உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بھوپال میں سرسید ریسرچ سینٹر قائم کئے جانے کا مطالبہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے 100 سال مکمل ہونے پر سیمینار کا انعقاد

    بھوپال میں سرسید ریسرچ سینٹر قائم کئے جانے کا مطالبہ

    بھوپال میں سرسید ریسرچ سینٹر قائم کئے جانے کا مطالبہ

    علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے 100 سال مکمل ہونے کے موقع پر مولانا برکت اللہ بھوپالی ایجوکیشن سوسائٹی کے ذریعہ مدھیہ پردیش کے مختلف اضلاع میں سال بھر تک مختلف موضوعات کے تحت سمینار کے انعقاد کا اعلان یونیورسٹی کی صدی تقریب کے موقع پر کیا گیا تھا۔

    • Share this:
    بھوپال: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے 100 سال مکمل ہونے کے موقع پر مولانا برکت اللہ بھوپالی ایجوکیشن سوسائٹی کے ذریعہ مدھیہ پردیش کے مختلف اضلاع میں سال بھر تک مختلف موضوعات کے تحت سمینار کے انعقاد کا اعلان یونیورسٹی کی صدی تقریب کے موقع پر کیا گیا تھا۔ اس ضمن میں  2021 کے پہلے سیمینار کا انعقاد بھوپال گاندھی نگر میں سرسید کے تعلیمی افکار اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی خدمات کے عنوان سے قومی سمینار کا انعقاد کیا گیا۔ بھوپال گاندھی نگر میں منعقدہ قومی سمینار میں ملک کے ممتاز دانشوروں نے شرکت کی اور تعلیم کے میدان میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کارہائے نمایاں کو تفصیلات کے ساتھ پیش کرنے کے ساتھ بھوپال میں سر سید احمد خان کے نام سے ریسرچ سینٹر قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔
    ممتاز ماہر تعلیم، مفکر، مدبر، مورخ، انشا پرداز، مصلح قوم، قوم کے نباض سرسید احمد خان نے 1857 کے غدر کے بعد ملک کے بکھرے ہوئے شیرازے کو یکجا کرکے ہندستانیوں اور بالخصوص مسلمانوں کی جدید تعلیم کا خاکہ تیار کیا تھا۔ سر سید نے علی گڑھ میں ادارہ قائم کرنےسے قبل مرادآباد اور غازی پور میں بھی مدرسہ قائم کیا تھا۔ مسلمانوں میں سائنسی مزاج پیدا کرنے کے لئے انہوں نے غازی پور میں سائنٹفک سوسائٹی قائم کی اور 24 مئی 1875  کو علی گڑھ میں مدرسۃ العلوم کے نام سے مدرسہ قائم کرکے اپنے مشن کا آغاز کیا تھا۔ مدرسۃ العلوم نے دو سال کی قلیل مدت میں ترقی کرکے کالج کا درجہ حاصل کیا اور محمڈن اینگلو اورینٹل اپنی تعلیم کے لئے دور دور تک مشہور ہوگیا۔ پھر وہ دن بھی آیا، جب 1920 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا قیام عمل میں آیا۔ سرسید کے تعلیمی خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے میں نوابین بھوپال اور بھوپال کے عام لوگوں نے ہر قدم پر معاونت کی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی صدی مکمل ہوئی اور ملک وبیرون ملک میں کورونا قہر میں ورچوئل طریقے سے پروگرام کے انعقاد کا سلسلہ شروع ہوا تو بھوپال میں تعلیم کے میدان  میں کام کرنے والوں نے روایتی انداز میں سمینار کے انعقاد کا سلسلہ شروع کیا۔ پہلا سمینار بھوپال ایم ایل اے اندرا پریہ درشنی ڈگری کالج کے روح رواں عارف مسعود کے ذریعہ کیا گیا تھا۔ اس کے بعد مولانا برکت اللہ بھوپالی ایجوکیشن سو سائٹی نے سال بھر تک تعلیمی سمینار کے انعقاد کا اعلان کیا۔

    علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے 100 سال مکمل ہونے کے موقع پر مولانا برکت اللہ بھوپالی ایجوکیشن سوسائٹی کے ذریعہ مدھیہ پردیش کے مختلف اضلاع میں سال بھر تک مختلف موضوعات کے تحت سمینار کے انعقاد کا اعلان یونیورسٹی کی صدی تقریب کے موقع پر کیا گیا تھا۔
    علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے 100 سال مکمل ہونے کے موقع پر مولانا برکت اللہ بھوپالی ایجوکیشن سوسائٹی کے ذریعہ مدھیہ پردیش کے مختلف اضلاع میں سال بھر تک مختلف موضوعات کے تحت سمینار کے انعقاد کا اعلان یونیورسٹی کی صدی تقریب کے موقع پر کیا گیا تھا۔


    مولانا برکت اللہ بھوپالی ایجوکیشن سو سائٹی کے صدر حاجی محمد ہارون نے سمینار کی غرض و غایت پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سر سید کے تعلیمی افکار اور تعلیمی مشن نے ہندستانیوں اور ایشیا ممالک میں جس طرح سے بیداری پیدا کی اس سے نہ صرف مسلمانوں بالخصوص ہندستانیوں میں تعلیم کا کام کیا ہے، اس کی معنویت میں وقت کے ساتھ اضافہ ہوگیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سر سید کے تعلیمی مشن کی روشنی میں نئے سرے سے کام کیا جائے تاکہ اکیسویں صدی میں سر سید کی تعلیم کے چراغ سے نئے چراغ روشن کئے جاسکیں۔
    ممتاز ماہر تعلیم پروفیسر اختر الواسع نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سر سید تھے اس لئے مسلمان یہاں تک پہنچے اگر سر سید نہیں ہوتے تو مسلمان کہاں ہوتے یہ سوچنے  والی بات ہے۔ سرسید نے پانچ طلبا سے اپنے تعلیمی مشن کا آغاز کیا تھا، اب وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں 34 ہزار سے زیادہ طلبا جس میں سبھی قوم کے طلبا شامل ہیں، تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ سرسید کی تعلیمی تحریک سے ہندوستان میں بہت سے ادارے قائم ہوئے ہیں، اب آگے اس تعلیمی تحریک کو ایک مشن کے طور پر چلانے کی ضرورت ہے۔ جب تک قوم کے اندر سائنسی مزاج پیدا نہیں ہوگا، تب تک سر سید کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا ہے۔

    ممتاز ماہر تعلیم پروفیسر اختر الواسع نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سر سید تھے اس لئے مسلمان یہاں تک پہنچے اگر سر سید نہیں ہوتے تو مسلمان کہاں ہوتے یہ سوچنے  والی بات ہے۔
    ممتاز ماہر تعلیم پروفیسر اختر الواسع نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سر سید تھے اس لئے مسلمان یہاں تک پہنچے اگر سر سید نہیں ہوتے تو مسلمان کہاں ہوتے یہ سوچنے والی بات ہے۔


    سمینار سے خطاب کرتے ہوئے سابق ڈی جی پی چھتیس گڑھ وزیر انصاری نے سرسید کے ساتھ ان کے رفقا پر بھی کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیر انصاری نے بھوپال برکت اللہ یونیورسٹی کو قومی یونیوسٹی کا درجہ دینے اور برکت اللہ یونیورسٹی میں سر سید ریسرچ سینٹر قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔ وزیر انصاری نے ایم پی حکومت سے مدھیہ پردیش میں زمین دینے کا بھی مطالبہ کیا تاکہ علی گڑھ  مسلم یونیورسٹی کی شاخ بھوپال میں قائم ہوسکے اور یہاں کے طلبا اس سے استفادہ کرسکیں۔
    سمینار میں افتتاحی سیشن کے علاوہ دو ٹیکنکل سیشن کا انعقاد کیا گیا۔ ٹیکنکل سیشن میں مختلف موضوعات پر مقالہ نگاروں نے پچیس مقالے پیش کئے۔ سر سید احمد خان اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے حوالے سے پیش کئے گئے 25 مقالوں کو سوسائٹی نے کتاب کی صورت میں شائع کرنے کا اعلان کیا ہے، تاکہ نئی نسل اس سے استفادہ کر سکے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: