ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

دہلی وقف بورڈ کا عملہ کرے گا بھوک ہڑتال، آخر ذمہ دار کون؟

مہینوں سے بنا تنخواہ کےکام کرنے والے وقف بورڈ عملہ کے صبرکا پیمانہ بھی لبریز ہوگیا ہے اور تقریباً 150 کے قریب وقف بورڈ میں کام کرنے والا عملہ غیر معیاری مدت کے لئے ہڑتال پر جانے کے لئے مجبور ہوگیا ہے۔

  • Share this:
دہلی وقف بورڈ کا عملہ کرے گا بھوک ہڑتال، آخر ذمہ دار کون؟
دہلی وقف بورڈ کا عملہ کرے گا بھوک ہڑتال، آخر ذمہ دار کون؟

نئی دہلی: دہلی وقف بورڈ میں گزشتہ کئی ماہ سے چیئرمین نہ ہونے کی وجہ سے حالات دگرگوں ہوتے جارہے ہیں اور اب نوبت یہاں تک آپہنچی ہے کہ مہینوں سے بنا تنخواہ کےکام کرنے والے بورڈ عملہ کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہوگیا ہے اور تقریباً 150 کے قریب وقف بورڈ میں کام کرنے والا عملہ غیر معیاری مدت کے لئے ہڑتال پر جانے کے لئے مجبور ہوگیا ہے۔ دراصل گزشتہ 9 ماہ سے بنا تنخواہ کے کام کرنے والے وقف بورڈ کے عملہ کی ہمت بھی بورڈ انتظامیہ کی جانب سے دلاسے اور تسلیوں کے بعد اب جواب دے چکی ہے۔ مہنوں سے اپنی تنخواہ کے انتظارمیں بورڈ ملازمین نے آخر میں تھک ہارکر اسٹرائک پر جانے کا فیصلہ کرلیا ہے اوراب 5 نومبر سے وہ دہلی وقف بورڈ دریا گنج واقع آفس کے باہر اپنے مطالبات کی حمایت میں دھرنے پر بیٹھیں گے، جس سے وقف بورڈکے انتظامی معاملات اور روز مرہ کے کام کاج میں مزید ابتری کا اندیشہ ہے، جو چیئرمین نہ ہونےکی وجہ سے پہلے ہی سست روی کا شکار ہے۔


تفصیلات کے مطابق، دہلی وقف بورڈ کے 150 سے زائد اسٹاف کو گزشتہ تقریباً 9 ماہ سے تنخواہ نہیں ملی ہے۔ جبکہ وقف بورڈ کے ماتحت آنے والے کئی سو امام اور موذن بھی کئی ماہ سے بورڈ کی جانب سے دیئے جانے والے اعزازیہ سے محروم ہیں، جس کی وجہ سے ان کے گھروں میں فاقہ کشی کے حالات ہیں۔ بہت سارے امام ایسے ہیں، جو دور دراز کے علاقوں میں غیر مسلم آبادی میں آباد مساجد میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ تاہم انھیں اپنے لئے دو وقت کی روٹی کا انتظام کرنا بھی مشکل ہوگیا ہے جبکہ ایک بڑی تعداد ایسے امام اور موذننین کی ہے، جو اب تک قرض لے کرکسی طرح اپنے گھر میں چولہا جلارہے تھے، مگر اب قرض کی ادائیگی کے تقاضے بھی ہونے لگے ہیں۔ بعض اماموں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں دہلی وقف بورڈ کے کبھی ایسے حالات نہیں دیکھے۔


وقف بورڈ سے ایک ہزار کے قریب ایسے ضرورتمندوں کی بھی مدد کی جاتی ہے، جن کے گھروں میں کوئی کمانے والا نہیں ہے اور وہ بیوائیں،مطلقہ خواتین ،مریض یا معاشرہ کے نادار اور ضرورتمند لوگ ہیں جنھیں وظیفہ کے نام پر وقف بورڈ سے ماہانہ ڈھائی ہزار روپئے دیئے جاتے رہے ہیں، مگر اب جبکہ بورڈ خود محتاج ہوگیا ہے، ایسے میں اس طبقہ کی بھی مدد نہیں ہو پارہی ہے اور روز بڑی تعداد میں یہ ضرورتمند وقف بورڈ کے دفتر سے خالی ہاتھ اور نامراد واپس لوٹ جاتے ہیں۔ کئی ضرورتمند تو ایسے ہوتے ہیں جو رو رو کر اپنا درد سناتے ہیں، مگرتکنیکی اور انتظامی پیچیدگیوں کا شکار ہونے کی وجہ سے وقف بورڈ کا عملہ ایسے افراد کی مدد کرنے سے قاصر ہے۔ کل ملاکر تقریباً ڈیڑھ ہزار خاندان ایسے ہیں، جن کے گھروں میں نہ صرف فاقہ کشی کی نوبت ہے بلکہ چولہا جلنا دوبھر ہوگیا ہے۔ اوپر سے تنخواہ کی امید پر لیا گیا قرض بھی واپس کرنے کے لالے پڑگئے ہیں اور اب لئے گئے قرض کے تقاضے شروع ہوگئے ہیں۔ بورڈ عملہ میں بہت سے ایسے ملازمین ہیں جو کرایہ پر مکان لے کر رہتے ہیں مگر اب کئی کئی ماہ کا کرایہ جمع ہوگیا ہے اور مالک مکان گھر خالی کرنے کا دباو بنا رہے ہیں۔


غور طلب ہے کہ یہ تمام وہ ملازمین ہیں، جنہوں نے سال کے شروع میں دہلی کے شمال مشرقی علاقہ میں ہونے والے فسادات میں متاثرین کے لئے دن رات ایک کرکے کام کیا۔ کئی کئی دن تک گھر نہیں گئے اور اب کئی ماہ سے تنخواہ نہ ملنے کے باوجود روزانہ پابندی سے آفس آرہے ہیں اورکروڑوں کی وقف جائیداد کی حفاظت کر رہے ہیں، مگر یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ان ملازمین کو کس بات کی سزا دی جارہی ہے؟

ذرائع کے مطابق 20 اکتوبر کو تمام ملازمین نے وقف بورڈ کے سی ای او اور تمام بورڈ ممبران کو مطالبات پر مشتمل اپنی ایک تفصیلی عرضداشت پیش کی تھی، جس کی ایک کاپی وزیر اعلی اروند کیجریوال کو بھی بھیجی گئی تھی۔ اس عرضداشت میں انتباہ دیا گیا تھا کہ اگر ان کے مطالبات حل نہ ہوئے تو وہ 28 اکتوبر سے اسٹرائک پر چلے جائیں گے۔ تاہم وقف بورڈ کے ممبران کے ایک وفد نے ایک ہفتہ کی مہلت مانگتے ہوئے مطالبات کے حل کی یقین دہانی کرائی تھی اور اسٹرائک پر نہ جانے کی درخواست کی تھی جس کے بعد ملازمین کی جانب سے اسٹرائک کو مؤخر کردیا گیا تھا مگر بورڈ ممبران کی جانب سے کرائی گئی یقین دہانی جھوٹی ثابت ہوئی اور ملازمین کی تنخواہوں کا ابھی تک کوئی حل نہیں نکلا، جس کے بعد ملازمین نے 5 نومبر یعنی جمعرات سے غیر معینہ مدت کے لئے ہڑتال پر جانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

تنخواہ میں دیری کی بنیادی وجوہات

دہلی وقف بورڈ کے اکاؤنٹ میں تقریباً 8 کروڑ روپئے موجود ہیں۔ اتنی بھاری بھرکم رقم ہونے کے باوجود یہ رقم ملازمین کی تنخواہ دینے کے لئے استعمال اس لئے نہیں ہو پا رہی ہے کیونکہ رقم نکالنے کے لئے دو ایسے افراد کا ہونا ضروری ہے، جو پیسے نکالنے کے لئے دستخط کرنے کی اہلیت رکھتے ہو۔دستخط کرنے کی اہلیت بورڈ کے چیئرمین کے پاس ہوتی ہے۔ فروری کے مہینے سے بورڈ کا چیئرمین نہیں ہے۔ چیئرمین کے علاوہ وقف بورڈ کے سی ای او کو بھی دستخط کرنے کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔موجودہ سی ای او تنویر احمد اب تک بینک سے اپنے دستخط منظور نہیں کرا سکے ہیں۔ حالانکہ کئی مہینے پہلے ہی وہ چارج لےکر جوائن کرچکے ہیں۔ ایک دوسرے ممبر حمال اختر کو بھی دستخط کرنے کے لئے اتھارٹی بنایا گیا تھا، ایسی صورت میں صرف حمال اختر ہی ایسے شخص ہیں جو دستخط کرنے کے اہل ہیں۔ یہی وجہ ہے ایسی صورتحال میں دہلی وقف بورڈ کے ملازمین ایڈیشنل چارج کے سی ای او کے بجائے فل ٹائم سی ای او کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں سی او بدلنے کی بات کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین کے لئے ہونے والا انتخاب گزشتہ مہینے دہلی ہائی کورٹ کے ذریعہ ملتوی کردیا گیا تھا۔ کیونکہ خود دہلی حکومت سابق چیئرمین امانت اللہ خان کے خلاف اسپیشل آڈٹ کرا رہی ہے۔ یعنی دستخط کرنے والا چیئرمین آنے کی امید دم توڑ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے دہلی وقف بورڈ کے ملازمین بھوک ہڑتال پر جانے کے لئے مجبور ہوگئے ہیں۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Nov 04, 2020 09:43 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading