ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں وکشمیر میں نہیں ہوگی ڈیموگرافی تبدیل، الطاف بخاری نے وزیر اعظم مودی سے متعلق کہی یہ بڑی بات

جموں وکشمیر کے مستقبل کے حوالے سے وزیر اعظم مودی سے ملاقات میں شریک اپنی پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر الطاف بخاری نے نیوز 18 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم وزیراعظم کے شکرگزار ہیں کہ انھوں نے اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ آبادیاتی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔

  • Share this:
جموں وکشمیر میں نہیں ہوگی ڈیموگرافی تبدیل، الطاف بخاری نے وزیر اعظم مودی سے متعلق کہی یہ بڑی بات
جموں وکشمیر میں نہیں ہوگی ڈیموگرافی تبدیل

نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی کے ذریعہ ریاست جموں وکشمیرکے سیاسی رہنماﺅں کے اجلاس کے بعد اہم سوال یہ پیدا ہو رہا ہے کہ آخر اس میٹنگ سے کیا توقعات وابستہ کی جائیں اور اس میٹنگ سے کشمیر کے مستقبل کے لئے کیا خاکہ تیار ہو رہا ہے۔ جمعرات کو ہوئی میٹنگ کے بعد اس میں شامل رہے لیڈران نئی توقعات اورامیدوں کے پر لگاتے نظر آرہے ہیں۔ ان لیڈران میں شامل جموں و کشمیر کے مستقبل کے حوالے سے وزیر اعظم مودی سے ملاقات میں شریک اپنی پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر الطاف بخاری نے نیوز 18 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم وزیراعظم کے شکرگزار ہیں کہ انھوں نے اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ آبادیاتی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔


الطاف بخاری نے کہا کہ 5 اگست 2019 کو اٹھائے گئے اس قدم سے متعلق لوگوں میں ناراضگی ہے، جس طرح سے اسے مرکزی خطے میں تبدیل کردیا گیا، لوگ بھی اپنی شناخت کھو جانے کا اندیشہ رکھتے تھے اور وہیں یہ بھی ایک تشویش تھی کہ یہاں آبادیاتی تبدیلی آئے گی، لیکن میں وزیر اعظم کا شکر گزار ہوں، جب ہم 14 مارچ 2020 کو آئے تو وزیر اعظم نے اس وقت بھی واضح کیا اور کل بھی کوئی آبادیاتی تبدیلی نہیں ہوگی۔ الطاف بخاری نے کہا کہ وزیر اعظم اور وزیرداخلہ نے وعدہ کیا کہ ہم مکمل ریاست کے لئے پُرعزم ہیں۔ الطاف بخاری نے جموں وکشمیر میں لداخ کی شمولیت کے سوال پرکہا کہ وزیر اعظم نے مکمل ریاست کے نقطہ نظر کا اعادہ کیا، لیکن آج یہ کہنا مشکل ہے کہ اس کا خاکہ کیا ہوگا۔ الطاف بخاری نے کہا کہ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم سڑکوں پر آکرمکمل ریاست کے درجہ کو لے سکتے ہیں، جو کرنا ہے مرکزی حکومت کو کرنا ہے۔


الطاف بخاری نے کہا کہ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم سڑکوں پر آکرمکمل ریاست کے درجہ کو لے سکتے ہیں، جو کرنا ہے مرکزی حکومت کو کرنا ہے۔
الطاف بخاری نے کہا کہ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم سڑکوں پر آکرمکمل ریاست کے درجہ کو لے سکتے ہیں، جو کرنا ہے مرکزی حکومت کو کرنا ہے۔


نومبر یا فروری میں ہوسکتے ہیں انتخابات

الطاف بخاری نے کہا کہ وزیر اعظم کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں وزیر اعظم نے ریاست میں جمہوریت کے زمین پر اترنے کا روڈ میپ دیا ہے۔ گرچہ ہم چاہتے تھےکہ اس وقت حد بندی نہیں کی جانی چاہئے، لیکن وزیر اعظم نے کہا کہ ریاست کی تنظیم نو اب ہوچکی ہے، لہٰذا حد بندی کرنی ہوگی، لیکن میرے خیال میں نومبر تک انتخابات ہوسکتے ہیں۔ یا فروری میں آئندہ سال الیکشن ہوسکتے ہیں۔ الطاف بخاری نے کہا، ہم نئی حدبندی میں حصہ لیں گے اور انتخابات میں بھی شامل ہوں گے۔ الطاف بخاری نے کہا کہ کوئی بھی اس سے انکار نہیں کرتا ہے، جو کچھ دو سال قبل پانچ اگست ہوا وہ غلط تھا اور جس طرح کے اقدامات کئے گئے، اس سے ریاست کے عوام کو شدید تشویش لاحق ہوئی ہے۔

ریاست کے نوجوانوں کیلئے روزگار کوآئینی تحفظ ملے 

الطاف بخاری نے کہا کہ لوگ 370 ختم ہونے کے بعد پریشان تھے، ہمارے بچوں کو نوکری نہیں ملے گی، اس کے لئے ہم نے پہلا قدم اٹھایا کہ ایسے قوانین بنوائے، جس سے ہمارے نوجوانوں کو روزگار میں تحفظ حاصل ہو، لیکن ہم نے کل کہا تھا کہ ان قوانین کو آئینی تحفظ انہیں دیا جائے، ہم نے درخواست کی کہ جلد از جلد مکمل ریاست کے درجہ کو بحال کیا جائے، اس کے علاوہ علاقائی امور کے بارے میں بھی بات چیت ہوئی۔ الطاف بخاری نے کہا کہ اعتماد بحالی کیلئے بہت کچھ کیاجانا ہے کیونکہ موجودہ وقت میں انظامیہ اور عوام کے درمیان بہت فاصلہ ہے۔ حالانکہ اس کا بہترین روڈ میپ ہے کہ انتخابات ہوں۔ نوجوانوں کے بارے میں بات کی گئی کہ 10 لاکھ نوجوان بے روزگار ہیں، جو گریجویٹ بھی ہیں۔

پاکستان سے نہیں ہمارے معاملات نئی دہلی سے وابستہ

الطاف بخاری نے پاکستان کے سوال پر کہا، ہمارا معاملہ ہندوستانی حکومت کے ساتھ ہے، نئی دہلی کے ساتھ ہے، پاکستان، امریکہ، واشنگٹن کے بارے میں بات کرنا ٹھیک نہیں ہے، یہ ہندوستانی حکومت اور خارجہ پالیسی کا معاملہ ہے، اس میں ریاست کا کوئی کردار نہیں حالانکہ پڑوسیوں کے ساتھ بہتر تعلقات یہ بھارت کی پالیسی رہی ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jun 26, 2021 01:25 PM IST