ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

ممتاز مجاہد آزادی اشفاق اللہ خان کی یادگار قائم کرنے کے لئے مسلم مہاسبھا نے کیا یہ بڑا مطالبہ

ممتاز مجاہد آزادی اشفاق اللہ خان کا شمار صرف ہندوستان ہی نہیں بر صغیرکے ممتاز مجاہدین آزادی میں ہوتا ہے۔ اشفاق اللہ خان کی ولادت 22 اکتوبر 1900 کو اتر پردیش کے مردم خیز شہر شاہجہاں پور کے ایک معزز گھرانے میں ہوئی تھی۔ اشفاق اللہ خان کے والد کا نام شیفق اللہ خان اور والدہ کا نام مظہر النسا بیگم تھا۔

  • Share this:
ممتاز مجاہد آزادی اشفاق اللہ خان کی یادگار قائم کرنے کے لئے مسلم مہاسبھا نے کیا یہ بڑا مطالبہ
ممتاز مجاہد آزادی اشفاق اللہ خان کی یاد گار قائم کرنے کا مطالبہ

بھوپال: ممتاز مجاہد آزادی اشفاق اللہ خان کا شمار صرف ہندوستان ہی نہیں بر صغیرکے ممتاز مجاہدین آزادی میں ہوتا ہے۔ اشفاق اللہ خان کی ولادت 22 اکتوبر 1900 کو اتر پردیش کے مردم خیز شہر شاہجہاں پور کے ایک معزز گھرانے میں ہوئی تھی۔ اشفاق اللہ خان کے والد کا نام شیفق اللہ خان  اور والدہ کا نام مظہر النسا بیگم تھا۔ بھوپال کے شہید گیٹ پر مسلم مہا سبھا کے زیر اہتمام ان کی یوم ولادت پر پروگرام کا انعقاد کرکے خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ عام طور اشفاق اللہ خان کو لوگ صرف ایک مجاہد آزادی کے طور پر جانتے ہیں جبکہ وہ منفرد لب ولہجہ کے شاعر تھے اور اپنے معاصرین میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔ انہوں نے وارثی اور حسرت دونوں تخلص سے شاعری کی ہے۔

اشفاق اللہ خان  نے جس خاندان  میں آنکھ کھولی تھی، اس کے اکثر لوگ برطانوی حکومت میں بڑے عہدوں پر فائز تھے۔ اشفاق اللہ خان اپنے چار بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ ان کے بڑے  ریاست اللہ خان ممتاز مجاہد آزادی رام پرساد بسمل کے ہم جماعت تھے، وہ اکثر رام پرساد بسمل کی شاعری اور تحریک آزادی کے لئے ان کی اور دوسرے مجاہدین آزادی کوششوں کے قصے سنایا کرتے تھے، جس سے اشفاق اللہ خان کے دل میں بھی ملک کی آزادی کے لئےفکر پیدا ہوئی اور انہوں نے اپنا سب کچھ مادر وطن کے لئے قربان کردیا۔

عام طور پر جوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے کے بعد لوگوں کی خواہشات کچھ اور ہوتی ہیں، مگر اشفاق اللہ خان نے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے کے بعد صرف ایک ہی خواب دیکھا کہ مادر وطن کو انگریزی حکومت کو غلامی سے آزادی کرایا جائے اور یہ خواب انہیں سونے نہیں دیتا تھا۔ زندگی کی بیسویں بہار میں ہی وہ اپنے مشن کی آبیاری کے لئے رام پرساد بسمل سے رابطہ کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ رام پرساد بسمل سے ملاقات کے بعد ان کے مشن کو اور تقویت ملی۔ جس عہد میں مولانا محمد علی جوہر ملک میں خلافت تحریک چلا رہے تھے، اس عہد میں اشفاق اللہ خان اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر عوام کو ملک کی آزادی کے لئے بیدار کر رہے تھے۔  1922 میں چورا چوری کے پُرتشدد واقعہ کے بعد گاندھی جی نے خلافت تحریک کے خاتمہ کا اعلان کیا۔ تحریک عدم تعاون کی منسوخی سے پرجوش انقلابیوں  میں ایک بے چینی پیدا ہوگئی اور کئی انقلابیوں نے اعتدال کی راہ چھوڑ کر مسلح جہد وجہد کے ذریعہ ملک کی آزادی کا خاکہ تیار کیا۔ اشفاق اللہ خان بھی ایسے ہی انقلابیوں سے جاملے اور انہوں نے مسلح جد وجہد کے ذریعہ ملک کی آزادی کو زندگی کا مقصد بنالیا۔


مسلم مہا سبھا مدھیہ پردیش کے صدر ارشاد علی خان کہتے ہیں کہ مجاہدین آزادی کی قربانیوں کے سبب ہی آج ہم آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں۔ ایسے میں ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم انہیں یاد کر یں اور ان کے سنہرے کارناموں سے نئی نسل کو بھی واقف کرائیں۔

انقلابیوں کے لئے مسلح جد وجہد کا راستہ آسان نہیں بہت پُرخطرتھا۔ مسلح جنگ آزادی کے لئے اسلحہ کی فراہمی سب سے بڑا مسئلہ تھا اور اس کے لئےکثیر رقم درکار تھی۔ انقلابیوں نے طے کیا کہ چونکہ برطانوی حکومت صدیوں سے ہندوستان کو لوٹ کر اپنا خزانہ بھر رہی ہے کیونکہ نہ برطانوی حکومت کو لوٹ کراپنا مشن پورا کیا جائے۔ مقصد کے حصول کے لئے انقلابیوں نے 8 اگست 1925 کو خفیہ میٹنگ کی  اور 9 اگست 1925 کوکاکوری کے مقام پر سرکاری خزانہ کو لے کر جا رہی  8 ڈاؤن۔ سہارنپور لکھنؤ پسینجر ٹرین روک کر خزانہ لوٹ لیا۔ اس مہم میں اشفاق اللہ خان اور رام پرساد بسمل کے ساتھ دیگر 8 انقلابیوں نے شرکت کی تھی۔ کاکوری کا واقعہ انگریزی حکومت کے غرور اور طاقت پر ایک کاری ضرب تھا، جس سے برطانوی حکومت بوکھلا اٹھی تھی۔ انقلابی مجاہدین آزادی گرفتار ہوئے اور رسم ادائیگی کے لئے عدالتی کاروائی کرتے ہوئے چار مجاہدین آزادی اشفاق اللہ خان، رام پرساد بسمل، راجندر لہری اورٹھاکر روشن سنگھ کو پھانسی کی سزا سنائی گئی جبکہ دیگر مجاہدین آزادی کو عمر قید کی سزا دی گئی تھی۔
تحریک آزادی کے دوران اشفاق اللہ خان کا قیام بھوپال اٹہ شجاع خان میں بھی رہا ہے۔ 120ویں یوم ولادت کے موقع پر بھوپال میں مسلم مہا سبھا نے نہ صرف اشقاق اللہ خان کو یاد کیا بلکہ مدھیہ پردیش میں ان کی عظیم یادگار قائم کرنےکا بھی مطالبہ کیا۔ مسلم مہا سبھا مدھیہ پردیش کے صدر ارشاد علی خان کہتے ہیں کہ مجاہدین آزادی کی قربانیوں کے سبب ہی آج ہم آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں۔ ایسے میں ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم انہیں یاد کر یں اور ان کے سنہرے کارناموں سے نئی نسل کو بھی واقف کرائیں۔ مدھیہ پردیش حکومت سے مطالبہ ہے کہ اشفاق اللہ خان، رام پرساد بسمل اور دوسرے مجاہدین آزادی کی مدھیہ پردیش میں یادگار قائم کی جائے تاکہ نئی نسل مجاہدین آزادی کی قربانیوں سے سبق حاصل کرتی رہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Oct 22, 2020 10:53 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading