உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Dussehra 2022: اودھ رام لیلا اور ہماری مشترکہ تہذیب، جانئے کچھ خاص باتیں

    Dussehra 2022: اودھ رام لیلا اور ہماری مشترکہ تہذیب، جانئے کچھ خاص باتیں

    Dussehra 2022: اودھ رام لیلا اور ہماری مشترکہ تہذیب، جانئے کچھ خاص باتیں

    دسہرے کا مطلب اندھیرے پر اجالے، برائی پر اچھائی اور بدی پر نیکی کی فتح ہے ۔ یہ ایک ایسا تہوار ہے جس کو بظاہر تو ہندو مناتے ہیں، لیکن اس سے متعلقہ تقریبات میں مسلمان بھی بڑی تعداد میں شریک ہوتے ہیں ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Uttar Pradesh | Lucknow | Lucknow
    • Share this:
    لکھنو: دسہرہ ہندووں کا ایک ایسا تہوار ہے جو عام طور پر ہندوستان، بنگلہ دیش اور نیپال میں منایا جاتا تھا اور اب وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دنیا کے دوسرے کئی ممالک میں بھی منایا جانے لگائے ہے ۔ ہمارے ملک کے بعض علاقوں میں یہ  وجے دشمی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ جیٹھ کے مہینے کے شکلا پکش کی دسویں تاریخ کو (جو گنگا کے پیدا ہونے کا دن ہے) منایا جاتا ہے۔ جب ہم بات لکھنئو کے پس منظر میں کرتے ہیں تو اس تہوار کی اہمیت اس لئے بڑھ جاتی ہے کہ اودھ کے مکمل علاقے میں یہ تہوار بظاہر تو ہندو دھرم کے لوگ مناتے ہیں لیکن اگر اس کے پس منظر کا جائزہ لیا جائے تو اس میں بڑی تعداد میں مسلمان اور دوسرے مذاہب کے لوگ بھی شریک ہوتے ہیں ۔ نوابین اودھ نے رام لیلا کے انعقاد سے لے کر راون کے دہن کے لئے جو رنگ و آہن اودھ کی تہذیب کو عطا کیا تھا، اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ۔

    نوابین اودھ کے استحکام کے ساتھ ساتھ ہندستان میں رائج مختلف عوامی روایات ،مذہبی رسومات اور ان سے متعلق تیوہاروں پر پیش کئے جانے والے ناٹک اور لوک گیتوں کا بھی اہم کردار رہا ہے ۔ گیارہویں صدی میں جب با ضابطہ طور پر مسلمان اور ہندوؤں کا سابقہ شروع ہوا تو اس باہمی اشتراک اور اختلاط سے ایک نئے سماج کا جنم ہوا اودھ کا علاقہ ابتدا سے آپسی محبت ،اخوت، بھائی چارگی، رواداری اور تہذیبی ہم آہنگی کے لیے جانا جاتا ہے ۔ شاہان اودھ نے اپنے یہاں مختلف مذاہب اور ان کی تہذیبوں کو پھلنے پھولنے کا موقع فراہم کرنے کے لیے جو اہم اقدامات کئے انہیں کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتاہے ۔اودھ میں مہمانوں کا ادب و احترام ہمیشہ سے دیوتا کی مانند کیا جاتا رہا ہے ۔

    دسہرہ اندھیرے پر اجالے ، برائی پر اچھائی اور بدی پر نیکی کی فتح ہے ۔ یوں تو دسہرے کے لغوی معنی دس روز کے ہیں۔ اس سے مراد ہے دس گناہوں کو لے جانے والا۔ جیٹھ شکل پکش کی دسویں تاریخ جو گنگا کے پیدا ہونے کا دن ہے۔ ہندو دھرم کی بعض روایات کے مطابق جو اس دن گنگا میں نہائے اس کے دس قسم کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ اس دن درگا جی کی جنم اشٹمی یا یوم فتح منایا جاتا ہے۔ نیز اس دن راجارام چندر کا بن باس سے گھر آنا اورراون پر فتح پانا بھی بیان کیا جاتا ہے۔ قدیم زمانے میں یہ موسمی تہوار تھا کیونکہ اس روز دن اور رات برابر ہو جاتے ہیں۔ اور موسم اعتدال پر آجاتا ہے۔ پھر اس تہوار پر مذہبی رنگ چڑھ گیا اور یہ راون کے خلاف رام چندر کی فتح کی یادگار کے طور پر منایا جانے لگا  ۔

    نواب واجد علی شاہ نے رام لیلا کے انعقاد کے لئے جو خصوصی اقدامات کئے وہ اودھ کی سنہری تاریخ کا ہمیشہ زندہ رہنے والا باب ہے کبھی نہ فراموش کیا جانے والا چیپٹر ہے ، واجدعلی شاہ کو مختلف علوم و فنون میں دلچسپی ہونے کے ساتھ ہی ساتھ مختلف مذاہب کے رسم و رواج سے بھی بہت زیادہ انسیت تھی وہ اپنی رعا یا کا بہت زیادہ خیال رکھتے تھے ۔ثقافت کی ترویج وترقی میں رعایا اورحکمراں دونوں کا اشتراک ضروری نہ ہوتا تو جن فنون کی ترویج و ترقی کے لیے عہد ِ واجد علی شاہ جانا جاتا ہے وہ ان کے پہلے ہی انجا م پا گیے ہوتے کیونکہ ان کی داغ بیل آصف ا لدولہ کے عہد میں پڑ چکی تھی اور نصیر ا لدین حیدر کے عہد تک آتے آتے یہ تمام روایتیں بہت مستحکم ہو چکی تھیں۔ لیکن واجد علی شاہ کی جدّت پسندی نے ان فنون کی ترویج و ترقی کے سا تھ ساتھ ان میں نئے پہلوکی تلاش کی  اور رام لیلا سے متعلقہ تقریبات کو نئی شکل و صورت عطا کی جو اس سے پہلے کبھی نہ ہوئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ واجد علی شاہ کے عہد میں  رام لیلا راس لیلا نکڑ ناٹکوں ، شعرو شاعری اور رقص وموسیقی کا اس قدر چرچا تھا کہ تقریباً ہر پڑھنے لکھنے والا شخص شعر و شاعری توضرور کر لیتا تھا ۔

     

    یہ بھی پڑھئے: افغانستان : کابل میں وزارت کے پاس مسجد میں دھماکہ، تین افراد کی موت، 25 زخمی


     

    یہ بھی پڑھئے: سیاست سے دور رہے گی پاکستانی فوج؟ آرمی چیف جنرل باجوا نے عوام سے کیا یہ بڑا وعدہ


    اس ماحول کا اثر ان کی شخصیت پر اس قدر طاری ہوا کہ وہ بچپن سے ہی شعر و شاعری کے دلدادہ ہو گیے اور رقص و موسیقی کی طرف رجحان زیادہ ہونے لگا ۔یہی اسباب ہیں کہ ان میں دینی تعلیم و تدریس سے رغبت کم ہو تی گئی اور رنگین مزاجی اور عیش پرستی کی طرف رجحان بڑھنے لگا۔ اسی لیے وہ اپنے والدین کی خواہش کو شرمندۂ تعبیر کرنے سے قاصر رہے۔ اپنی طبیعت اور مزاج کے مطابق نصیر ا لدین حیدر کی قائم کی ہوئی روایت کو دوبارہ شروع کیا اور رقص و موسیقی میں خود کو اس قدر مصروف کرلیا کہ ہندستان میں اپنے عہد کے فن ِ ڈراما کے سب سے بڑے سرپرست کہلائے لیکن رقص و موسیقی کی بہ نسبت فن ِ ڈراما پر ان کا احسان زیادہ تھا ۔ انھوں نے ناٹک کو عوام کے ہاتھوں اور گلی کوچوں سے نکال کر شاہی محل میں جگہ دی اور عزت کے سنگھاسن پر بٹھایا۔

    کہا تو یہ بھی جاتا ہے کہ واجدعلی شاہ کے عہد سے بہت پہلے ہی اودھ میں بہت سی ایسی عوامی روایتیں موجود تھیں جن میں ڈرامائی عناصرتھےاور باقاعدہ رام لیلا کو ڈرامے کی شکل میں پلیش کیا جاتا تھا  ۔مثلاً قصہ خوانی،داستان گوئی ،بھانڈوں کی نقلیں ،رام لیلا ، کرشن لیلا ، نوٹنکی ،سوانگ وغیرہ۔یہ تمام روایتیں فن ِ ڈراما کے لیے سر چشمہ ثابت ہوئیں اور اردو ڈراما کی ترویج و ترقی میں بڑی معاون و مدد گار بھی ثابت ہوئیں ۔ بغیر ان روایتوں کے ذکر کے نہ تو ڈراما کی تاریخ مکمل ہو سکتی ہیں اور نہ ہی واجد علی شاہ کی شخصیت اور ان کے ڈرامے میں پیش کردہ مشترکہ تہذیب کو سمجھا جا سکتا ہے ۔

    بنیادی بات یہ ہے کہ نوابین اودھ اور شاہان اودھ نے صرف رام لیلا کے لیے رقم ہی نہیں خرچ کی بلکہ ان کے کرداروں اور معماروں میں مسلمانوں کی شمولیت سے ایسی فضا بھی پروان چڑھائی جسے ہندوستانی مشترکہ تہذیب سے تعبیر کیا جاسکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی اودھ کے بیشتر علاقوں میں راون بنانے والے بیشتر کاریگر مسلمان ہیں، جو یہ کام پوری عقیدت اور احترام سے انجام دیتے ہیں اور اسی طرح منعقد ہونے والی رام لیلا میں بھی مسلمان مختلف کردار ادا کرکے اس مشترکہ تہذیب کو زندہ و تابندہ رکھے ہوئے ہیں جس پر ہم اور ہمارا ملک فخر کرتا ہے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: