உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    تہذیب اور تکنیک کاگلدستہ ہے جامعہ ملیہ اسلامیہ : ڈاکٹر مہند رناتھ پانڈے

    جامعہ ملیہ اسلامیہ نےکیا داخلہ امتحانات کی تاریخ کا اعلان. فائل فوٹو

    جامعہ ملیہ اسلامیہ نےکیا داخلہ امتحانات کی تاریخ کا اعلان. فائل فوٹو

    انسانی وسائل کے فروغ کے وزیر مملکت ڈاکٹر مہند رناتھ پانڈے نے آج جامعہ ملیہ اسلامیہ کو تہذیب اور تکنیک کا خوبصورت گلدستہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ثقافت اور اتحاد ہی ہندوستان کو دنیا میں ایک الگ شناخت دیتی ہے۔

    • Pradesh18
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی :  انسانی وسائل کے فروغ کے وزیر مملکت ڈاکٹر مہند رناتھ پانڈے نے آج جامعہ ملیہ اسلامیہ کو تہذیب اور تکنیک کا خوبصورت گلدستہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ثقافت اور اتحاد ہی ہندوستان کو دنیا میں ایک الگ شناخت دیتی ہے۔ ڈاکٹر پانڈے نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے کنووکیشن کے مہمان خصوصی کے طور پر طلبہ اور اساتذہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قرآن میں مردوں اور عورتوں کی تعلیم پر زور دیا گیا ہے اور پیغمبر اسلام نے بھی تعلیم کو کافی اہم قرا ردیا ہے۔ دراصل تعلیم زندگی کا سب سے خوبصورت نغمہ ہے ۔ انہوں نے ایک شعر کے حوالے سے کہا کہ علم سے آدمی کو نہ صرف عزت ملتی ہے بلکہ وہی اس کی دولت ہے اور علم بانٹنے سے کبھی کم نہیں ہوتا۔
      بنارس ہندو یونیورسٹی سے ہندی میں ڈاکٹریٹ کرنے والے ڈاکٹر پانڈے نے کہاکہ ملک کا کلچر، اتحاد اور تہذیب ہی ہندوستان کو دنیا میں الگ شناخت بناتی ہے ۔ لیکن روایتی علم کے ساتھ جدید علوم اور ٹکنالوجی کو بھی ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت ہے اور جامعہ ملیہ اسلامیہ نے دونوں کو ملا کر خوبصورت گلدستہ پیش کیا ہے جو ایک مثال ہے۔ ایک طرف اس نے کلچر کاشعبہ کھولنے میں پہل کی ہے تو دوسری طر ف انوویشن کو بھی فروغ دیا ہے۔
      انہوں نے کہا کہ ملک میں کچھ یونیورسٹیاں آزادی سے پہلے قائم ہوئیں اور کچھ آزادی کے بعد۔ ان دونوں طرح کی یونیورسٹیوں میں کافی فر ق ہے۔ آزادی سے پہلے کھلنے والی یونیورسٹیوں کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ ہماری تہذیب کو مدنظر رکھتے ہوئے ملک کیسے آگے بڑھے اس نقطہ نظر سے جامعہ اور بی ایچ یو کا اہم مقام ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ علم وہ نہیں جو آپ نے سیکھا ہے بلکہ علم وہ ہے جو عمل اور کردار سے ظاہر ہوتا ہے۔
      کنووکیشن کے مہمان ذی وقار آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے ڈائریکٹر پروفیسر ایم سی مشر ا نے پڑھائی کے ساتھ ساتھ صحت پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے نوجوان نسل بالخصوص طلبہ سے کولڈ ڈرنکس نہیں پینے کی اپیل کی اور انہیں طرز زندگی میں سدھار لانے، کھانے پینے پردھیان دینے اور ورزش کرنے کا مشورہ دیا۔
      انہوں نے کہا کہ یوگا او رآیوروید اپنانے سے ہی ملک صحت مند رہ سکتاہے۔ انہوں نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ بیس سال قبل ہندوستان میں اوسطاَ فی کس چینی کا استعمال 300گرام ہوتا تھا جو آج بڑھ کر تقریباَ دو کلوگرام ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شوگر کی وجہ سے موٹاپا بڑھ رہا ہے اور اس سے کینسر کا بھی خطرہ پیدا ہورہا ہے۔ مغربی ملکوں کے مقابلے میں ترقی پزیر ملکوں میں بھی ابھی چھ گنا کم کینسر ہے ۔ انہوں نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ ہندوستان میں اینٹی بایوٹیک کا زیادہ استعمال اور غلط استعمال ہورہا ہے۔
      ڈاکٹر مشرا نے نوجوانوں سے اعضاء کا عطیہ دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اسپین جیسے ملک میں فی دس لاکھ 34افراد اعضاء کا عطیہ کرتے ہیں لیکن ہندوستان میں یہ تعداد صر ف 0.3 فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں صحت کے شعبے میں ہم آگے بڑھے ہیں اس کے باوجود ہمیں اس سیکٹر میں شہریوں کے لئے ابھی بہت کچھ کرنا ہے۔
      جامعہ کے وائس چانسلر طلعت احمد نے بتایا کہ کس طرح جامعہ پچھلے دو برسوں میں ریسرچ، انوویشن اور اسکل ڈیولپمنٹ کے شعبے میں کافی کام کیا ہے اور ماحولیاتی تبدیلی، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور جغرافیکل ٹیکنیک کے شعبوں میں بھی پروگرام شروع کرنے جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جامعہ نے ہندوستانی فضائیہ اور بحریہ کے اہلکاروں کے لئے تربیتی کورس شروع کئے ہیں اور اب بری افواج کے لئے بھی کورس شروع ہونے کی امید ہے۔ تقریب میں یونیورسٹی کے چانسلر لفٹننٹ جنرل ایم اے ذکی ، پرو وائس چانسلرڈاکٹر شاہد اشرف اور رجسٹرار احمد پیام صدیقی بھی موجود تھے۔
      First published: