ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

شیوراج حکومت کی مشکلیں نہیں ہو رہی ہیں کم، وزراء میں قلمدان تقسیم نہ ہونے سے بیک فٹ پر بی جے پی

حلف برداری تقریب کے ہفتہ بھر گزرنے کے بعد بھی قلمدان وزارت تقسیم نہیں کیا جا سکا۔ شیو راج سنگھ قلمدان وزارت کو لے کر دو دن دہلی میں اعلی قیادت کے بیچ رہے اس کے بعد بھی قلمدان کو لے کر ابھی تک ورک آؤٹ جاری ہے۔

  • Share this:
شیوراج حکومت کی مشکلیں نہیں ہو رہی ہیں کم، وزراء میں قلمدان تقسیم نہ ہونے سے بیک فٹ پر بی جے پی
شیوراج حکومت کی مشکلیں نہیں ہو رہی ہیں کم، وزراء میں قلمدان تقسیم کرنا ٹیڑھی کھیر

بھوپال: مدھیہ پردیش میں جیوترادتیہ سندھیا کی حمایت سے شیوراج سرکار ضرور قائم ہوگئی ہے، لیکن پارٹی کے اندر جاری خلفشار کے سبب شیوراج حکومت کی مشکلیں کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ شیوراج سنگھ کے چوتھی بار وزیر اعلیٰ کا حلف لینے کے ایک مہینے بعد کابینہ کی پہلی توسیع کی گئی اور اس میں صرف پانچ وزراء کو شامل کیا گیا اس کے 72 دن بعد کابینہ کی دوسری توسیع کی گئی اور دوسری توسیع میں 28 وزیروں کو حلف دلائی گئی، لیکن حلف برداری تقریب کے ہفتہ بھر گزرنے کے بعد بھی قلمدان وزارت تقسیم نہیں کیا جا سکا۔ شیو راج سنگھ قلمدان وزارت کو لے کر دو دن دہلی میں اعلی قیادت کے بیچ رہے اس کے بعد بھی قلمدان کو لے کر ابھی تک ورک آؤٹ جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق سندھیا خیمہ کے ساتھ اپنوں کو خوش رکھنا اور سب کو پسند کا قلمدان وزرات تقسیم کرنا شیوراج سنگھ کے لئے ٹیڑھی کھیر بنا ہوا ہے۔ آج ہونے والی کابینہ میٹنگ اسی لئے منسوخ کردی گئی کیونکہ وزراء کے قلمدان اور کام کو لیکر کابینہ میں سوال اٹھ سکتےتھے اور کابینہ میٹنگ ہنگامہ حیز ہوسکتی تھی۔


سینئر کانگریس لیڈر وسابق جی اے ڈی وزیر ڈاکٹرگووند سنگھ نے تو اپنے بیان میں شیوراج سنگھ سے سندھیا حامیوں کو ریوینو محکمہ نہیں دینے کی بھی وکالت کی ہے۔ ڈاکٹر گووند سنگھ کہتے ہیں کہ سندھیا گھرانے کے ذریعہ کے جس طرح سے گوالیار اور آس پاس کے علاقوں میں سرکاری زمین پر قبضہ کیا گیا ہے وہ ایک ریکارڈ ہے اور اس کی جانچ کرکے نہ صرف کارروائی کی جانی چاہئے بلکہ اس کو سرکاری تحویل میں لیا جانا چاہئے۔ گووند سنگھ جہاں حکومت کو دستاویز دینے کی بات کر رہے ہیں وہیں وہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اگر ان کی بات غلط ہو تو ان کے خلاف بھی کاروائی کی جائے۔


مدھیہ پردیش میں جیوترادتیہ سندھیا کی حمایت سے شیوراج سرکار ضرور قائم ہوگئی ہے، لیکن پارٹی کے اندر جاری خلفشار کے سبب شیوراج حکومت کی مشکلیں کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔
مدھیہ پردیش میں جیوترادتیہ سندھیا کی حمایت سے شیوراج سرکار ضرور قائم ہوگئی ہے، لیکن پارٹی کے اندر جاری خلفشار کے سبب شیوراج حکومت کی مشکلیں کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔


وہیں شیوراج کابینہ کے اہم وزیر وشواس سارنگ ڈاکٹر گووند سنگھ کے بیان کو مضحکہ خیر قرار دیتے ہیں۔ وشواس سارنگ کہتے ہیں کہ جب تک جیوترادتیہ سندھیا کانگریس میں تھے تب تک یہی لوگ ان کی تعریف کے پل باندھتے تھے، اب انہوں نے کانگریسیوں کی بد عنوانی کو دیکھتے ہوئے بی جے پی سے وابستگی اختیار کرلی ہے تو انہیں جیوترادتیہ سندھیا میں عیب ہی عیب دکھائی دے رہی ہے۔ گووند سنگھ جی یہی مشورہ کمل ناتھ کو وقت رہتے دیا ہوتا تو مدھیہ پردیش میں اتنی بد عنوانی نہیں ہوئی ہوتی۔
شیوراج کابینہ میں 33 وزراء شامل ہیں اس میں 12 وزراء کا تعلق چمبل گوالیر ڈویژن سے ہے۔ کابینہ میں وزراء کے عدم توازن پر خود بی جے پی کے اندر بھی سوال اٹھنے لگے ہیں۔ مہاکوشل کے سینئر بی جے پی لیڈر اور سابق وزیر اجے وشنوئی نے تو وزیر اعلیٰ کمل ناتھ کو خط لکھ کر پاور کے توازن کو بیلنس کرنے کی بات کہہ دی ہے۔ اجے وشنوئی کہتے ہیں کہ گوالیار اور چمبل ڈویژن میں 12 لوگوں کو وزارت اور مہاکوشل سے صرف ایک نمائندگی کو دیا جانا سمجھ سے باہر ہے۔ اگر توجہ نہیں دی گئی تو پارٹی کارکنان کی ناراضگی کو سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔ اجے وشنوئی مہاکوشل کے چارج کو وزیر اعلیٰ کے ذریعہ سبھالنے کی بھی بات کررہے ہیں۔

شیوراج کابینہ میں 33 وزراء شامل ہیں اس میں 12 وزراء کا تعلق چمبل گوالیر ڈویژن سے ہے۔ کابینہ میں وزراء کے عدم توازن پر خود بی جے پی کے اندر بھی سوال اٹھنے لگے ہیں۔
شیوراج کابینہ میں 33 وزراء شامل ہیں اس میں 12 وزراء کا تعلق چمبل گوالیر ڈویژن سے ہے۔ کابینہ میں وزراء کے عدم توازن پر خود بی جے پی کے اندر بھی سوال اٹھنے لگے ہیں۔


وزراء کو قلمدان تقسیم کو لے کر جو سب سے بڑی مشکل آرہی ہے، وہ ملائی دار محکموں کو لے کر ہے۔ ذرائع کا کہنا ہےکہ سندھیا خیمہ شہری ترقیات، ریوینو، زراعت اور وزارت داخلہ کو اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے جبکہ بی جے پی ان وزارتوں کو اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔ مدھیہ پردیش کانگریس ترجمان روی سکسینہ کہتے ہیں کہ ساری لڑائی تو ملائی دار محکموں کو ہی لے کر رہی ہے۔ یہاں بات خدمت کی نہیں بلکہ اپنے مفاد کو پورا کرنے کی ہے۔ سندھیا خیمہ اور بی جے پی دونوں کے مفادات آپس میں ٹکر ا رہے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ وزراء کو قلمدان کی تقسیم حلف برداری کے ایک ہفتے بعد بھی نہیں ہو پا رہی ہے۔ آج کی کابینہ میٹنگ کا منسوخ ہونا بھی اسی بات کا بڑا ثبوت ہے۔ ایماندار اور غدار کو لے کر کانگریس عوام کی عدالت میں جائےگی اور اسمبلی ضمنی انتخابات میں غداروں اور ان کا ساتھ دینے والوں کو عوام سبق سکھائیں گے۔
واضح رہےکہ مدھیہ پردیش اسمبلی کا مانسون سیشن 20 جولائی سے شروع ہونا ہے۔ مانسون سیشن میں حکومت کو اپنا بجٹ پیش کرنے کے ساتھ اپنے اتحاد کا بھی مظاہرہ کرنا ہے، اگرکسی بل کو لے کر ایوان کے اندر ٹکراؤ پیدا ہوتا ہے تو اس سے سرکار کی مشکلوں میں اضافہ ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی چاہتی ہے کہ سارے معاملات کو اسمبلی سیشن سے پہلے سے طے کرلیا جائے۔ وزراء کو قلمدان تقسیم کرنے میں بھلے ہی تاخیر ہو جائے، لیکن جب  اسمبلی سیشن شروع ہو تو وہاں پر پارٹی کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 09, 2020 08:07 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading