உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    حجاب تنازعہ کے درمیان ڈریس کوڈ کی مانگ: لا اسٹوڈنٹ کی سپریم کورٹ میں درخواست، کہا-کبھی ناگا سادھو کالج پہنچ گئے تو کیا ہوگا

    تصویر انسٹاگرام: shahenwaz_alvish

    تصویر انسٹاگرام: shahenwaz_alvish

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ ذات پات، فرقہ پرستی، تعصب اور علیحدگی پسندی کے خطرے کو کم کرنے کے لیے ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں مشترکہ ڈریس کوڈ کا نفاذ ضروری ہے۔ اس کے لیے مرکز کو عدالتی کمیشن یا ماہرانہ کمیٹی بنانے کی ہدایت دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس کمیٹی کا کام طلبہ میں اتحاد کو فروغ دینا ہوگا۔

    • Share this:
      نئی دہلی:کرناٹک میں حجاب تنازعہ کے درمیان ملک بھر کے اسکولوں اور کالجوں میں ایک ڈریس کوڈ کو نافذ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ قانون کے ایک طالب علم نکھل اپادھیائے نے اس سلسلے میں سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی دائر کی ہے۔ اس میں ڈریس کوڈ کو مساوات اور جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے۔ درخواست گزار نے اس پر جلد سماعت کا مطالبہ کیا ہے۔

      درخواست میں کہا گیا ہے کہ ذات پات، فرقہ پرستی، تعصب اور علیحدگی پسندی کے خطرے کو کم کرنے کے لیے ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں مشترکہ ڈریس کوڈ کا نفاذ ضروری ہے۔ اس کے لیے مرکز کو عدالتی کمیشن یا ماہرانہ کمیٹی بنانے کی ہدایت دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس کمیٹی کا کام طلبہ میں اتحاد کو فروغ دینا ہوگا۔

      کبھی ناگا سادھو کلاس میں آئے تو کیا ہوگا؟
      درخواست گزار نے استدلال کیا ہے کہ اسکولوں کا مقصد علم، روزگار اور قوم کی تعمیر میں حصہ ڈالنا ہے نہ کہ مذہبی طریقوں پر عمل کرنا۔ اگر آنے والے وقتوں میں ناگا سادھو کالج میں داخلہ لے لیں اور مذہبی روایت کا حوالہ دیتے ہوئے بغیر کپڑوں کے کلاس میں پہنچ جائیں تو کیا ہوگا؟

      درخواست میں حجاب حامیوں کے مظاہروں کا دیا گیا حوالہ
      پٹیشن میں کرناٹک میں حجاب کے تنازع پر قومی راجدھانی دہلی میں ہونے والے مظاہروں کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی لا کمیشن آف انڈیا کو 3 ماہ کے اندر قومی یکجہتی کو فروغ دینے کے لیے رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

      درخواست گزار نے استدعا کی ہے کہ مرکز اور ریاستوں کو تعلیمی اداروں کے لیے ڈریس کوڈ کو لاگو کرنے کے لیے ہدایات جاری کی جائیں۔ یہ ذات پرستی، فرقہ پرستی کے سب سے بڑے خطرے کو کم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ اس سے طلباء میں برابری کا احساس پیدا ہوگا، کیونکہ اسکول ایسی جگہیں ہیں جہاں کسی قسم کا امتیاز نہیں ہونا چاہیے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: