ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جب تک ہوش میں رہی اناؤ ریپ متاثرہ، پوچھتی رہی، میں بچ تو جاؤں گی؟ قصورواروں کو چھوڑنا نہیں

صفدر جنگ اسپتال کے میڈیکل سپرنٹینڈینٹ ڈاکٹر سنیل گپتا نے بتایا کہ کل جعمرات کی رات متاثرہ کو تھوڑی دیر کیلئے ہوش آیا تھا جس میں اس نے بس ایک ہی بات کہی۔ "میں بچ تو جاؤں گی، قصورواروں کو چھوڑنا نہیں‘‘۔

  • Share this:
جب تک ہوش میں رہی اناؤ ریپ متاثرہ، پوچھتی رہی، میں بچ تو جاؤں گی؟ قصورواروں کو چھوڑنا نہیں
صفدر جنگ اسپتال کے میڈیکل سپرنٹینڈینٹ ڈاکٹر سنیل گپتا نے بتایا کہ کل جعمرات کی رات متاثرہ کو تھوڑی دیر کیلئے ہوش آیا تھا جس میں اس نے بس ایک ہی بات کہی۔ "میں بچ تو جاؤں گی، قصورواروں کو چھوڑنا نہیں‘‘۔

اناؤ ریپ  متاثرہ آخرکار زندگی کی جنگ ہار گئی۔ مسلسل حالت بگڑنے  پر اسپتال کے ڈاکٹروں نے اسے وینٹی لیٹر پر رکھا۔ سات ڈاکٹروں کی ٹیم متاثرہ کی نگرانی کررہی تھی۔ صفدر جنگ اسپتال کے میڈیکل سپرنٹینڈینٹ ڈاکٹر سنیل گپتا نے بتایا کہ کل جعمرات کی رات متاثرہ کو تھوڑی دیر کیلئے ہوش آیا تھا جس میں اس نے بس ایک ہی بات کہی۔ "میں بچ تو جاؤں گی، قصورواروں کو چھوڑنا نہیں‘‘۔ اس کے بعد سے مسلسل اس کی حالت بگڑتی گئی اور وہ زندگی کی جنگ ہار گئی۔

ڈاکٹر سنیل گپتا نے بتایا کہ جمعرات کی دیر شام 95 فیصد جھلس چکی یوپی کی نربھیا کو  لکھنؤ سے ایئر ایمبولینس کے ذریعے دہلی لایا گیا تھا۔ اسپتال پہنچنے پر فوراً ہی سات ڈاکٹروں کی ٹیم نے اس کا علاج شروع کردیا تھا۔ برن ڈپارٹمینٹ کے ہیڈ ڈاکٹر شلبھ کی دیکھ۔ریکھ میں متاثرہ کا علاج چل رہا تھا۔ جمعرات کی رات9 بجے تک وہ ہوش میں رہی۔ ہوش میں رہنے کے دوران وہ بس ایک ہی لائن بولی کہ میں بچ جاؤں گی لیکن قصورواروں کو چھوڑنا نہیں۔

جمعے کی صبح 11 بجے صفدر جنگ کے میڈیکل سپریٹینڈینٹ ڈاکٹر سنیل گپتا نے بیان جاری کرکے کہا کہ متاثرہ کے بچنے کے چانس بہت کم ہیں۔ اس کی بگڑتی حالت کو دیکھتے ہوئے اسے وینٹی لیٹر پررکھا گیا تھا۔ متاثرہ لڑکی کے کمر کے نیچے کے دو اندرونی حصے بھی آگ کی زد میں آگئے تھے۔ جس کے چلتے متاثرہ کی حالت مسلسل بگڑ تی رہی اوراب  دم توڑ گئی۔





حالانکہ 90 فیصد سے بھی زیادہ جل چکی یوپی کی اس 'نربھیا' نے اب بھی ہار نہیں مانی تھی۔ جمعرات کی رات 9 بجے تک وہ ہوش میں تھی۔ جب تک ہوش میں تھی کہتی رہی مجھے جلانے والوں کو چھوڑنا مت۔ پھر نیند میں چلی گئی۔ ڈاکٹرو ں نے ہر ممکن کوشش کی، وینٹی لیٹر پر رکھا۔ لیکن وہ نیند سے نہیں اٹھی اور دنیا چھوڑ کر چلی گئی۔ انصاف کی جنگ لڑتے لڑتے ایک اور نربھیا زندگی کی جنگ ہار گئی۔



First published: Dec 07, 2019 11:25 AM IST