ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

لاک ڈاؤن میں ضلع کلکٹرکی ظلم وزیادتی:نوجوان کوماراتھپڑ،ویڈیو وائرل ہونے کےبعدکیےگئے معطل

اس واقعے کے بعد ڈسٹریٹ کلیکٹر کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جس سے ضلعی کلکٹر رنبیر شرما (Ranbir Sharma) اس حرکت سے معافی مانگنے پر مجبور ہوئے۔ انپوں نے لاک ڈاؤن کے دوران کووڈ۔19 کے حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی کرنے پر اس نوجوان کا فون زمین پر پھینک دیا تھا اور اسے تھپڑ بھی رسید کیا۔اب حکومت نے ان کا تبادلہ کردیاہے۔

  • Share this:
لاک ڈاؤن میں ضلع کلکٹرکی ظلم وزیادتی:نوجوان کوماراتھپڑ،ویڈیو وائرل ہونے کےبعدکیےگئے معطل
لاک ڈاؤن میں ضلع کلکٹر کی ظلم و زیادتی

چھتیس گڑھ کے سورج پور ضلع میں ڈسٹریٹ کلیکٹرکو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے ایک ویڈیو وائرل ہوا تھا، جس میں ڈسٹریٹ کلیکٹر کو ایک نوجوان کے گال پر تھپڑ رسید کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ نوجوان لاک ڈاؤن کے دوران دوائیں خریدنے گیا تھا۔اس واقعے کے بعد ڈسٹریٹ کلیکٹر کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جس سے ضلعی کلکٹر رنبیر شرما (Ranbir Sharma) اس حرکت سے معافی مانگنے پر مجبور ہوئے۔ انھوں نے لاک ڈاؤن کے دوران کووڈ۔19 کے حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی کرنے پر اس نوجوان کا فون زمین پر پھینک دیاتھا اور اسے تھپڑ بھی رسید کیا۔



ویڈیو میں یہ نوجوان،شرما کو ایک کاغذ دکھاتے ہوئے دیکھا جاسکتاہے کہ اس کی وضاحت کے لئے کہ وہ لاک ڈاؤن کے دوران کیوں باہر ہے۔ جواب میں رنبیر شرما، اس کا فون لے کر زمین پر پھینک دیتے ہیں اور پھر اسے تھپڑ مار دیتے ہیں۔ انہوں نے 10 پولیس اہلکاروں سے اس شخص کو کچلنے کے لئے کہا اور اس سے اس کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کو بھی کہا۔سوشل میڈیا پر لوگوں کی جانب سے ناراضگی کا اظہار کیے جانے پر رنبیر شرما نے اس واقعہ پر معافی مانگی۔


وزیر اعلی بھوپش بھاگل (Chief Minister Bhupesh Baghel ) نے صورتحال کا جائزہ لیا اور فوری طور پررنبیر شرما کو ہٹانے کا حکم دیا۔

بگھیل نے اتوار کی صبح ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’’سوشل میڈیا کے ذریعے سورج پور کلکٹر رنبیر شرما کے ذریعہ ایک نوجوان کے ساتھ بد سلوکی کا معاملہ میرے علم میں آیا ہے۔ یہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ چھتیس گڑھ میں ایسی کسی بھی حرکت کو ہر گز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ کلیکٹر رنبیر شرما کو فوری طور پر ہٹانے کے لئے ہدایات دی گئیں ہیں‘‘۔


مرکزی وزارت داخلہ، انٹر اسٹیٹ کونسل سکریٹریٹ کے سکریٹری سنجیو گپتا نے ضلعی کلکٹر کے اس عمل کو "حقیر" اور "آئی اے ایس افسر کی غیرموجودگی" قراردیا۔وہیں آئی اے ایس ایسوسی ایشن نے بھی کلکٹر کے طرز عمل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ "خدمت اور تہذیب کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔"
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: May 23, 2021 05:52 PM IST