உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    UP Election Result 2022: بی جے پی کو لگا بڑا جھٹکا، نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ سراتھو سے الیکشن ہارے

    یوپی اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ کوشامبی کی سراتھو اسمبلی سیٹ کی ووٹنگ پوری ہوگئی ہے۔ اس سیٹ پر یوپی کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ سماجوادی پارٹی کی پلوی پٹیل نے اس سیٹ پر 7337 ووٹ سے جیت درج کی ہے۔

    یوپی اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ کوشامبی کی سراتھو اسمبلی سیٹ کی ووٹنگ پوری ہوگئی ہے۔ اس سیٹ پر یوپی کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ سماجوادی پارٹی کی پلوی پٹیل نے اس سیٹ پر 7337 ووٹ سے جیت درج کی ہے۔

    یوپی اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ کوشامبی کی سراتھو اسمبلی سیٹ کی ووٹنگ پوری ہوگئی ہے۔ اس سیٹ پر یوپی کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ سماجوادی پارٹی کی پلوی پٹیل نے اس سیٹ پر 7337 ووٹ سے جیت درج کی ہے۔

    • Share this:
      کوشامبی: یوپی اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ کوشامبی کی سراتھو اسمبلی سیٹ کی ووٹنگ پوری ہوگئی ہے۔ اس سیٹ پر یوپی کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ سماجوادی پارٹی کی پلوی پٹیل نے اس سیٹ پر 7337 ووٹ سے جیت درج کی ہے۔ پلوی پٹیل کو 105559 ووٹ ملے ہیں جبکہ بی جے پی کے کیشو پرساد موریہ (98727) کو شکست ملی ہے۔

      وہیں سماجوادی پارٹی کے ہاتھوں ملی شکست کے بعد کیشو پرساد موریہ نے ٹوئٹ کیا ہے۔ انہوں نے لکھا، ’سراتھو اسمبلی حلقہ کی عوام کے فیصلے کو عاجزی کے ساتھ قبول کرتا ہوں۔ ایک ایک کارکن کی محنت کے لئے مشکور ہوں۔ میں ان رائے دہندگان کا شکریہ ادا کرتا ہوں، جنہوں نے ووٹ کی شکل میں برکت دی۔


      واضح رہے کہ اترپردیش کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ نے 2017 میں اسمبلی الیکشن نہیں لڑا تھا، لیکن اس بار وہ کوشامبی ضلع کی سراتھو (Sirathu Kaushambi) سیٹ سے انتخابی میدان میں تھے۔ سیاست میں آنے کے بعد کیشو پرساد موریہ نے پہلا الیکشن 2004 میں الہ آباد کے مافیا ڈان اور سابق رکن پارلیمنٹ عتیق احمد کی اثر والی سیٹ الہ آباد مغرب سے لڑا تھا۔ حالانکہ سال 2004 اور 2007 میں انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے بعد کیشو پرساد موریہ نے 2012 کے الیکشن میں کوشامبی کی سراتھو سیٹ سے قسمت آزمائی کی اور انہوں نے اس سیٹ پر پہلی بار کمل بھی کھلایا۔  2014 میں لوک سبھا کا الیکشن لڑا اور پھولپور سے رکن پارلیمنٹ بھی بنے۔ اس کے بعد ریاست میں پارٹی صدر کے طور پر کام کیا۔ کیشو پرساد موریہ کی تنظیمی صلاحیت ہی تھی کہ ریاستی صدر رہتے ہوئے تمام پسماندہ طبقات کو بی جے پی کے لئے متحد کیا اور سال 2017 اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو ریاست میں زبردست جیت حاصل ہوئی تھی۔


      یہ بھی پڑھیں۔


      وزیراعظم مودی نے کہا ’غریب کے گھر تک اس کا حق پہنچائے بغیرخاموش نہیں بیٹھوں گا‘


      یہ بھی پڑھیں۔


      یوگی کی دوبارہ آمد سے پہلے بی جے پی کارکنان نے بُک کرایا منور رانا کا ٹرین ٹکٹ


      ریاست میں سڑکوں کا جال بچھانے کا کام کیا


      بی جے پی کی جیت کے بعد کیشو پرساد موریہ کے وزیراعلیٰ بننے کی قیاس آرائی بھی کافی زوروں پر رہی۔ مگر بعد میں یوگی حکومت میں کیشو پرساد موریہ نائب وزیر اعلیٰ اور پی ڈبلیو ڈی وزیر بنے۔ پورے ملک میں سڑکوں کا جال بچھانے کا کام اسی محکمہ کے پاس تھا۔ سڑکیں گڈھے سے پاک ہوپائیں، اس کے جواب میں کیشو پرساد موریہ کہتے ہیں کہ ہم نے سبھی ہیڈ کوارٹر کو چار لین سڑکوں سے جوڑا، تحصیل تک میں ڈامر والی اور سیمنٹ کی سڑکیں بن گئیں، جہاں پہلے گڈھے ہی گڈھے ہوا کرتے تھے۔ ریاست میں ایک بھی فساد نہیں ہوا۔ بی جے پی حکومت میں لا اینڈ آرڈر کیسی تھی یہ بات آپ یہاں موجود کسی بھی خاتون سے پوچھ کردیکھیں۔ اس کا ثبوت ہمیں ووٹنگ کے دوران بھی دیکھنے کو ملا، جس میں نصف آبادی نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔


      Published by:Nisar Ahmad
      First published: