ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

سی اے اے مخالف لکھنو احتجاج کا سمٹتا دائرہ ، دلت خواتین سے شامل ہونے کی اپیل

معروف سماجی کارکن سمیہ رانا کہتی ہیں کہ ہمارے حوصلے بلند ہیں ، ہم تعداد پر منحصر نہیں ہیں ۔ یہ لڑائی اس وقت تک جاری رکھی جائے گی جب تک حکومت انصاف کی راہیں ہموار نہیں کرتی ۔

  • Share this:
سی اے اے مخالف لکھنو احتجاج کا سمٹتا دائرہ ، دلت خواتین سے شامل ہونے کی اپیل
لکھنو احتجاج کا سمٹتا دائرہ ، دلت خواتین سے شامل ہونے کی اپیل

لکھنئو کے گھنٹہ گھر پر مظاہرہ کررہی خواتین نے دلت خواتین سے مظاہرے میں شامل ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ سی اے اے اور این آر سی کا سب سے زیادہ نقصان دلتوں ، مسلمانوں اور سماج کے کمزور طبقوں کو جھیلنا پڑے گا ۔ لہٰذا انہیں این آر سی کے خلاف جاری مظاہروں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے ۔ دیکھا یہ جارہا ہے کہ گزرتے وقت کے ساتھ دھرنا اور مظاہرہ کررہی خواتین کی تعدداد خاصی کم ہوگئی ہے ۔ اسباب بہت سے ہیں جو وضاحت طلب ہیں ، لیکن یہ حقیقت ہے کہ تعداد کم ہونے کے بعد بھی لوگوں کی فکر تبدیل نہیں ہوئی ہے ۔ جذبے اور حوصلے وہی ہیں جو پہلے دن تھے ۔

جب اس سلسلہ میں مظاہرین سے بات کی گئی تو انہوں نے یہی جواب دیا ہےکہ تعداد کبھی بھی اہمیت کی حامل نہیں رہی ہے ۔ دیکھنا یہ چاہئے کہ صدق دل سے لوگوں اور ملک کے مفاد میں کتنے لوگ کام کررہے ہیں ۔ لکھنئو کے گھنٹہ گھر پر ہزاروں کی تعداد اب سمٹ کر سیکڑوں میں رہ گئی ہے اور اب نعروں اور ترانوں میں پہلے جیسا جوش وخروش بھی نظر نہیں آرہاہے ۔ حالانکہ آنکھیں اس بات کی گواہی دیتی ہیں ، لیکن وہ خواتین جو اس مظاہرے کو کسی بھی سطح پر کمزور نہیں پڑنے دینا چاہتیں وہ یہی کہتی ہیں کہ تعداد گھٹتی بڑھتی رہتی ہے ۔ امرین فاطمہ کے مطابق بچوں کے امتحانات چل رہے ہیں ، لہٰذا خواتین مصروف ہوگئی ہیں ، اس لئے منظر تھوڑا تبدیل نظر آتاہے ۔ رقیہ فاطمہ کہتی ہیں کہ گرمی بڑھنے لگی ہے ، لہٰذا دوپہر بارہ بجے سے چار بجے تک یہ تعداد متاثر ہوتی ہے ۔ شام کے وقف خاصی تعداد میں خواتین آکر سی اے اے اور این آر سی کی مخالفت میں اسی طرح آوازیں بلند کرتی ہیں ، جیسے پہلے کی جارہی تھیں ۔

یہاں یہ بات بہت اہم ہے کہ اس احتجاج میں یوں تو سبھی طبقوں اور مذہبوں کی خواتین شریک ہوتی رہی ہیں ، لیکن کثیر تعداد مسلم خواتین کی ہی رہی ہے ۔ بھیم آرمی کے سربراہ چندر شیکھر کی لکھنئو آمد پر ان سے بھی یہ سوال کیا گیا تھا کہ آخر دلتوں نے ان احتجاجوں میں اس انداز سے شرکت کیوں نہیں کی ، جیسی امید کی جارہی تھی ۔ مظاہرین خواتین یہ بھی مانتی ہیں کہ سکھوں کی شمولیت پر ناز ہے ۔ سکھ طبقے کے لوگوں نے اس بات کا احساس کیا کہ آنے والے وقت میں ملک کی اقلیتوں کے ساتھ کیا سلوک کیاجاسکتا ہے ۔ لہٰذا انہوں نے ہر شہر ہر محاذ پر احتجاجوں اور مظاہروں کو استحکام بخشتے ہوئے ملک کے آئین ودستور کے تحفظ کے لئے آوازیں بلند کی ہیں ۔

معروف سماجی کارکن سمیہ رانا کہتی ہیں کہ ہمارے حوصلے بلند ہیں ، ہم تعداد پر منحصر نہیں ہیں ۔ یہ لڑائی اس وقت تک جاری رکھی جائے گی جب تک حکومت انصاف کی راہیں ہموار نہیں کرتی ۔ اگر دھرنے کے مقام پر ایک بھی عورت نہیں رہے گی ، تو بھی وہ اکیلی اس مشن کو جاری رکھیں گی ۔

احتجاج کا سمٹتا دائرہ جو پیغام دے رہا ہے اسے بھلے ہی لفظوں میں بیان نہ کیا جا رہا ہو ، لیکن محسوس کیا جاسکتا ہے ۔ منفی سیاست، بدلتے موسم کا اثر، وسائل کی کمی اور کہیں نہ کہیں حکومت کی خاموشی اور شر پسند عناصر کی چیخ وپکار سے مظاہرین کی افسردگی ومایوسی، لیکن سچائی یہ بھی ہے کہ اس احتجاج کو بھی صرف مسلمانوں سے منسلک کرنے میں سیاست کامیاب نظرآتی ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے یہ سماج کے سبھی دبے کچلے اور کمزور لوگوں کا نہیں بلکہ مسلمانوں کا احتجاج ہو ۔

First published: Mar 03, 2020 10:16 PM IST