உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    India China Tension:چین مسئلے پر جئے شنکر نے کہا-سرحد پر حالات ٹھیک نہیں ہوں گے، تو ہمارے تعلقات معمول پر نہیں آئیں گے

    وزیر خارجہ ایس جئے شنکر نے چین کے ساتھ تعلقات پر کہی یہ بڑی بات۔ (فائل تصویر:)

    وزیر خارجہ ایس جئے شنکر نے چین کے ساتھ تعلقات پر کہی یہ بڑی بات۔ (فائل تصویر:)

    India China Tension: جے شنکر نے مزید کہا کہ میں نے 2020 اور 2021 میں کہا تھا اور آج پھر کہہ رہا ہوں کہ ہمارے تعلقات معمول پر نہیں ہیں۔ اگر سرحد پر حالات نارمل نہیں ہیں تو یہ نارمل نہیں رہ سکتے۔

    • Share this:
      India China Tension:ہندوستان اور چین کے معاملے پر وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ ہم نے اپنا موقف برقرار رکھا ہے کہ اگر چین سرحدی علاقوں میں امن کو خراب کرتا ہے تو اس سے ہمارے تعلقات متاثر ہوں گے۔ ہمارے تعلقات نارمل نہیں ہیں، وہ نارمل نہیں ہو سکتے کیونکہ سرحدی حالات نارمل نہیں ہیں۔

      جے شنکر نے کہا کہ ہندوستان مسلسل اپنے موقف پر قائم ہے کہ اگر چین سرحدی علاقوں میں امن کو خراب کرتا ہے یا قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس سے دونوں ممالک کے تعلقات متاثر ہوں گے۔ جے شنکر نے کہا کہ ہم نے کمانڈر سطح پر 15 دور کی بات چیت کی ہے۔ ان جگہوں سے انخلاء کے حوالے سے دونوں فریقین کی جانب سے کئی اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔ ہم نے ان پر عمل درآمد بھی شروع کر دیا ہے۔

      انہوں نے کہا کہ اب بھی کچھ جگہیں ایسی ہیں جہاں سے وہ پیچھے نہیں ہٹے ہیں۔ حالانکہ، ہم اس موقف پر قائم ہیں کہ اگر چین سرحدی علاقوں میں امن خراب کرے گا تو اس سے تعلقات متاثر ہوں گے۔ جے شنکر دو سال قبل لداخ میں جھڑپ کے بعد چین کے ساتھ تعلقات میں تناؤ سے متعلق ایک سوال کا جواب دے رہے تھے۔

      یہ بھی پڑھیں:

      Unclaimed Funds:بینکوں میں بنادعوے کے رکھے ہوئے ہیں40ہزارکروڑروپے،مرکزکوSCنے دی یہ ہدایت

      یہ بھی پڑھیں:
      Salman Rushdie:تسلیمہ نسرین نے کہا-کبھی نہیں سوچا تھاکہ ایساہوگا؟جانیے مشہورشخصیات کاردعمل

      جے شنکر نے مزید کہا کہ میں نے 2020 اور 2021 میں کہا تھا اور آج پھر کہہ رہا ہوں کہ ہمارے تعلقات معمول پر نہیں ہیں۔ اگر سرحد پر حالات نارمل نہیں ہیں تو یہ نارمل نہیں رہ سکتے۔ سرحدی صورتحال ابھی تک نارمل نہیں ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ انتہائی کشیدہ صورتحال ہے۔ یہ ایک خطرناک صورتحال بھی ہو سکتی ہے، اس لیے ہم بات چیت کر رہے ہیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: