ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

دہلی وقف بورڈملازمین اسٹرائک معاملہ: بورڈممبران کی یقین دہانی کے بعد ایک ہفتہ کے لئے اسٹرائک مؤخر

دہلی وقف بورڈ ملازمین کے اسٹرائک پر جانے کے پختہ ارادہ کو دیکھتے ہوئے وقف بورڈ ممبران کے ایک دو رکنی وفد نے آج بورڈ دفتر میں ملازمین سے ملاقات کی اور ان کے مطالبات کے سلسلہ میں تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ ممبران کے سامنے ملازمین نے اپنا درد بیان کرتے ہوئے کہا کہ 9 ماہ بہت ہوتے ہیں اور اتنے دنوں سے ہمیں تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کی گئی ہے۔

  • Share this:
دہلی وقف بورڈملازمین اسٹرائک معاملہ: بورڈممبران کی یقین دہانی کے بعد ایک ہفتہ کے لئے اسٹرائک مؤخر
دہلی وقف بورڈملازمین اسٹرائک معاملہ: بورڈممبران کی یقین دہانی کے بعد ایک ہفتہ کے لئے اسٹرائک مؤخر

نئی دہلی: دہلی وقف بورڈ ملازمین کی کئی ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کا معاملہ گرماتا جا رہا ہے۔ بورڈ ملازمین میں مستقل عملہ کو گزشتہ 5 ماہ سے جبکہ غیر مستقل عملہ کو گزشتہ 9 ماہ سے تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کی گئی ہے، جس سے پریشان ہوکر ملازمین نے 28 اکتوبر سے اسٹرائک پرجانے کا فیصلہ کرلیا تھا، جسے اب 4 نومبر تک مؤخرکردیا گیا ہے۔ تفصیل کے مطابق دہلی وقف بورڈ ملازمین کے اسٹرائک پر جانے کے پختہ ارادہ کو دیکھتے ہوئے وقف بورڈ ممبران کے ایک دو رکنی وفد نے آج بورڈ دفتر میں ملازمین سے ملاقات کی اور ان کے مطالبات کے سلسلہ میں تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔


بورڈ ممبران کے سامنے ملازمین نے اپنا درد بیان کرتے ہوئے کہا کہ 9 ماہ بہت ہوتے ہیں اور اتنے دنوں سے ہمیں تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کی گئی ہے، جس کی وجہ سے روزانہ ڈیوٹی پر آنا بھی مشکل ہوگیا ہے اور مالی مشکلات کی وجہ سے مسائل کا انبار ہے، اس لئے آپ کسی نہ کسی طرح مسئلہ کا حل نکالیں اور بورڈ ممبران کی میٹنگ بلاکر ہمارے مطالبات پر غور کریں ورنہ ہم کل سے دفتر وقف بورڈ کے سامنے اسٹرائک کریں گے۔ ممبران کے وفد میں شامل ایڈوکیٹ حمال اختر اور چودھری شریف نے ملازمین کی باتوں کو غور سے سنا اور کہا کہ ہم تمام مسائل کا حل نکالنے کے لئے کوشاں ہیں اور بورڈ کی میٹنگ بلانے کے لئے سی ای او کو خط لکھا گیا ہے۔ انہوں نے آگے کہا کہ امید ہے کہ ایک ہفتہ کے اندرکوئی نہ کوئی حل ضرور نکل آئے گا۔ بورڈ ممبران نے مطالبات کے حل کی یقین دہانی کراتے ہوئےکہا کہ آپ فی الحال ایک ہفتہ کے لئے اسٹرائک کو مؤخر کردیں۔


وفد میں شامل ایڈوکیٹ حمال اختر نے کہا کہ اگر سی ای او صاحب میٹنگ نہیں بلاتے ہیں تو ہم ہرقدم پر وقف بورڈ کے عملہ کے ساتھ ہیں اور ان کے مطالبات کے حل کےلئے ہرقانونی طریقہ اپنائیں گے۔ ذرائع کے مطابق بورڈ ملازمین نے معزز ممبران کی درخواست پرفی الحال 4 نومبر تک اپنی اسٹرائک کو مؤخر کردیا ہے۔ ملازمین کا کہنا ہےکہ معزز ممبران کی درخواست پر ہم 4 نومبر تک انتظار کریں گے اور اگر وقف بورڈ انتطامیہ ہمارے مطالبات پر غورکرنے میں یا جو یقین دہانی کرائی ہے، اسے پورا کرنے میں ناکام رہتی ہے تو ہم 4 نومبر سے ہرحال میں اسٹرائک پر چلے جائیں گے۔ اس موقع پر ملازمین نے وزیر اعلی اروند کیجریوال سے بھی اپیل کی کہ وہ وقف بورڈ ملازمین کی تنخواہوں کے معاملہ میں دلچسپی لیں اور کسی طرح مسئلہ کا حل نکالیں۔ ملازمین نے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے بنا کچھ سوچے سمجھے کورونا جیسی بیماری میں بھی مستقل کام کیا ہے اور تنخواہ نہ ملنے پر بھی ہم پابندی سے آفس آئے ہیں، مگر ہمیں اتنے دنوں سے تنخواہ نہ ملنا ہمارے ساتھ نا انصافی ہے۔


غور طلب ہے کہ دہلی وقف بورڈ میں چیئرمین نہ ہونے کی وجہ سے کافی پریشانیاں آرہی ہیں اور کئی ماہ سے ملازمین کو تنخواہیں، اماموں کو وظیفے اور بیواؤں اور ضرورت مندوں کو پنشن سب بند ہیں ایسے میں ملازمین نے کئی مرتبہ ذمہ داران اور اعلی افسران کو اپنی پریشانیوں سے آگاہ کیا۔ تاہم مسائل کا حل نہ نکلتے دیکھ بالآخر تمام ملازمین نے 28 اکتوبر سے اسٹرائک پر جانےکا فیصلہ کرلیا، جس کی منظوری بھی انھیں انتظامیہ سے مل گئی مگر بورڈ ممبران کی یقین دہانی کے بعد فی الحال اسٹرائک کو ایک ہفتہ کے لئے مؤخرکردیا گیا ہے۔

دہلی وقف بورڈ کے ملازم وکرم نے سنایا نیوز18 کو اپنا درد

دہلی وقف بورڈ کے ملازم وکرم نے بتایا گزشتہ ایک سال سے دہلی وقف بورڈ کے دفتر میں کام کر رہے ہیں۔ گزشتہ پانچ مہینوں سے سیلری نہیں ملی، جس کی وجہ سے گھرچلانا مشکل ہو رہا ہے۔ طبیعت خراب ہونے پر علاج بھی نہیں کرا پا رہے ہیں۔ سرکار کورونا وبا کے خلاف ہمیں جنگجو تو قرار دے دیتی ہیں، لیکن سیلری نہیں دیتی ہیں۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Oct 27, 2020 08:53 PM IST