ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کی ویب سائٹ آخردستیاب برائے فروخت کیوں ہوئی؟ 

ملک میں امت مسلمہ کی تنظیموں اور دانشوروں کی نمائندگی کے وفاق آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کو لے کر یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ مسلمان ہند کا وفاق اپنا اعتبار اور ساکھ کھورہا ہے یا کم ازکم وفاق کی ساکھ کو اختلافات کمزور کررہے ہیں۔

  • Share this:
آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کی ویب سائٹ آخردستیاب برائے فروخت کیوں ہوئی؟ 
آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کی ویب سائٹ آخردستیاب برائے فروخت کیوں ہوئی؟ 

نئی دہلی :دہلی اور ملک کے دانشور ان کے درمیان آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کی قدیم ویب سائٹ برائے فروخت دستیاب ہونے کی خبرکو کرب کے ساتھ سنا گیا اور افسوس کا اظہار بھی کیا گیا تاہم جس طرح کے الزامات اور جوابی الزامات سامنے آئے ہیں۔ ان حالات میں ملک میں امت مسلمہ کی تنظیموں اور دانشوروں کی نمائندگی کے وفاق آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کو لے کر یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ مسلمان ہند کا وفاق اپنا اعتبار اور ساکھ کھورہا ہے یا کم ازکم وفاق کی ساکھ کو اختلافات کمزور کررہے ہیں۔


ویب سائٹ کے برائے فروخت ہونے کی وجہ سے بتایا جا رہا تھا کہ اس ویب سائٹ کا ڈومین ختم ہوجانے سے بڑا نقصان ہوا۔
ویب سائٹ کے برائے فروخت ہونے کی وجہ سے بتایا جا رہا تھا کہ اس ویب سائٹ کا ڈومین ختم ہوجانے سے بڑا نقصان ہوا۔


ویب سائٹ کے برائے فروخت ہونے کی وجہ سے بتایا جا رہا تھا کہ اس ویب سائٹ کا ڈومین ختم ہوجانے سے بڑا نقصان ہوا کیونکہ اس میں مشاورت کی روز مرہ کی کارکردگی کے علاوہ ملی سرگرمیوں کا ایک معتدبہ معلومات موجود تھی۔ اس ویب سائٹ میں "مشاورت بلیٹین"سمیت"مسلم انڈیا" کی پرانی فائلیں بھی موجود تھیں، تاہم نیوز 18اردو نے جب اس معاملہ میں موجودہ صدر نوید حامد رابطہ کیا تو انھوں نے بتایا کہ سال 2013سے پرانی ویب سائٹ کام نہیں کررہی تھی اور انہوں نے 8 ماہ تک ویب سائٹ کا پاسورڈ حاصل کرنے کی کوشش کی، تاہم سابق صدر ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کے ذریعہ وہ پاسورڈ نہیں دیا گیا۔


 نوید حامد نے کہا کہ سال 2016میں نئی ویب سائٹ شروع کی گئی تھی اور گزشتہ سال تک وہ کام کررہی تھی، لیکن ویب سائٹ کا تجربہ کچھ اچھا نہیں رہا اور تین سالوں میں صرف 300 افراد نے ہی ویب سائٹ پر وزٹ کیا۔

نوید حامد نے کہا کہ سال 2016میں نئی ویب سائٹ شروع کی گئی تھی اور گزشتہ سال تک وہ کام کررہی تھی، لیکن ویب سائٹ کا تجربہ کچھ اچھا نہیں رہا اور تین سالوں میں صرف 300 افراد نے ہی ویب سائٹ پر وزٹ کیا۔


نوید حامد نے کہا کہ سال 2016میں نئی ویب سائٹ شروع کی گئی تھی اور گزشتہ سال تک وہ کام کررہی تھی، لیکن ویب سائٹ کا تجربہ کچھ اچھا نہیں رہا اور تین سالوں میں صرف 300 افراد نے ہی ویب سائٹ پر وزٹ کیا۔ نوید حامد نےکہا کہ سال 2002 تک مسلم انڈیا جس کو سید شہاب الدین شائع کیا کرتے تھے، مسلم انڈیا کا کبھی بھی ڈیجیٹل ایڈیشن نہیں رہا، اس لئے کچھ بھی ضائع نہیں ہوا ہے۔ مسلم انڈیا سید شہاب الدین کا ذاتی سرمایہ ہے، وہ ابھی بھی مشاورت کے دفتر میں موجود ہے، لیکن وہ مشاورت کی ملکیت نہیں ہے۔ نوید حامد نے کہا جب ہم پرانی ویب سائٹ کا پاس ورڈ حاصل کرنے میں ناکام رہے تو ہم نے ایک نئی ویب بنانے کا منصوبہ بنایا اور مشاورت ڈاٹ کام کے نام سے ایک دیگر ڈومین لیا۔ تاہم فنڈ کی قلت کی وجہ سے اسے بحال نہیں کر سکے۔ نوید حامد نے کہا کہ 2016 سے پہلے کا کوئی بھی دستاویز ہمارے پاس نہیں ہے۔ بلکہ سابق صدر ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کے پاس ہے۔

ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے کہا کہ ویب سائٹ کا معاملہ بہت ہی چھوٹی نوعیت کا ہے، لیکن مشاورت میں کافی کچھ ٹھیک نہیں ہے۔
ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے کہا کہ ویب سائٹ کا معاملہ بہت ہی چھوٹی نوعیت کا ہے، لیکن مشاورت میں کافی کچھ ٹھیک نہیں ہے۔


دوسری جانب ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے کہا موجودہ صدر غلط بیانی کر رہے ہیں۔ مشاورت کا اسٹاف ہی ویب سائٹ چلاتا تھا اور کبھی بھی پاسورڈ ان کے پاس نہیں رہا، جو شخص ویب سائٹ چلاتے تھے، ان کو مشاورت سے موجودہ صدر کے ذریعہ نکالا جاچکا ہے۔ ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے کہا کہ ویب سائٹ کا معاملہ بہت ہی چھوٹی نوعیت کا ہے، لیکن مشاورت میں کافی کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ موجودہ صدر نوید حامد کی مدت کار ختم ہوچکی ہے، لیکن وہ الیکشن نہیں کرا رہے ہیں۔ ہم نے جنرل باڈی میٹنگ بلانے کے لئے بھی لیٹر لکھا، لیکن جنرل باڈی میٹنگ نہیں بلائی جارہی ہے۔ مشاورت کی ممبرشپ کو بھی بہت زیادہ لوگوں کو دے دیا گیا ہے۔ غورطلب ہے کہ موجودہ وقت میں مشاورت کے اراکین کی تعداد 192 ہے جبکہ ماضی میں ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کی مدت کار کے وقت یہ تعداد 156 تھی اور بتایا جاتا ہےکہ اس سے قبل یہ تعداد محض 72ہی تھی۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Mar 31, 2021 11:42 PM IST