آرٹیکل 370 کی منسوخی: کشمیر میں پبلک ٹرانسپورٹ بند لیکن سڑکوں پر نظرآرہی ہے یہ سواری

وادی کشمیر میں گزشتہ ایک ماہ سے پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے مکمل طور پر غائب ہے تاہم پرائیویٹ ٹرانسپورٹ کی نقل وحمل جاری ہے۔انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ وادی کی صورتحال تیزی کے ساتھ بہتری کی جانب گامزن ہے

Sep 16, 2019 10:34 PM IST | Updated on: Sep 16, 2019 10:34 PM IST
آرٹیکل 370 کی منسوخی: کشمیر میں پبلک ٹرانسپورٹ بند لیکن سڑکوں پر نظرآرہی ہے یہ سواری

سول لائنس علاقہ کےکچھ حصوں میں گاڑیوں کی آمدورفت میں اضافہ ہوا ہے۔ تصویر: پی ٹی آئی/ ایس عرفان۔

وادی کشمیر میں گزشتہ زائد از ایک ماہ سے پبلک ٹرانسپورٹ بند رہنے کے باعث سائیکلوں کی مانگ میں بھی اضافہ ہوا ہے اور ان کے سر نو استعمال کرنے کے رجحان میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے۔وادی میں سڑکوں پر چہار سو قسم بہ قسم کی گاڑیاں نظر آرہی تھیں سائیکل کہیں دکھائی نہیں دیتی تھی لیکن گزشتہ زائد از ایک ماہ سے سڑکوں پر گاڑیوں کے بجائے سائیکلوں کے استعمال میں اضافہ درج ہورہا ہے۔احسان احمد نامی ایک شہری نے یو این آئی اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ سائیکل کا استعمال موجودہ حالات میں بہتر بھی ہے اور سستا بھی ہے۔

ان کا کہنا تھا: 'میں نے گاڑی میں باہر جانا بند کیا ہے، میں اب سائیکل پر گھر سے باہر کام کے لئے نکلتا ہوں، سائیکل کا استعمال نہ صرف سستا ہے بلکہ موجودہ حالات میں بہتر ذریعہ سفر ہے'۔مدثر احمد نامی ایک اسکالر نے کہا کہ سائیکلوں کا استعمال سستا ہی نہیں بلکہ ماحولیات کے لئے بھی فائدہ بخش بھی ہے۔انہوں نے کہا: 'موجودہ حالات میں لوگ اب ایک بار پھر چلنے پھرنے کے لئے سائیکلوں کا استعمال کرنے لگے ہیں، اگرچہ سائیکلوں کے استعمال سے سفر تھوڑا بہت مشکل ہوگیا ہے لیکن ان کا استعمال نہ صرف سستا ہے بلکہ ماحولیات کے لئے بے حد فائدہ بخش ہے'۔

Loading...

مدثر نے مزید کہا کہ اب گاڑیوں کے بجائے آگے بھی سائیکل استعمال کرنے کا رواج ہی پروان چڑنا چاہئے تاکہ کم سے کم ہم ماحول کو آلودہ ہونے سے بچا سکیں۔محمد اسحاق نامی ایک سائیکل مستری نے کہا کہ گزشتہ دنوں سے میرے کام میں خاطر خواہ اضافہ ہورہا ہے۔انہوں نے کہا: 'میرے کام میں ہر گزرتے دن کے ساتھ ساتھ کمی واقع ہورہی تھی کیونکہ اب لوگ سائیکلوں کا استعمال نہیں کررہے تھے لیکن گزشتہ دنوں سے میرے کام میں اضافہ ہورہا ہے اب لوگ ایک بار پھر سائیکل میرے پاس مرمت کرنے کے لئے لاتے ہیں'۔

اسحاق نے کہا کہ میں اب روزی روٹی کے لئے کسی دوسرے کام کی تلاش میں تھا کیونکہ سائیکلوں کی مرمت کرنے کے کام سے گھر کا گذارہ بمشکل ہی ہوتا تھا لیکن اب چونکہ کام بڑھ گیا ہے اور میری آمدنی میں بھی اچھا خاصا اضافہ ہوا ہے۔غلام نبی نامی ایک ترکھان نے کہا کہ میں نے بھی اب گاڑی کے بجائے سائیکل کا استعمال کرنا شروع کیا ہے۔ان کا کہنا تھا: 'میں کام پر پبلک گاڑی میں جایا کرتا تھا لیکن اب چونکہ گزشتہ ایک ماہ سے یہاں ٹرانسپورٹ بند ہے لہٰذا میں نے حال ہی میں ایک سائیکل خریدا اب اسی سے کام پر جاتا ہوں'۔

اویس احمد نامی دسویں جماعت کے ایک طالب علم نے کہا کہ سائیکل پر ٹیویشن جانے میں مجھے کافی مزہ آتا ہے۔انہوں نے کہا: 'میں گاڑی میں ٹیوشن کے لئے جایا کرتا تھا لیکن اب چونکہ گاڑیاں بند ہیں لہٰذا میں اب سائیکل پر ٹیوشن کے لئے جاتا ہوں مجھے کافی مزہ آتا ہے'۔اویس نے کہا کہ اگر سائیکلوں کے استعال میں اضافہ ہوگا تو ہماری وادی کی خوبصورتی میں بھی چار چاند لگیں گے اور ماحولیاتی آلودگی بھی کافی حد تک ختم ہوگی۔

بتادیں کہ وادی کشمیر میں گزشتہ ایک ماہ سے پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے مکمل طور پر غائب ہے تاہم پرائیویٹ ٹرانسپورٹ کی نقل وحمل جاری ہے۔انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ وادی کی صورتحال تیزی کے ساتھ بہتری کی جانب گامزن ہے تاہم اس کے برعکس اسٹیٹ روڑ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی بسیں بھی سڑکوں سے غائب ہیں۔ ان میں سے کچھ درجن بسوں کو سول سکریٹریٹ ملازمین اور سری نگر کے دو تین ہسپتالوں کے عملے کو لانے اور لے جانے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔ ایس آر ٹی سی کی کوئی بھی گاڑی عام شہریوں کے لئے دستیاب نہیں ہے جس کی وجہ سے انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

Loading...