سنگاپور کا وہ باشندہ جس نے اندرا گاندھی کو عدالت میں شکست فاش دی

سرکار کے نشریاتی ادارے آل انڈیا ریڈیو سے جیسے ہی بینکوں کو قومیا دئیے جانے کی خبر نشر ہوئی، ایک شخص نے دوسروں سے زیادہ اس کا نوٹس لیا۔ یہ تھے ڈاکٹر آر سی کوپر، جو اس وقت سوتنتر پارٹی کے جنرل سکریٹری تھے۔

Jul 23, 2019 06:23 PM IST | Updated on: Jul 23, 2019 06:31 PM IST
سنگاپور کا وہ باشندہ جس نے اندرا گاندھی کو عدالت میں شکست فاش دی

اندرا گاندھی: فائل فوٹو

ہندوستان کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے لئے 1969 کا سنہ واقعی خراب تھا۔ 14 جولائی 1969 کو ہفتے کا دن تھا۔ تب 52 سالہ اندرا گاندھی نے نہ پارلیمنٹ کو مطلع کیا، نہ ہی ملک کے پلاننگ کمیشن کو کوئی خبر کی اور یکلخت 14 پرائیویٹ بینکوں کو قومیا دیے جانے کا اعلان کر دیا۔ اس کے لیے انہوں نے صدر جمہوریہ سے خصوصی طور پر جاری کرائے گئے آرڈیننس کا سہارا لیا تھا۔ وزیر اعظم اندراگاندھی نے اس سے تین دن پہلے اپنے وزیر خزانہ مورارجی بھائی دیسائی سے وزارت کی ذمہ داری واپس لے لی تھی۔ کانگریس کے بزرگ و تجربہ کار لیڈر مورارجی دیسائی نے دراصل بینکوں کو اس طرح قومیائے جانے کے فیصلے کی سخت مخالفت کی تھی۔ بینکوں کا اس طرح نیشنلائزیشن کرنے کے پیچھے تب اندرا گاندھی نے دلیل دی تھی کہ اس سے عوام الناس بالخصوص کسانوں کو بینکوں کے قرضہ جات حاصل کرنے اور ان کی دیگر سہولیات سے استفادہ کرنے میں آسانی ہوگی۔

سرکار کے نشریاتی ادارے آل انڈیا ریڈیو سے جیسے ہی یہ خبر نشر ہوئی، ایک شخص نے دوسروں سے زیادہ اس کا نوٹس لیا۔ یہ تھے ڈاکٹر آر سی کوپر، جو اس وقت سوتنتر پارٹی کے جنرل سکریٹری تھے۔ 1967 کے لوک سبھا چناو میں یہ سوتنتر پارٹی حزب اختلاف کی سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری تھی۔

سوتنتر پارٹی کی بنیاد چکرورتی راج گوپالاچاری نے رکھی تھی، جنہیں راجہ جی کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔ جمہوری مملکت میں تبدیل ہونے سے قبل وہ آزاد ہندوستان کے پہلے گورنر جنرل تھے۔ راجہ جی کے بارے میں مہاتما گاندھی کہا کرتے تھے کہ وہ ان کے 'ضمیر کو بیدار' رکھتے ہیں۔ نہرووادی سوشلزم کی مخالفت میں سوتنتر پارٹی تشکیل دی گئی تھی۔ 15 اگست 1959 کو اس کی بنیاد رکھتے وقت ممبئی میں جو اجلاس منعقد کیا گیا تھا، اس میں ڈائس پر راجہ جی کے پیچھے نوجوان کوپر بیٹھے نظر آ رہے ہیں۔

کوپر آزاد معیشت کے اولین پیروکاروں میں سے تھے۔ انگریزی داں مشاق چارٹرڈ اکاونٹنٹ کوپر اس وقت انڈین انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاونٹنٹ کے صدر تھے۔ انہوں نے معاشیات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر رکھی تھی اور وہ ملک کی معیشت پر اثر انداز ہونے والی فورم آف فری انٹرپرائز کے وائس پریسیڈنٹ بھی تھے۔ آزاد معیشت کے حامی کوپر ہندوستان میں مارکسوادی سماجواد اور سوویت روس کے طرز کی مرکزیت کے سخت ناقد تھے جسے اس دور میں اندرا گاندھی کی قیادت والی کانگریس نے ملک کے لیے منتخب کیا ہوا تھا۔

Loading...

آر سی کوپر مورار جی دیسائی کے ساتھ : فائل فوٹو آر سی کوپر مورار جی دیسائی کے ساتھ : فائل فوٹو

کوپر جنوب مشرقی ایشیا کی تیزی سے ترقی پذیر معیشت کے زبردست معترف تھے اور انہوں نے فری انٹرپرائز فورم کے رسالے میں "د ٹوینٹیتھ سینچری سوشلزم" کے عنوان سے ایک وقیع مضمون بھی تحریر کیا تھا۔ اس میں انہوں نے سنگاپور کی مثال پیش کرتے ہوئے لکھا تھا کہ 'ایسا ملک جو غیر ہمدرد پڑوسیوں سے گھرا ہوا ہے۔ جس نے اپنا آزادانہ سفر سماجوادی اور کمیونسٹوں کی مشترکہ حکومت کی قیادت میں شروع کیا، جو سرمایہ دارانہ نظام اور مغربی فکر کے شدید مخالف تھے۔ تب آثار ایسے تھے کہ ملک کی معیشت شاید ہی ترقی کر سکے۔ اس کے محض چھہ سال بعد اس ملک نے معاشی ترقی اور استحکام کی زبردست تصویر پیش کی۔ سرکار وہی سماجوادیوں کی تھی لیکن اس میں اب کمیونسٹ شامل نہیں تھے۔ اس سرکار نے یہ سمجھنے میں زیادہ وقت نہیں لگایا کہ نجکاری اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے بغیر تیزی سے ترقی ناممکن ہے۔۔۔۔ نیشنلزم کے سہارے بھی پروڈکشن زیادہ نہیں بڑھایا جا سکتا، نہ ہی مساوات کا مارکسوادی خواب پورا کیا جا سکتا ہے۔ تب کیا کیا جائے؟ کیا ہم سماجواد کو لے کر اپنی سوچ بدلنے کو تیار نہیں ہیں؟ حقائق کی بنیاد پر اس کا جواب یہ ہے کہ ہمارے لیڈران نے اس ملک (ہندوستان) کے لیے جس قسم کا سماجواد منتخب کر رکھا ہے، اس سے مفاد پرستی پیدا ہوتی ہے۔ اس میں حکومت کے ذریعے سرمایہ کاری کی جاتی ہے، جس سے سارے معاملات لیڈران کے ہاتھوں میں چلے جاتے ہیں اور عوام الناس خالی ہاتھ رہ جاتے ہیں۔' [کوپر آر سی، ٹوینٹیتھ سینچری سوشلزم، فورم آف فری انٹرپرائز میگزین، 10 نومبر 1970]۔

بینکوں کو قومیائے جانے کا اعلان اندرا گاندھی نے اتوار کے دن کیا تھا۔ اس بینک نیشنلائزیشن آرڈیننس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے اور اسے یقینی بنانے کہ اس آرڈیننس کے ذریعے شیئر ہولڈرس کے حقوق غصب نہ کیے جائیں نیز شیئر ہولڈنگ کے عمل پر اجارہ داری نہ ہو، اگلے دن ہی ڈاکٹر کوپر ہوائی جہاز سے دہلی پہنچ گئے۔ بینکوں کو قومیائے جانے کے عمل میں سنٹرل بینک آف انڈیا بینک کو بھی قومیا دیا گیا تھا۔ ڈاکٹر کوپر سنٹرل بینک آف انڈیا کے بورڈ آف ڈائریکٹرس میں شامل تھے اور اس بینک کے شیئر ہولڈر بھی تھے۔ اسی مناسبت سے انہیں اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرنے کا استحقاق حاصل ہو گیا تھا۔

اس مقدمے کی بابت ہمت ویکلی میں اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے کوپر نے لکھا، "یہ فیصلہ جس طرح سے لیا گیا، اس سے مجھے کچھ غلط محسوس ہوا۔ مجھے لگا کہ اس میں کچھ غیر ضروری جلدبازی کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی یہ آمرانہ طریقہ کار بھی تھا۔ مجھے یہ بھی محسوس ہوا کہ اتنی جلدبازی تو آئین کے تقدس کو پامال کرنے جیسی ہے۔۔۔اس معاملے کو سپریم کورٹ لے جانے کے پیچھے میرا خاص مقصد آئین کا تقدس، قانون کی بالادستی برقرار رکھنا اور عام انسان، خاص طور سے کمزور طبقے کے آدمی اور چھوٹے شیئر ہولڈرس کے حقوق کا تحفظ کرنا تھا۔ [کوپر آر سی، وہائے آئے مووڈ د سپریم کورٹ' ہمت، 20 فروری 1970]۔

آر سی کوپر کے ذریعے بھارت سرکار کے خلاف دائر کیے گئے اس مقدمے (1970) کا فیصلہ چھہ ماہ میں آ گیا۔ مشہور قانون داں ننی پالکی والا نے کوپر کی جانب سے مقدمے میں بحث کی۔ 10 فروری 1970 کو سپریم کورٹ کے 11 ججوں پر مشتمل بینچ میں سے ایک کے مقابلے 10 نے ڈاکٹر کوپر کے حق میں فیصلہ سنایا۔ 14 فروری کو صدر جمہوریہ ہند وی وی گری پر دباؤ ڈال کر ایک دوسرا آرڈیننس جاری کرایا گیا۔ اس کی رو سے ان 14 بینکوں کے شیئر ہولڈرس کو معاوضہ ادا کیا جانا تھا جنہیں اندرا گاندھی نے منمانی کرتے ہوئے قومیا دیا تھا۔ یہ معاوضہ اندرا گاندھی نے تین قسطوں میں دینے پر رضامندی ظاہر کی۔ مشہور و معروف ادیب، فلم ساز خواجہ احمد عباس کے مطابق اندرا گاندھی کی حکومت کو تب تین برابر قسطوں میں شیئر ہولڈرس کے لیے 87 کروڑ روپیے جمع کرانے پڑے۔ [عباس کے اے، 'دیٹ وومین: اندرا گاندھیز سیون ایئرس ان پاور' انڈین بک کمپنی، 1973]۔

سال 1974 میں سوتنتر پارٹی ختم ہو گئی۔ اس کے اگلے سال 1975 میں اندرا گاندھی نے ایمرجنسی لگا کر لوگوں کی آزادی اور ان کے حقوق پر پہرے بٹھا دیے۔ اپنے بزرگوں، خیرخواہوں و ممبئی کے پارسی سماج کی صلاح پر ڈاکٹر کوپر سنگاپور چلے گئے۔ انہوں نے وہیں کی شہریت حاصل کر لی اور اگلے 38 سالوں تک وہ سنگاپور میں کامیابی کے ساتھ فائنانشیل اینڈ اکنامک انفراسٹرکچر کنسلٹینسی چلاتے رہے۔

ڈاکٹر کوپر نے دو کتابیں 'جاب شیئرنگ ان سنگاپور (1986)' اور 'وار آن ویسٹ' (1991) کے نام سے لکھیں۔ وہ اس جزیرے کی تاجر برادری کے معزز شخص تھے۔ ساتھ ہی بین الاقوامی تجارت میں بھی ان کا دخل تھا کہ وہ انگلینڈ کی آسام آئیل کمپنی اور ڈنکن میک نیل (د آسام ٹی کمپنی) کے بورڈ آف ڈائریکٹرس میں شامل تھے۔ یہ دونوں کمپنیاں ملٹی نیشنل انکیپ گروپ کا حصہ تھیں۔ 90 سال کی عمر میں جب وہ لندن کے سفر پر تھے، تب جون 2013 میں ان کا انتقال ہو گیا۔

رشتے داروں و احباب سے ملنے وہ اپنی جائے پیدائش ممبئی متواتر آتے رہتے تھے۔ سنگاپور کے پرچم میں شامل رنگوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے خود کو وہ 'اگر لال سنگاپورین نہیں تو مفتخر گورا' کی تشبیہ دیا کرتے تھے۔ اس میں ان کے کمیونسٹ، مارکسسٹ مخالف جذبات کا بھی دخل تھا۔ بینک نیشنلائزیشن کی پچاسویں سالگرہ پر ہندوستانی سیاست کی قابل ذکر شخصیتوں میں ان کا ذکر بھی ہو سکتا ہے: ایک ایسا شخص جس نے اندرا گاندھی کو عدالت میں گھسیٹا اور فاتح رہا۔

صحافی و ادیب رشید قدوائی اوآرایف کے وزیٹنگ فیلو ہیں)۔) 

نوٹ: یہ مضمون نگار کے نجی خیالات ہیں۔

Loading...