உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    President Election:کتنی مشکل ہے دروپدی مورمو کے ملک کی سب سے نوجوان صدر بننے کی راہ، جانیے کیا کہتے ہیں اعدادوشمار

    صدارتی الیکشن کے لئے این ڈی اے کی امیدوار مورمو اور اپوزیشن کے امیدوار یشونت سنہا کے درمیان ہے مقابلہ۔

    صدارتی الیکشن کے لئے این ڈی اے کی امیدوار مورمو اور اپوزیشن کے امیدوار یشونت سنہا کے درمیان ہے مقابلہ۔

    President Election 2022:مورمو کے لئے صدارتی عہدہ تک پہنچنے کی راہ میں کتنی مشکل ہے؟ این ڈی اے کے اعدادوشمار کیا کہتے ہیں؟ این ڈی اے سے الگ اور کن پارٹیوں سے مورمو کو حمایت مل سکتی ہے؟ آئیے جانتے ہیں۔

    • Share this:
      نئی دہلی: President Election: جھارکھنڈ کی سابق گورنر دروپدی مورمو صدارتی انتخابات کے لیے این ڈی اے کی امیدوار ہیں۔ کل منگل کو بی جے پی صدر جے پی نڈا نے صدارتی انتخاب کے لیے ان کے نام کا اعلان کیا۔ اس سے قبل منگل کو ہی اپوزیشن نے اپنے صدارتی امیدوار کے نام کا اعلان کیا تھا۔ ٹی ایم سی ایم پی یشونت سنہا اپوزیشن کی طرف سے مورمو کے سامنے ہوں گے۔ اگر مورمو الیکشن جیت جاتی ہیں تو وہ ملک کی سب سے کم عمر صدر ہوں گی۔ وہ اس عہدے پر پہنچنے والی ملک کی پہلی قبائلی بھی ہوں گی۔

      مورمو کے لئے صدارتی عہدہ تک پہنچنے کی راہ میں کتنی مشکل ہے؟ این ڈی اے کے اعدادوشمار کیا کہتے ہیں؟ این ڈی اے سے الگ اور کن پارٹیوں سے مورمو کو حمایت مل سکتی ہے؟ آئیے جانتے ہیں۔

      کیا کہتے ہیں این ڈی اے کے اعدادوشمار؟
      لوک سبھا، راجیہ سبھا اور اسمبلی کے اعداد و شمار کے مطابق، حکمراں بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے کے پاس اس وقت تقریباً پانچ لاکھ 26 ہزار ووٹ ہیں۔ ان میں سے دو لاکھ 17 ہزار مختلف اسمبلیوں اور تین لاکھ نو ہزار ارکان پارلیمنٹ کے ووٹ ہیں۔ این ڈی اے میں بی جے پی کے ساتھ جے ڈی یو، اے آئی اے ڈی ایم کے، اپنا دل (سونی لال)، ایل جے پی، این پی پی، نشاد پارٹی، این پی ایف، ایم این ایف، اے آئی این آر کانگریس جیسی 20 چھوٹی پارٹیاں شامل ہیں۔

      موجودہ اعداد و شمار کے مطابق، این ڈی اے کو اپنے صدارتی امیدوار کو جیتنے کے لیے مزید 13,000 ووٹوں کی ضرورت ہوگی۔ 2017 میں، جب این ڈی اے نے رام ناتھ کووند کو میدان میں اتارا تھا، آندھرا پردیش کی وائی ایس آر کانگریس اور اوڈیشہ کی بی جے ڈی نے بھی حمایت کی تھی۔ اس کے علاوہ این ڈی اے میں نہ ہونے کے باوجود جے ڈی یو نے حمایت دی تھی۔ ساتھ ہی شیوسینا اور اکالی دل جو پچھلی بار این ڈی اے کا حصہ تھے اب الگ ہو چکے ہیں۔

      بی جے ڈی کے پاس 31 ہزار سے زیادہ ووٹ ہیں اور وائی ایس آر سی پی کے پاس 43 ہزار سے زیادہ ووٹ ہیں۔ یہاں تک کہ ان میں سے کسی ایک کی حمایت سے بھی این ڈی اے آسانی سے جیت سکتی ہے۔ اوڈیشہ سے ہے تعلق رکھنے والی مورمو کو بی جے ڈی کی حمایت ملنے کی امید ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو این ڈی اے آسانی سے اکثریت کا ہندسہ پار کر لے گی۔

      اپوزیشن کے پاس کتنے ووٹ؟
      کانگریس کی قیادت والی یو پی اے کے پاس فی الحال دو لاکھ 59 ہزار ووٹ ہیں۔ کانگریس کے علاوہ ان میں ڈی ایم کے، شیوسینا، آر جے ڈی، این سی پی جیسی پارٹیاں شامل ہیں۔ کانگریس کے اراکین اسمبلی کے پاس 88 ہزار 208 ووٹ ہیں۔ ساتھ ہی ارکان پارلیمنٹ کے ووٹوں کی ویلیو 57 ہزار 400 ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Presidential Polls: دروپدی مرمو ہوں گی این ڈی اے کی امیدوار ، جے پی نڈا نے کیا اعلان

      یہ بھی پڑھیں:

      Presidential Elections 2022: اپوزیشن کا بڑا فیصلہ، یشونت سنہا ہوں گے اپوزیشن کے امیدوار

      وہیں، مغربی بنگال کی حکمراں جماعت ٹی ایم سی، اتر پردیش کی اہم اپوزیشن جماعت سماج وادی پارٹی، آندھرا پردیش کی حکمران جماعت وائی ایس آر کانگریس، دہلی اور پنجاب کی حکمراں جماعت عام آدمی پارٹی، کیرالہ کی حکمراں جماعت لیفٹ، تلنگانہ کی حکمراں جماعت ٹی آر ایس، اے آئی ایم آئی ایم کے ووٹوں کی قیمت تقریباً دو لاکھ ہے۔ 61 ہزار ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: