ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش میں دلت رائے دہندگان سے دوری بی جے پی اور کانگریس کے لئے بنا سردرد

مدھیہ پردیش میں سیاست کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ سیاست جاری رہنے کے پیچھے سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اسمبلی کی 26 سیٹوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں 18 نشستیں ایسی ہیں، جہاں پر دلت اور پسماندہ طبقات کے ووٹ ہی کسی امیدوار کی قسمت کا فیصلہ کرتے ہیں۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش میں دلت رائے دہندگان سے دوری بی جے پی اور کانگریس کے لئے بنا سردرد
مدھیہ پردیش میں دلت ووٹ سے ہوتی دوری بی جے پی اور کانگریس کے لئے بنا سردرد

بھوپال: مدھیہ پردیش کےگنا میں دلت کسان کے ساتھ دبنگوں کے دباؤ میں کی گئی پولیس زیادتی بی جے پی اور کانگریس دونوں کے لئے سر درد بنی ہوئی ہے۔ حالانکہ اس معاملے میں سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد صوبائی حکومت نے پہلے کلکٹر اور ایس پی کا تبادلہ کیا اس کے بعد 6 پولیس اہلکاروں کو معطل کرنےکا حکم تو جاری کردیا ہے، اس کے باوجود مدھیہ پردیش میں سیاست کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ سیاست جاری رہنے کے پیچھے سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اسمبلی کی 26 سیٹوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں 18 نشستیں ایسی ہیں، جہاں پر دلت اور پسماندہ طبقات کے ووٹ ہی کسی امیدوار کی قسمت کا فیصلہ کرتے ہیں۔ مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا کہتے ہیں گنا کا واقعہ افسوسناک ہے اور جیسے ہی ہمیں جانکاری ملی، ہم نے فوراً اس پر ایکشن لیا ہے۔ مدھیہ پردیش میں قانون کا راج ہےجو بھی لا پرواہی کرے گا اس کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔ جب کاروائی کی جا چکی ہے تب کچھ لوگ بیدار ہوئے ہیں اور دہلی سے لےکر مدھیہ پردیش تک ٹویٹر پر بیٹھ کرسیاست کرتے ہیں۔ کانگریس نے ہمیشہ کسانوں، غریبوں اور دلتوں کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ غریبی ہٹاؤ کا نعرہ دے کر برسوں تک حکومت قائم ہوتی رہی اور ملک میں غریبی بڑھتی چلی گئی اور اب عوام بیدار ہوچکے ہیں اور کانگریس کے دھوکہ کو جاننے لگے ہیں تو کانگریس انہیں ساتھ رکھنے کا ڈھونگ کررہی ہے۔ گنا میں کانگریس نے جو جانچ ٹیم بھیجی ہے ہمیں پہلے سے  معلوم ہےکہ اس رپورٹ میں کیا ہوگا۔


مدھیہ پردیش کےگنا میں دلت کسان کے ساتھ دبنگوں کے دباؤ میں کی گئی پولیس زیادتی بی جے پی اور کانگریس دونوں کے لئے سر درد بنی ہوئی ہے۔
مدھیہ پردیش کےگنا میں دلت کسان کے ساتھ دبنگوں کے دباؤ میں کی گئی پولیس زیادتی بی جے پی اور کانگریس دونوں کے لئے سر درد بنی ہوئی ہے۔


واضح رہے کہ گنا میں پولیس زیادتی کا شکار ہوئے کسان کے اہل خانہ سے ملنے اور پورے معاملے کی تفتیش کے لئے مدھیہ پردیش کانگریس سربراہ کمل ناتھ نے 7 رکنی جانچ ٹیم تشکیل دی تھی۔ جانچ ٹیم نے اپنی رپورٹ مکمل کرکے پی سی سی چیف کمل ناتھ کو پیش کردی ہے۔ جانچ میں پورے معاملے میں پولیس زیادتی اور حکومت کی عدم توجہی کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ وہیں مدھیہ پردیش بی جے پی کے صدر بی ڈی شرما نے گنا معاملے میں  گبو پاردی اور دگ وجے سنگھ کے کنکشن کی جانچ کے لئےخط لکھ کر پورے معاملے کو ایک نیا رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔  بی جے پی کے ریاستی صدر بی ڈی شرما نے گبو پاردی کو نہ صرف کانگریس کا رکن بتایا ہے بلکہ اس کی دگ وجے سنگھ سے کافی نزدیکیاں بتاتے ہوئےگبو پاردی پر 40 مقدموں کے درج ہونے کا بھی ذکر کیا ہے۔


گنا میں پولیس زیادتی کا شکار ہوئے کسان کے اہل خانہ سے ملنے اور پورے معاملے کی تفتیش کے لئے مدھیہ پردیش کانگریس سربراہ کمل ناتھ نے 7 رکنی جانچ ٹیم تشکیل دی تھی۔
گنا میں پولیس زیادتی کا شکار ہوئے کسان کے اہل خانہ سے ملنے اور پورے معاملے کی تفتیش کے لئے مدھیہ پردیش کانگریس سربراہ کمل ناتھ نے 7 رکنی جانچ ٹیم تشکیل دی تھی۔


وہیں سابق سابق وزیر اعلیٰ دگ وجے سنگھ نے ایم پی بی جے پی صدر بی ڈی شرما کے ذریعہ سی ایم شیوراج سنگھ کو لکھے گئے خط کا استقبال کرتے ہوئے گبو پاردی سے اپنے تعلق کی جانچ  بی ڈی شرما سے ہی کرانے کی اپیل کی ہے۔ دگ وجے سنگھ نے سرکار کو گھیرتے ہوئےاپنے ٹوئیٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ اس بات کی بھی جانچ کی جائے کہ آخر قبضہ ہٹانے کی کارروائی 15 سالوں سے کیوں نہیں کی گئی۔
در اصل دونوں پارٹیاں یہاں پر اپنے کو دلتوں کا ہمدرد بتاتے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ صوبہ میں اسمبلی کی 26 سیٹوں پر ضمنی انتخابات ہونا ہے اور دلت ووٹوں کا رجحان کسی بھی پارٹ کو اقتدار تک پہنچا بھی سکتا ہے اور اس کی ذرا سی بھی ناراضگی سیاسی جماعت کو اقتدار سے دور بھی کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی کے راجیہ سبھا رکن جیوترادتیہ سندھیا نے اس معاملے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے متاثرہ دلت کسان سے اپنے نمائندوں کے ذریعہ فون پر بات کی اور انہیں انصاف دلانے کی یقین دہانی کرائی۔

سابق سابق وزیر اعلیٰ دگ وجے سنگھ نے ایم پی بی جے پی صدر بی ڈی شرما کے ذریعہ سی ایم شیوراج سنگھ کو لکھے گئے خط کا استقبال کرتے ہوئے گبو پاردی سے اپنے تعلق کی جانچ بی ڈی شرما سے ہی کرانے کی اپیل کی ہے۔
سابق سابق وزیر اعلیٰ دگ وجے سنگھ نے ایم پی بی جے پی صدر بی ڈی شرما کے ذریعہ سی ایم شیوراج سنگھ کو لکھے گئے خط کا استقبال کرتے ہوئے گبو پاردی سے اپنے تعلق کی جانچ بی ڈی شرما سے ہی کرانے کی اپیل کی ہے۔


واضح رہے کہ گنا جیوترادتیہ سندھیا کا پارلیمانی حلقہ ہے۔ جیوترادتیہ سندھیا گنا پارلیمانی سیٹ سے تین بار رکن پارلیمنٹ بھی رہے ہیں۔ 2019 کے پارلیمانی انتخابات میں انہیں بی جے پی کے ہاتھوں شکست ضرور ہوئی تھی، مگر اب وہ اسی پارٹی کا حصہ ہیں، جس پارٹی کے ہاتھوں ان کی شکست ہوئی تھی۔  جانچ کمیٹی کے رکن اور ایم پی کانگریس کے اہم ترجمان بھوپیندر گپتا کہتے ہیں کہ گبوپاردی ایک عرصے سے وہاں کی سرکاری زمین پر قابض ہے اور اسی کے دباؤ میں آکر پولیس نے دلت کے ساتھ زیادتی کا کام کیا تھا۔ ایسا نہیں ہے کہ پولیس کے تحفظ میں مدھیہ پردیش میں ایسا پہلی بار ہوا ہے بلکہ اس سے پہلے بھی مدھیہ پردیش میں ایسے شرمناک واقعات ہوئے ہیں اور جب سے شیوراج سنگھ کی سرکار آئی ہے، تب سے مدھیہ پردیش جرائم پیشہ عناصر کے لئے شیلٹر ہوم بن گیا ہے۔ وکاس دوبے کو کہیں اور پناہ نہیں ملی بلکہ مدھیہ پردیش میں اسے پناہ ملی۔

 واضح رہے کہ گنا جیوترادتیہ سندھیا کا پارلیمانی حلقہ ہے۔ جیوترادتیہ سندھیا گنا پارلیمانی سیٹ سے تین بار رکن پارلیمنٹ بھی رہے ہیں۔

واضح رہے کہ گنا جیوترادتیہ سندھیا کا پارلیمانی حلقہ ہے۔ جیوترادتیہ سندھیا گنا پارلیمانی سیٹ سے تین بار رکن پارلیمنٹ بھی رہے ہیں۔


گنا میں دلت کسان کے ساتھ پولیس زیادتی کے معاملے پر مدھیہ پردیش انسانی حقوق کمیشن نے بھی سخت موقف احتیار کرتے ہوئے متعلقہ افسران کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تین ہفتےکے اندر جواب طلب کیا ہے۔ مدھیہ پردیش کی تشکیل یکم نومبر 1956 میں ہوئی تھی۔ یہاں پر ابتدا سے لے کر اب تک صوبہ کا اقتدار بی جے پی اور کانگریس کے درمیان ہی منتقل ہوتا رہا ہے۔ یہاں پر کسی تیسری سیاسی جماعت کا کوئی مضبوط وجود نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کے لوگ ان دونوں پارٹیوں کی مفاد پرست سیاست کے بیچ پسنے کو مجبور ہیں۔ جس دن یہاں پر کوئی مضبوط تیسرا متبادل سامنے آجائےگا، اس دن ان دونوں پارٹیوں سے یہاں کے عوام کو نجات مل سکتی ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 18, 2020 09:57 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading