کے مشورہ پر جسٹس مرلي دھر کے تبادلہ کی منظوری دی ہے۔

سپریم کورٹ كلیجيم نے جسٹس مرلي دھر سمیت تین ججوں کے تبادلہ کی سفارش 12 فروری کو حکومت کو بھیجی تھی۔

خیال رہے جسٹس مرلی دھر وہی جج ہیں جنہوں نے دہلی تشدد پر کل ہونے والی سماعت کے دوران اشتعال انگیز تقریر کرنے والے لیڈروں کے خلاف ایف آئی آر درج نہ کئے جانے کو لے کر مرکزی حکومت اور پولیس کو آڑے ہاتھوں لیا تھا۔


دہلی ہائی کورٹ کے جج مُرلی دھر کا تبادلہ گزشتہ رات پنجاب ۔ہریانہ ہائیکورٹ کردیا گیا۔جسٹس مُرلی دھر کے تبادلہ کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق کچھ دِنوں قبل سُپریم کورٹ کی کالیجیئم نے جسٹس مُرلی دھر کے تبادلے پر فیصلہ لیا تھا۔خیال رہے کہ دہلی تشدد معاملے میں زخمیوں کے علاج کے معاملے اور ایمبولینس کو محفوظ راستہ دیئے جانے کے سلسلے میں جسٹس مُرلی دھر نے آدھی رات کو سماعت کی تھی۔اشتعال انگیز تقریر کے معاملے میں سماعت کے دوران بھی جسٹس مُرلی دھر نے دہلی پولیس کی سرزنش کی تھی اوراشتعال انگیز بیان دینے کے سلسلے میں بی جے پی کے تین لیڈروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت دی تھی۔
First published: Feb 27, 2020 08:34 AM IST