உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کام کی بات : کیا لڑکیاں بھی لڑکوں کی طرح کرتی ہیں مشت زنی ؟

    یہ تجسس انتہائی واجب ہے ، لیکن اس سوال کا جواب دینےس ے پہلے یہ سوال پوچھنا ضروری ہے کہ ایک لڑکے اور لڑکی میں ان کی جسمانی ساخت کے علاوہ بھی کئی فرق ہوتا ہے ۔

    یہ تجسس انتہائی واجب ہے ، لیکن اس سوال کا جواب دینےس ے پہلے یہ سوال پوچھنا ضروری ہے کہ ایک لڑکے اور لڑکی میں ان کی جسمانی ساخت کے علاوہ بھی کئی فرق ہوتا ہے ۔

    یہ تجسس انتہائی واجب ہے ، لیکن اس سوال کا جواب دینےس ے پہلے یہ سوال پوچھنا ضروری ہے کہ ایک لڑکے اور لڑکی میں ان کی جسمانی ساخت کے علاوہ بھی کئی فرق ہوتا ہے ۔

    • Share this:

      یہ تجسس انتہائی واجب ہے ، لیکن اس سوال کا جواب دینےس ے پہلے یہ سوال پوچھنا ضروری ہے کہ ایک لڑکے اور لڑکی میں ان کی جسمانی ساخت کے علاوہ بھی کئی فرق ہوتا ہے ۔
      جیسے بلوغیت کی عمر میں پہنچنے کے بعد ایک لڑکے کے جسم میں ہارمونل تبدیلیاں آتی ہیں ، اسی طرح ایک لڑکی کے جسم میں بھی ہارمونل تبدیلیاں آتی ہیں ۔
      سوال : اس بات میں کتنی سچائی ہے کہ لڑکیاں بھی لڑکوں کی طرح مشت زنی کرتی ہیں ؟
      ڈاکٹر پارس شاہ
      یہ تجسس انتہائی واجب ہے ، لیکن اس سوال کا جواب دینےس ے پہلے یہ سوال پوچھنا ضروری ہے کہ ایک لڑکے اور لڑکی میں ان کی جسمانی ساخت کے علاوہ بھی کئی فرق ہوتا ہے ۔ جیسے ایک لڑکے کو غصہ آتا ہے ، لڑکی کو بھی آتا ہے ، لڑکے کو خوشی ہوتی ہے ، لڑکی کو بھی ہوتی ہے ، دونوں کا کھانا ، سانس لینا ، بخار ، پیٹ درد سب ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔
      جیسے بلوغیت کی عمر میں پہنچنے کے بعد ایک لڑکے کے جسم میں ہارمونل تبدیلیاں آتی ہیں ، اسی طرح ایک لڑکی کے جسم میں بھی ہارمونل تبدیلیاں آتی ہیں ۔
      لڑکوں کی آواز بھاری ہونے لگتی ہے ، ان کو داڑھی ، مونچھ ، بغلوں اور نیچے بال نکلتے ہیں ، اسی طرح لڑکیوں میں بھی حیض کی شروعات ہوتی ہے۔ ان کے پستان بڑے ہونے لگتے ہیں اور نیچے میں بال نکلتے ہیں ۔ یہی وقت ہے جب لڑکیوں میں بھی لڑکوں کی طرح اپنے اور جنس مخالف کے بدن کو لے کر سبھی طرح کے سوالات اور تجسس پیدا ہونے لگتے ہیں اور اس تجسس میں دونوں ہی اپنی جسمانی ساخت سے لے کر خواہشات تک کی تلاش کرتے ہیں۔
      مشت زنی فطری عمل ہے اور یہ ایک لڑکے اور لڑکی دونوں کیلئے ایک قدرتی ہے۔ لڑکیاں بھی مشت زنی کرتی ہیں ، لیکن چونکہ لڑکیوں کی پرورش زیادہ محتاط میں بندشوں میں ہوتی ہے ، انہیں بچپن سے ہی سبھی قواعد و ضوابط کے دائرے میں باندھ دیا جاتا ہے ، اس لئے وہ ان موضوعات پر کبھی کھل کر بات نہیں کرتیں اور کئی مرتبہ تو خود بھی اسے قبول کرنے میں تردد کا شکار ہوجاتی ہیں۔
      سماجی بندشوں کی وجہ سے لڑکیوں میں جسم کو لے کر ڈر اور ترددزیادہ ہوتا ہے ، لیکن اس خوف اور تردد کی دیوار کو توڑنے کی ضرورت ہے ۔ ایک مرد کے طور پر آپ کو بھی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ لڑکیاں آپ بھی یکسر مختلف نہیں ہیں۔
      جیسے لڑکے اپنی خواہشات کی تکمیل کیلئے مشت زنی کرتے ہیں اسی طرح لڑکیاں بھی اپنی جسمانی خواہشات کی تکمیل کیلئے مشت زنی کا سہارا لیتی ہیں ۔ آج کے دور میں لڑکیاں بھی اپنے کیریئر پر توجہ دے رہی ہیں اور شادی کی عمر بڑھ کر 28 سے 34 سال تک ہوگئی ہے ، ایسے میں جنسی خواہشات کی تکمیل کا یہ سب سے آسان طریقہ ہے ۔ ساتھ ہی وقت بدل رہا ہے ، اپنی جنسی خواہشات کو لے کر لڑکیاں پہلے سے زیادہ بیدار ہوئی ہیں ۔ یہ سب سے محفوظ طریقہ بھی ہے ، اس سے لڑکیاں نوعمری میں حمل ، ایچ آئی وی ایڈس وغیر جنسی بیماریوں سے بھی محفوظ رہتی ہیں۔
      ۔(ڈاکٹر پارس شاہ ساندھیہ ملٹی اسپشلیٹی ہاسپیٹل میں چیف کنسلٹنٹ سیکسولاجسٹ ہیں)۔

      First published: