உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ’سکھوں کی پگڑی اور کرپان کا حجاب سے موازنہ نہ کریں‘ حجاب کیس پر سپریم کورٹ کے اہم ریمارکس

    سپریم کورٹ (فائل فوٹو)

    سپریم کورٹ (فائل فوٹو)

    Karnataka hijab row: سکھ برادری اور ان کے لباس کے مینڈیٹ سے موازنہ کے جواب میں جسٹس گپتا نے کہا کہ سکھوں کے ساتھ موازنہ مناسب نہیں ہوسکتا ہے کیونکہ کرپان کو آئین کے ذریعہ تسلیم کیا گیا ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ لہذا ان تسلیم شدہ طریقوں کا موازنہ نہ کریں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Karnataka | Mumbai | Hyderabad | Jammu | Lucknow
    • Share this:
      Karnataka hijab row case: اس سال کے شروع میں کرناٹک میں ایک سیاسی طوفان برپا کرنے والا حجاب کیس کے سلسلے میں فی الحال سپریم کورٹ میں سماعت کی گئی ہے۔ اس دوران کئی عرضی گزاروں نے بینچ پر زور دیا کہ ملک کے تعلیمی اداروں میں اسکارف اور حجاب پہننے کی اجازت دے۔ یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب کئی مسلم طالبات کو ان کے اسکولوں اور تعلیمی اداروں میں حجاب پہننے کی وجہ سے داخلے سے روک دیا گیا، جو ریاستی حکومت کے وضع کردہ ڈریس کوڈ کے خلاف تھا۔

      کرناٹک کے اسکولوں اور کالجوں میں ڈریس کوڈ کے اصول کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ (Supreme Court) نے جمعرات کے روز کہا کہ کرپان اور سکھوں کی پگڑی کا حجاب کے ساتھ کوئی موازنہ نہیں ہے کیونکہ سپریم کورٹ کی پانچ ججوں کی بنچ نے کہا کہ سکھوں کے لیے پگڑی اور کرپان کی اجازت ہے۔ خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق یہ ریمارکس اس وقت سامنے آئے، جب جسٹس ہیمنت گپتا اور سدھانشو دھولیا کی بنچ نے کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی مختلف درخواستوں کی سماعت کی۔ جس کے تحت تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کو برقرار رکھنے کے بات کہی گئی تھی۔

      سپریم کورٹ کی بنچ کی طرف سے کئے گئے چند اہم ریمارکس:

      سکھ برادری اور ان کے لباس کے مینڈیٹ سے موازنہ کے جواب میں جسٹس گپتا نے کہا کہ سکھوں کے ساتھ موازنہ مناسب نہیں ہوسکتا ہے کیونکہ کرپان کو آئین کے ذریعہ تسلیم کیا گیا ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ لہذا ان تسلیم شدہ طریقوں کا موازنہ نہ کریں۔ عدالتی بنچ اور وکیل کے درمیان طویل تبادلہ خیال کے دوران جسٹس گپتا نے کہا کہ یہاں مسئلہ یہ ہے کہ ایک مخصوص کمیونٹی سر پر اسکارف (حجاب) پر اصرار کر رہی ہے جبکہ دیگر تمام کمیونٹیز ڈریس کوڈ کی پیروی کر رہی ہیں۔ دوسری کمیونٹیز کے طلبہ یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ ہم یہ اور وہ پہننا چاہتے ہیں۔


      یہ بھی پڑھیں: 

      کرناٹک میں کم عمر کی شادی کا رواج، لڑکیوں میں تعلیم کے فقدان کا سبب، نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی رپورٹ جاری

      میڈیا رپورٹس کے مطابق وکیل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ بہت سے طلبہ اپنے گلے میں رودرکش پہنتے ہیں۔ اس پر عدالتی بنچ نے کہا کہ یہ قمیض کے اندر پہنا جاتا ہے۔ کوئی بھی قمیض اٹھا کر یہ نہیں دیکھے گا کہ کسی نے رودرکش پہن رکھی ہے یا نہیں۔ سپریم کورٹ نے ان وکلاء سے بھی سوال کیا جو اپنے تعلیمی اداروں میں حجاب پہننے کے حق کے لیے لڑ رہے تھے۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      ’کوئی بھی حجاب پر پابندی نہیں لگاتا، اصلی مسئلہ اسکول میں حجاب پہننا ہے‘ سپریم کورٹ



      جسٹس گپتا نے کہا کہ آپ اسے غیر منطقی انجام تک نہیں لے جا سکتے۔ لباس کے حق میں کپڑے اتارنے کا حق بھی شامل ہوسکتا ہے اور کل کوئی بھی اس حق کے بارے میں سپریم کورٹ سے رجوع ہوسکتا ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: