ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ڈاکٹر جاوید علی کوکورونا واریئر کا درجہ دے گی دہلی حکومت، اہلیہ حنا کوثر نے اس طرح کیا اپنے غم کا اظہار

کورونا وائرس کی وجہ سے موت کا شکار ہوئے قومی صحت مشن کے تحت کام کرنے والے ڈاکٹر جاوید کو دہلی حکومت نے کورونا واریئر کا درجہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ وزیر صحت ستیندر جین نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ دہلی حکومت ڈاکٹر جاوید کو کورونا واریرس کا درجہ دے گی اور اہل خانہ کو ایک کروڑ روپئے دیئے جائیں گے۔

  • Share this:
ڈاکٹر جاوید علی کوکورونا واریئر کا درجہ دے گی دہلی حکومت، اہلیہ حنا کوثر نے اس طرح کیا اپنے غم کا اظہار
ڈاکٹر جاوید علی کوکورونا واریئر کا درجہ دے گی دہلی حکومت، اہلیہ حنا کوثر نے اس طرح کیا اپنے غم کا اظہار

نئی دہلی: کورونا وائرس کی وجہ سے موت کا شکار ہوئے قومی صحت مشن کے تحت کام کرنے والے ڈاکٹر جاوید کو دہلی حکومت نے کورونا واریئر کا درجہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ وزیر صحت ستیندر جین نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ دہلی حکومت ڈاکٹر جاوید کو کورونا واریرس کا درجہ دے گی اور اہل خانہ کو ایک کروڑ روپئے دیئے جائیں گے۔ اس سے قبل ڈاکٹر جاوید کے معاملے میں دہلی حکومت کی خاموشی کے بارے میں سوالات اٹھائے جارہے تھے۔ اس معاملے میں پرینکا گاندھی سے لےکرکئی سیاستدانوں کی جانب سے بھی ٹوئٹ کئے گئے تھے۔ ڈاکٹر جاوید کی اہلیہ حنا کوثر کا کہنا ہےکہ وہ اس اعلان پر دہلی حکومت کا شکریہ ادا کرتی ہیں، لیکن معاوضے کا عمل آسان بنایا جانا چاہئے۔ حنا کوثر نے بتایا کہ اس کے بارے میں ابھی انہیں معلومات موصول ہوئی ہیں اور کوئی رقم میرے شوہر کی زندگی کو تبدیل نہیں کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہیں چاہتی کہ کوئی سرکاری نمائندہ ذاتی طورپر ان کے پاس آئے۔ وہ اپنی پرائیویسی او ر ذاتی معاملہ کو اپنے تک محدود رکھنا چاہتی ہیں۔


 




وزیر اعلی اروند کیجریوال کا جاوید کو خراج

ڈاکٹر جاوید کی کورونا وائرس سے انتقال ہونے پر دہلی کے وزیراعلی اروند کجریوال نےخراج تحسین پیش کرتے ہوئے ٹویٹ کیا ہے۔ سی ایم آفس سے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا گیا ڈاکٹر جاوید کی دہلی کے قربانی بھلائی نہیں جاسکتی۔ وزیر اعلی ارند کیجریوال نے ایک کروڑ روپئے مالی امداد دینے کی ہدایت دی ہے۔

مارچ سے کورونا مریضوں کا علاج کررہے تھے ڈاکٹر جاوید

دہلی کے حوض رانی کے رہنے والے ڈاکٹرجاوید مارچ سے مسلسل کورونا کے مریضوں کی دیکھ بھال اور علاج کررہے تھے، لیکن تین ہفتہ قبل ڈاکٹر جاوید کورونا پازیٹو ہوگئے اور بالآخر ان کی موت ہوگئی۔ حالانکہ کئی اسپتالوں میں ان کو لےجایا گیا اور ایمس ٹراما سینٹر میں موت سے ہار گئے۔ ڈاکٹرجاوید اپنے پیچھے ایک 12 سالہ بیٹی اور 6 سال کا بیٹا چھوڑ گئے ہیں۔ مارچ سے جون تک، ڈاکٹر جاوید چھترپور کے کوارنٹائن سینٹر، رادھا سوامی کووڈ کیئر سینٹر اور پشپ وہار سیرو سروس سینٹر میں ڈیوٹی پر تھے۔ جاوید علی نے 2011 میں قومی صحت مشن میں ملازمت کا آغاز کیا تھا۔ اس وقت وہ دہلی حکومت کے قومی صحت مشن میں معاہدے پر کام کر رہے تھے۔ تقریباً تین ہفتوں تک کووڈ- 19 سے لڑنے کے بعد جاوید علی نے دنیا کو الوداع کہا۔



تدفین سے قبل آخری دیدار کا ملنا چاہئے موقع

ڈاکٹر جاوید کی اہلیہ ڈاکٹرحنا کوثرکہتی ہیں کہ ا ن کا بدل کچھ نہیں ہوسکتا، لیکن جو لوگ اپنی زندگی داﺅ پر لگاکر سروس کررہے ہیں ان کے بعد ان کے اہل خانہ، بچوں کی پرورش اور دیکھ بھال کاانتظام ہونا چاہئے۔ حنا کوثر بتاتی ہیں ہم آخری بار ڈاکٹر جاوید سے گذشتہ ماہ ملے تھے اور دو تین بار ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ گفتگو ہوئی تھی، لیکن ہم تدفین سے قبل ان کو آخری بار بھی نہیں دیکھ سکے۔ حکومت کو ایسی پالیسی بنانی چاہئے کہ نہایت قریبی رشتہ دار آخری مرتبہ دیدار کرسکیں۔ حنا کوثر بتاتی ہیں کہ جاوید علی مسلسل ڈیوٹی پر رہے، یہاں تک کہ عید کے دن بھی وہ اپنی ڈیوٹی سر انجام دے رہے تھے۔ حنا کوثر نے اپنے دونوں بچوں کو فکرمندی کااظہار کیا۔ دہلی حکومت کے اعلان کے بعد اب اس بات کی ضرورت ہے کہ امدادی رقم اہل خانہ کو جلد از جلد ملے تاکہ کچھ تو ان کی فکرمندی میں کمی ہو۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 22, 2020 11:36 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading