உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مدھیہ پردیش: مدارس کے خلاف غیر قانونی کارروائی پر فو ری روک لگانے کا مطالبہ

    مدارس کے خلاف نا جائز کارروائی پر فو ری روک لگانے کا مطالبہ

    مدارس کے خلاف نا جائز کارروائی پر فو ری روک لگانے کا مطالبہ

    مدھیہ پردیش میں مدارس کے خلاف جاری حکومت کی کارروائی کے خلاف پہلی بار مسلم تنظیموں نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے بینرتلے اپنے اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Bhopal, India
    • Share this:
    بھوپال: مدھیہ پردیش میں مدارس کے خلاف جاری حکومت کی کارروائی کے خلاف پہلی بار مسلم تنظیموں نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے بینر تلے اپنے اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے بینر تلے بھوپال میں منعقدہ میٹنگ میں مدھیہ پردیش کے مدارس کے ذمہ داران نے شرکت کی اور حکومت کی کارروائی اور مدارس کے ساتھ اقلیتوں کے تعلیمی حقوق پر تفصیل سے غور و خوض کیا گیا۔

    میٹنگ میں صوبہ کے مدارس کے ِذمہ داران سے مدارس کے رجسٹریشن کے عمل کو مکمل کرنے اور حکومت کے ضابطہ کے مطابق کام کرنے کے لئے ضروری ہدایت پر عمل کرنے کے لئے خاکہ تیار کیا گیا۔ واضح رہے کہ مدھیہ پردیش میں چائلڈ لائن کی رپورٹ کے بعد شیوراج سنگھ حکومت کے ذریعہ اب تک 48 مدارس پر کاروائی کی جا چکی ہے جبکہ 52 مدارس کو صوبائی سطح پر نوٹس جاری کیاجا چکا ہے۔

    بھوپال کے رکن اسمبلی عارف مسعود نے کہا کہ حکومت سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ بھی مدارس کے لوگوں کو دستاویز مکمل کرنے کا موقع دے۔
    بھوپال کے رکن اسمبلی عارف مسعود نے کہا کہ حکومت سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ بھی مدارس کے لوگوں کو دستاویز مکمل کرنے کا موقع دے۔


    بھوپال کے رکن اسمبلی اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن عارف مسعود نے نیوز ایٹین سے خاص بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مدارس کے خلاف حکومت کے ذریعہ جو کارروائی کی جا رہی ہے، اس سے متعلق مدارس انتظامیہ اور مسلم سماج میں بے چینی ہے، جس سے متعلق آج بھوپال کھانو گاؤں اندرا پریہ درشنی میں میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔

    مدھیہ پردیش حکومت کی کارروائی اور مدارس کے ساتھ اقلیتوں کے تعلیمی حقوق پر میٹنگ میں تفصیل سے غور و خوض کیا گیا۔
    مدھیہ پردیش حکومت کی کارروائی اور مدارس کے ساتھ اقلیتوں کے تعلیمی حقوق پر میٹنگ میں تفصیل سے غور و خوض کیا گیا۔


    میٹنگ میں مدارس انتظامیہ سے اپنے مدارس کے رجسٹریشن کے عمل کو حکومت کے ضابطہ کے مطابق مکمل کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ اسی کے ساتھ حکومت سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ بھی مدارس کے لوگوں کو دستاویز مکمل کرنے کا موقع دے۔ اس کے بعد بھی اگر کوئی مدارس اپنے دستاویز کو مکمل نہیں کرتے ہیں اور حکومت ان کے خلاف کاروائی کرتی ہے تو ہم لوگ اس کے ساتھ کھڑے نہیں ہوں گے۔

    یہ بھی پڑھیں۔

    راجناتھ سنگھ نے کہا- 1971 کی جنگ کے دوران ہی ہوجانا چاہئے تھا پاک مقبوضہ کشمیرکا فیصلہ

    یہ بھی پڑھیں۔

    عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان کو 14 دنوں کی عدالتی حراست، وقف بورڈ سے جڑا ہے معاملہ 

    رکن اسمبلی نے مزید کہا کہ میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں اور جس سوال کو میں نے اسمبلی سیشن میں حکومت سے پوچھا تھا کہ جن مدارس نے حکومت کے ضابطہ کے مطابق رجسٹریشن کروایا تھا، انہیں جو پچھلے پانچ چھ سالوں سے اب تک گرانٹ نہیں دی گئی ہے وہ کیا ہے، میں نے وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان سے اسمبلی میں پوچھا تھا کہ آپ ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘ کی بات کر رہے ہیں، لیکن آپ یہ تو بتائیں کہ اقلیتی اداروں اور مدرسہ بورڈ کے لوگوں کی گرانٹ کیوں نہیں جاری کی گئی۔

    وہیں اس تعلق سے صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے بھوپال شہر قاضی نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ جلد از جلد مدارس کے ذمہ داران اپنے رجسٹریشن کے عمل کو مکمل کرلیں اور ماشاء اللہ یہاں پر پورے مدھیہ پردیش کے مدارس کے ذمہ داران بیٹھے ہوئے ہیں اور آپ کے ذریعہ پورے ایم پی کے گھر گھر میں یہ میسیج پہنچا جائے گا۔ تاکہ جلد از جلد الرٹ ہو کر مدارس کے دستاویز کے عمل کو مکمل کرائیں تاکہ کوئی نیا مسئلہ نہ پیدا ہو اور ہمارے اور گورنمنٹ کے درمیان کوئی غلط فہمی نہ پیدا ہو اور گورنمنٹ کے لوگوں سے بھی کہنا چاہتے ہیں کہ مدارس کے لوگوں کو شک کی نظر سے نہ دیکھا جائے اور ان پر غیر ضروری کارروائی نہ کی جائے اور اگر کسی مدرسہ کے بارے میں کوئی اطلاع ملتی ہے، آپ ہمیں بتائیں ہم آپ کو اس کے تعلق سے پوری معلومات فراہم کریں گے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: