دہلی حکومت کے چیف سکریٹری راجندر کمار معاملے میں ذیلی عدالت کا فیصلہ منسوخ

نئی دہلی۔ دہلی ہائی کورٹ نے دہلی حکومت کے چیف سکریٹری راجندر کمار کے دفتر پر مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کے چھاپے کے دوران ضبط کئے گئے دستاویز واپس کرنے کے ذیلی عدالت کے فیصلے کو آج منسوخ کردیا۔

Feb 10, 2016 05:34 PM IST | Updated on: Feb 10, 2016 05:34 PM IST
دہلی حکومت کے چیف سکریٹری راجندر کمار معاملے میں ذیلی عدالت کا فیصلہ منسوخ

نئی دہلی۔ دہلی ہائی کورٹ نے دہلی حکومت کے چیف سکریٹری راجندر کمار کے دفتر پر مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کے چھاپے کے دوران ضبط کئے گئے دستاویز واپس کرنے کے ذیلی عدالت کے فیصلے کو آج منسوخ کردیا۔ دہلی حکومت کی عرضی پر ذیلی عدالت نے سی بی آئی کودیئے حکم میں کہا تھا کہ چھاپے کے دوران ضبط کئے گئے سرکاری دستاویز وہ دہلی حکومت کو واپس کردے کیونکہ انکی وجہ سے سرکاری کام کاج متاثر ہورہا ہے۔ سی بی آئی نے ذیلی عدالت کے اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

سی بی آئی نے بدعنوانی کے ایک معاملے میں پندرہ دسمبر 2015 کو مسٹر کمار کے دفتر پر چھاپہ مارا تھا اور اسی دوران یہ دستاویز ضبط کئے تھے۔ جسٹس پی ایس تیجی کی بنچ نے ذیلی عدالت کے فیصلے کو منسوخ کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں ذیلی عدالت نے اپنے دائرہ اختیارات سے باہر جاکر فیصلہ سنایا ہے اس فیصلے میں تضاد ہے لہذا اسے منسوخ کیا جاتا ہے۔

سی بی آئی نے ہائی کورٹ میں یکم فروری کو دی گئی دلیل میں کہا تھا کہ جو دستاویز اس نے ضبط کئے ہیں اس سے دہلی کی عام آدمی پارٹی حکومت کا کام کاج کسی طرح سے متاثر نہیں ہورہا ہے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ تفتیش کے ابتدائی مرحلہ میں دستاویز کی اہمیت کا انکشاف نہیں کیا جاسکتا۔ ایسا کرنے سے جانچ متاثر ہوسکتی ہے۔ سی بی آئی کی جانب سے عدالت میں پیش ہوئے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل تشار مہتہ نے کہا کہ سی بی آئی کے پاس جو دستاویز ہیں ان سے دہلی حکومت کے کام کاج پر کوئی اثر پڑنے والا نہیں ہے ساتھ ہی یہ کہنا بھی صحیح نہیں ہے کہ ان دستاویز ات کا کوئی کام نہیں ہے۔ اس بار ے میں ذیلی عدالت کے حکم سے تفتیشی ایجنسی کا حوصلہ پست ہوا ہے۔

دہلی حکومت نے سی بی آئی کے ارادوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ تفتیشی ایجنسی نے مسٹر کمار کے دفتر سے جو دستاویز اٹھائے ہیں ان کا جانچ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ دستاویزات کی غیر موجودگی سے سرکاری کام کاج متاثر ہورہا ہے۔ اس پر سی بی آئی کی جانب سے دی گئی دلیل میں کہا گیا تھا کہ ان دستاویزات کی فوٹو کاپی دہلی حکومت کو دی جاچکی تھی ایسے میں دستاویز واپس کرنے کی بات کا کوئی جواز نہیں تھا۔

Loading...

Loading...