ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

کولکاتا میٹرو میں گلے مل رہے جوڑے کی عوام نے کردی پٹائی

کولکاتا میں دم دم میٹرو اسٹیشن گلے مل رہے ایک جوڑے کی کچھ لوگوں نے پٹائی کردی۔

  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
کولکاتا میٹرو میں گلے مل رہے جوڑے کی عوام نے کردی پٹائی
کولکاتا میں دم دم میٹرو اسٹیشن گلے مل رہے ایک جوڑے کی کچھ لوگوں نے پٹائی کردی۔

کولکاتا میٹرو اسٹیشن سے ایک حیران کرنے والا معاملہ سامنے آیا ہے۔ حادثہ دم دم میٹرو اسٹیشن کا ہے، جہاں پر کچھ لوگوں نے جوڑے کی پٹائی کردی۔ چشم دیدوں کے مطابق میٹرو ٹرین کے اندر جوڑے ایک دوسرے کے کافی نزدیک کھڑے تھے اور سفر کے دوران وہ ایک دوسرے سے لگے لگ رہے تھے۔ اس پر ایک بزرگ شخص نے اعتراض کیا، جس سے دونوں میں بحث ہونے لگی۔ بعد میں بھیڑ سے کچھ اور لوگ بھی بزرگ کی حمایت میں آگئے۔


ان میں سے کچھ لوگوں نے جوڑے کو دھمکی دی کہ دم دم اسٹیشن اترو، پھر بتاتے ہیں، جیسے ہی دم دم اسٹیشن آیا، کچھ لوگوں نے لڑکے کو ٹرین سے نیچے کھینچ لیا اور لات گھونسوں سے پٹائی کرنے لگے۔ پٹائی کرنے والے لوگ کہہ رہے تھے کہ کمرہ لے کر کیوں نہیں ملتے؟ اس دوران لڑکی بیچ بچاو میں آئی، لیکن کوئی نہیں مانا۔ لڑکی بھی زخمی ہوگئی۔ بعد میں بھیڑ سے ہی کچھ اور لوگوں نے جوڑے کا بچاو کیا۔ کچھ لوگوں نے موبائل سے اس واقعہ کی تصویریں لیں، جو کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے۔


اس معاملے میں متنازعہ مصنفہ تسلیمہ نسرین نے بھی ٹوئٹ کیا۔ انہوں نے لکھا کہ کولکاتا میٹرو میں ایک جوڑے نے ایک دوسرے کو گلے لگایا تو اس سے کچھ بزرگ لوگ ناراض ہوگئے۔ انہوں نے جوڑے کی پٹائی کردی۔ نفرت کے واقعات لوگوں کو قابل قبول ہیں، لیکن محبت کو فحش سمجھا جاتا ہے۔


 

حالانکہ اس طرح کے معاملے ہندوستان میں نئے نہیں ہیں۔ حال ہی میں آسام میں بھی ایک خاتون کو 12 لوگوں نے صرف اس لئے پیٹا تھا، کیونکہ خاتون ایک دوسرے شخص کے ساتھ ایک میڈیکل سینٹر جارہی تھی۔ حاد ثہ کا ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی کافی وائرل ہوا تھا، جس کے بعد پولس نے سبھی ملزمین کو گرفتار کرلیا تھا۔ ایک دوسرا واقعہ شمال مشرقی ریاست میگھالیہ کا ہے، جس میں کچھ لوگوں نے خاتون کو کسی دوسرے مذہب کے نوجوان کے ساتھ رشتے میں ہونے کی وجہ سے پٹائی کردی تھی۔

میٹرو ریل کے افسران کا کہنا ہے کہ واقعہ کی جانچ کی جارہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم پتہ لگانے کی کوشش کررہے ہیں کہ کیا ہوا اور ریلوے پولیس نے معاملے میں مداخلت نہیں کی۔

اس معاملے کو لے کر پھر سےایک بار بحث چھڑ گئی ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ عوامی مقامات پر اس طرح کی حرکت کرنا مناسب نہیں ہے جبکہ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ آج کل یہ عام بات ہے، معاشرہ میں اسے قبول کیاجانا چاہئے۔

 
First published: May 01, 2018 08:01 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading