உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کرناٹک میں حجاب کے بعد Tamil Nadu میں دھوتی تنازعہ، مندروں میں ڈریس کوڈ پر مدراس HC نے پوچھا، ’ملک پہلے یا مذہب‘؟

    مدراس ہائی کورٹ (فائل فوٹو)

    مدراس ہائی کورٹ (فائل فوٹو)

    یہ یاد دلاتے ہوئے کہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے، بنچ نے حیرت کا اظہار کیا کہ ڈریس کوڈ پر ڈسپلے بورڈ لگانے کا سوال کیسے پیدا ہوگا جب کوئی خاص لباس کوڈ موجود نہیں ہے۔ ہندوستان کے ایک سیکولر ملک ہونے کا ذکر کرتے ہوئے جسٹس بھنڈاری نے کہا کہ موجودہ تنازعہ سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے، لیکن مذہب کے نام پر ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    • Share this:
      چنئی: کرناٹک(Karnataka) میں جاری حجاب تنازعہ کے درمیان، مدراس ہائی کورٹ (Madras High Court) نے جمعرات کو ملک میں کچھ طاقتوں کے ذریعہ مذہبی منافرت کا ماحول پیدا کرنے پر تشویش اور حیرت ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’قوم یا مذہب‘سب سے اہم کیا ہے۔ قائم مقام چیف جسٹس ایم این بھنڈاری اور جسٹس ڈی بھرت چکرورتی کی بنچ نے کرناٹک میں حجاب تنازعہ(Hijab) پر بحث پر ایک عرضی کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ کچھ طاقتوں نے ’ڈریس کوڈ‘ پر تنازع کھڑا کیا اور یہ پورے ہندوستان میں پھیل رہا ہے۔ بنچ نے کہا کہ یہ واقعی حیران کن ہے کہ کچھ لوگ حجاب کے حق میں ہیں، کچھ لوگ دھوتی یا ٹوپی کے حق میں ہیں اور کچھ دیگر چیزوں کے حق میں ہیں۔

      ہندو مندروں میں صرف ’سناتن دھرم‘کے ماننے والوں کو اجازت دینے جب کہ غیر ہندووں کو مندروں میں داخلے سے روکنے کے لیے حکم دینے کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے کہا کہ سب سے اہم کیا ہے؟ ملک یا مذہب؟ یہ بھی کہا کہ یہ حیران کن ہے کہ کوئی حجاب کے پیچھے جا رہا ہے اور کوئی دھوتی کے پیچھے جا رہا ہے۔ چیف جسٹس منی ایشور ناتھ بھنڈاری اور جسٹس ڈی بھرت چکرورتی کی بنچ نے یہ ریمارکس سری رنگم کی طرف سے ہندو مندروں میں داخلے پر پابندی لگانے کے لیے رنگراجن نرسمہن کی جانب سے دائر درخواستوں کے ایک بیچ پر دیے۔

      غیر ہندووں کے داخلے پر پابندی لگانے کے لئے ڈسپلے بورڈ کی مانگ
      درخواست گزار نے عقیدت مندوں کے لیے سخت ڈریس کوڈ کے نفاذ، ریاست بھر کے مندروں میں غیر ہندوؤں کے داخلے پر پابندی اور مندر کے احاطے میں تجارتی سرگرمیوں پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ مندر کے داخلی دروازے پر ایک ڈسپلے بورڈ ہونا چاہیے تاکہ ڈریس کوڈ اور غیر ہندوؤں کے داخلے پر پابندی ہو۔

      یہ یاد دلاتے ہوئے کہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے، بنچ نے حیرت کا اظہار کیا کہ ڈریس کوڈ پر ڈسپلے بورڈ لگانے کا سوال کیسے پیدا ہوگا جب کوئی خاص لباس کوڈ موجود نہیں ہے۔ ہندوستان کے ایک سیکولر ملک ہونے کا ذکر کرتے ہوئے جسٹس بھنڈاری نے کہا کہ موجودہ تنازعہ سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے، لیکن مذہب کے نام پر ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: