உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Madhya Pradesh: اہانت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں برہانپور کے دیوراج ٹھاکرگرفتار

    مدھیہ پردیش کے برہان پور میں اہانت رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ دیو راج ٹھاکرکے ذریعہ انسٹا گرام پر قابل اعتراض پوسٹ ڈالنے کے بعد برہان پور میں مسلم سماج میں سخت ناراضگی پائی گئی اور پورے شہرکے مسلمانوں نے اپنی شدید ناراضگی کا اظہارکرتے ہوئے گھیراؤ کرتے ہوئے دیوراج ٹھاکر کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا۔

    مدھیہ پردیش کے برہان پور میں اہانت رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ دیو راج ٹھاکرکے ذریعہ انسٹا گرام پر قابل اعتراض پوسٹ ڈالنے کے بعد برہان پور میں مسلم سماج میں سخت ناراضگی پائی گئی اور پورے شہرکے مسلمانوں نے اپنی شدید ناراضگی کا اظہارکرتے ہوئے گھیراؤ کرتے ہوئے دیوراج ٹھاکر کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا۔

    مدھیہ پردیش کے برہان پور میں اہانت رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ دیو راج ٹھاکرکے ذریعہ انسٹا گرام پر قابل اعتراض پوسٹ ڈالنے کے بعد برہان پور میں مسلم سماج میں سخت ناراضگی پائی گئی اور پورے شہرکے مسلمانوں نے اپنی شدید ناراضگی کا اظہارکرتے ہوئے گھیراؤ کرتے ہوئے دیوراج ٹھاکر کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا۔

    • Share this:
    بھوپال: مدھیہ پردیش کے برہان پور میں اہانت رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ دیو راج ٹھاکرکے ذریعہ انسٹا گرام پر قابل اعتراض پوسٹ ڈالنے کے بعد برہان پور میں مسلم سماج میں سخت ناراضگی پائی گئی اور پورے شہرکے مسلمانوں نے اپنی شدید ناراضگی ظاہرکرتے ہوئے دیوراج ٹھاکرکے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ مسلم سماج کی سخت برہمی کو دیکھتے ہوئے پولیس نے 6 گھنٹے کے اندر دیوراج ٹھاکر کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا ہے۔
    واضح رہے کہ دیوراج ٹھاکر ولد یوگیش ٹھاکر، عمر 20 سال، لال باگ برہانپور، حال مقیم اندور کے ذریعہ نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے متعلق کل قابل اعتراض پوسٹ انسٹاگرام پر ڈالی تھی، جس کی شکایت سید رفیق، گاندھی چوک برہانپور کے ذریعہ کوتوالی تھانہ برہانپور میں کی گئی تھی۔ معاملہ مذہبی جذبات کو مجروح کرنے اور نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کی اہانت سے وابسہ تھا، جس کی تحقیق محکمہ پولیس کے ذریعہ کی گئی اور شکایت صحیح پائے جانے پر فوری کارروائی کی گئی۔ دیوراج ٹھاکرکی گرفتاری کے بعد برہانپور میں حالات پُر امن ہیں، لیکن محکمہ پولیس کے ذریعہ شہر میں اضافی پولیس کو تعینات کرنے کے ساتھ پولیس کی گشت کو تیزکردیا گیا ہے۔
    شاہی جامع مسجد برہانپورکے پیش امام سید اکرام اللہ بخاری کہتے ہیں کہ شہرکے اندر جو معاملہ پیش آیا ہے، وہ انتہائی افسوسناک ہے۔ اس معاملے میں سبھی کے دل دکھے ہیں، بے انتہا افسوس ہے۔ یہ کوئی چھوٹا معاملہ نہیں ہے اور سب کی یہی خواہش ہے کہ اس میں سخت ترین کاروائی ہونی چاہئے۔ اگر سخت ترین کارروائی نہیں ہوگی، تو ایسے معاملے ہوتے رہیں گے۔ میری گزارش ہے کہ حکومت اور انتظامیہ کے لوگ اس معاملے کو بہت سنجیدگی سے لیں اور شہرکے امن وسکون اوربھائی چارہ کی جانب بھی دھیان دیں۔ احتجاج میں احتیاط لازم ہے۔ اسلام کہیں بھی اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ اس میں کوئی ایسا قدم اٹھایا جائے، جس سے اجتماعی تکلیف ہو۔ میں تمام لوگوں اور مسلم بھائیوں سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ سنجیدگی اختیارکریں۔ جذبات میں نہ آئیں اور ہم بھی یہ کوشش کر رہے ہیں کہ جس نے قابل اعتراض پوسٹ ڈالی ہے، اس پرسخت ترین کارروائی کی جائے۔
    وہیں مدھیہ پردیش جمیعت علما کے صدر حاجی محمد ہارون کہتے ہیں کہ اہانت رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں صرف گرفتاری کرلینا ہی کافی نہیں ہے۔ ایسے لوگ جو مذہبی جذبات بھڑکاتے ہیں، بے بنیاد پوسٹ ڈالتے ہیں ان کے خلاف سخت کاروائی کی جانی چاہئے۔ اسی کے ساتھ ہم حکومت ہند سے اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ایک ایسا قانون بنائے، جس سے کوئی بھی شخص کسی بھی مذہب کے مذہبی رہنما کے خلاف اہانت نہ کر سکے۔ شری رام جی ہو، شری کرشن جی ہوں، مہاویرجین جی ہوں، گوتم بدھ جی ہوں، گرو نانک جی ہوں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہوں، حضرت موسیٰ علیہ السلام ہوں یا پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس ہو، اگرکوئی ان کے خلاف اہانت آمیز پوسٹ ڈالتا ہے تو اس کو پھانسی کی سزا دی جانی چاہئے۔

    اس سلسلہ میں جب برہانپور کے ایس پی راہل لوڈھا سے نیوز ایٹین نے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے دیوراج ٹھاکر نامی شخص کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ یہ گرفتاری 153A اور دفعہ 308 کے تحت کی گئی ہے۔ شہر میں حالات پُرامن ہیں۔ احتیاط کے طور پر پولیس فورس کو تعینات کیا گیا ہے اور پولیس کی گشت کو تیزکردیا گیا ہے۔ ساتھ ہی شہرکے تمام لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پرقابل اعتراض پوسٹ کو نہ ڈالیں اور نہ شیئرکریں۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: