ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

CAA Protest : سپریم کورٹ نے کہا : احتجاج کرنے کے حق پر ہمیشہ لاگو ہونے والا کوئی قانون نہیں ہوسکتا

سپریم کورٹ نے پیر کو کہا کہ احتجاج کرنے کے حق کے معاملہ میں کوئی یونیورسل پالیسی نہیں ہوسکتی ہے اور حالات کے حساب سے توازن بنائے رکھنے کیلئے سڑکیں بلاک کرنی جیسی سرگرمیوں پر لگام لگانے جیسی متوازن کارروائی ضروری ہے ۔

  • Share this:
CAA Protest : سپریم کورٹ نے کہا : احتجاج کرنے کے حق پر ہمیشہ لاگو ہونے والا کوئی قانون نہیں ہوسکتا
سپریم کورٹ نے کہا : احتجاج کرنے کے حق پر ہمیشہ لاگو ہونے والا کوئی قانون نہیں ہوسکتا

سپریم کورٹ نے پیر کو کہا کہ احتجاج کرنے کے حق کے معاملہ میں کوئی یونیورسل پالیسی نہیں ہوسکتی ہے اور حالات کے حساب سے توازن بنائے رکھنے کیلئے سڑکیں بلاک کرنی جیسی سرگرمیوں پر لگام لگانے جیسی متوازن کارروائی ضروری ہے ۔ عدالت عظمی ے راجدھانی دہلی کے شاہین باغ میں گزشتہ سال دسمبر میں شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت میں سڑک بلاک کئے جانے کے خلاف عرضی پر سماعت کرتے ہوئے یہ تبصرہ کیا ۔ عدالت نے کہا کہ اس معاملہ میں فیصلہ بعد میں سنایا جائے گا ۔


جسٹس سنجے کشن کول ، جسٹس انیرودھ بوس اور جسٹس کرشن مراری کی بینچ نے کہا کہ کچھ غیر متوقع حالات نے اس میں اہم کردار ادا کیا اور یہ کسی کے ہاتھ میں نہیں تھا ۔ بھگوان نے خود ہی اس میں مداخلت کی ۔ ششانک دیو سودھی سمیت مختلف وکیلوں کی دلیلوں کا نوٹس لیتے ہوئے بینچ نے کہا : ہمیں احتجاج کرنے کے حق اور سڑکیں بلاک کرنے میں توازن بنانا ہوگا ، ہمیں اس معاملہ پر غور کرنا ہوگا ، اس کیلئے کوئی یونیورسل پالیسی نہیں ہوسکتی ۔ کیونکہ معاملہ در معاملہ حالات الگ الگ ہو سکتے ہیں ۔


بینچ نے کہا کہ پارلیمانی جمہوریت میں پارلیمنٹ اور سڑکوں پر احتجاج ہوسکتا ہے ، لیکن سڑکوں پر اس کو پرامن رکھنا ہوگا ۔ اس پریشانی کو لے کر عرضی دائر کرے والے وکیلوں میں سے ایک امت ساہنی نے کہا کہ مفاد عامہ کو دھیان میں رکھتے ہوئے اس طرح کے احتجاج کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے ۔


انہوں نے کہا کہ اس کو 100 دن سے بھی زیادہ چلنے دیا گیا اور لوگوں کو اس سے بہت تکلیفیں ہوئیں ، اس طرح کے واقعات نہیں ہونے چاہئیں ۔ ہریانہ میں کل چکہ جام تھا ۔ انہوں نے 24 ، 25 ستمبر کو بھارت بند کی بھی اپیل کی ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Sep 21, 2020 11:51 PM IST