ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

بہار: اسمبلی الیکشن میں ابھی آٹھ مہینے باقی، لیکن الیکشن کو لیکر سیاسی پارٹیوں کی تیاری ابھی سے شروع

جے ڈی یو لیڈروں کے مطابق سیمانچل پر پارٹی کی گہری نظر رہتی ہے لیکن سی اے اے کا مدّعا سامنے آنے کے بعد پارٹی کی شبیہ سیمانچل میں کچھ خراب ہوئی ہے۔

  • Share this:
بہار: اسمبلی الیکشن میں ابھی آٹھ مہینے باقی، لیکن الیکشن کو لیکر سیاسی پارٹیوں کی تیاری ابھی سے شروع
جے ڈی یو لیڈروں کے مطابق سیمانچل پر پارٹی کی گہری نظر رہتی ہے لیکن سی اے اے کا مدّعا سامنے آنے کے بعد پارٹی کی شبیہ سیمانچل میں کچھ خراب ہوئی ہے۔

پٹنہ۔ بہار کے اسمبلی الیکشن میں ابھی آٹھ مہینے باقی ہیں لیکن صوبہ کی سیاسی پارٹیوں کی جانب سے انتخابی تیاری شروع ہوگئی ہے۔ سی اے اے کی حمایت کے بعد مسلم علاقوں میں حاشیہ پر آئی جے ڈی یو سیمانچل کے لوگوں کو سمجھانے میں جٹی ہے وہیں اسی مدّعا پر آرجے ڈی اپنی سیاسی زمین کو مضبوط بنانے کی کوشش میں لگی ہے۔


بہار کے سیمانچل میں ۲۴ اسمبلی حلقہ آتا ہے۔ این ڈی اے اپنی جیت کو یقینی بنانے کے لئے سیمانچل کا دورہ شروع کرچکی ہے۔ خاص طور سے جے ڈی یو کے مسلم لیڈروں کو کشن گنج بھیجا گیا تھا جہاں سے سیمانچل کے مسلمانوں کو پارٹی سے قریب لانے کی مسلم لیڈروں نے مہم شروع کی ساتھ ہی نتیش کمار کی جانب سے کئے کاموں کو گنوایا۔ نتیش کمار کی جل جیون ہریالی اسکیم کو بھی سامنے رکھ کر پارٹی لیڈر عوام کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش میں جٹے ہیں۔ دراصل سیمانچل کے چاروں ضلع کشن گنج، ارریہ، پورنیہ اور کٹیہار میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ جے ڈی یو یہاں اپنی زمین کو مضبوط بنانے کی کوشش کررہی ہے۔


جےڈی یو لیڈروں کے مطابق سیمانچل پر پارٹی کی گہری نظر رہتی ہے لیکن سی اے اے کا مدّعا سامنے آنے کے بعد پارٹی کی شبیہ سیمانچل میں کچھ خراب ہوئی ہے۔ جےڈی یو کے مسلم لیڈروں کو پارٹی کی ہدایت پر سیمانچل بھیجاگیاتھا جہاں پارٹی کارکنوں سے ملاقات کے علاوہ جےڈی یو لیڈروں نے نتیش کمار کے حق میں ماحول بنانے کی کوشش کی۔ جےڈی یو اقلیتی سیل کے نائب صدر محمد عظیم کے مطابق نتیش کمار نے اقلیتوں کے لئے کام کیا ہے اس لئے ہماری پارٹی یہ امید کرتی ہیکہ سیمانچل میں جے ڈی یو کو مناسب مقام ملے ساتھ ہی حکومت کی جانب سے کئے گئے کاموں کا بدلہ عوام نتیش کمار کی حمایت کر کے پورا کرے۔ وہیں، آرجےڈی لیڈر عارف حسین کا کہنا ہیکہ سی اے اے، این پی آر اور این آر سی کے معاملے پر جےڈی یو سے مسلمان، دلت اور غریب طبقہ سخت ناراض ہے۔ عارف حسین نے دعویٰ کیا ہیکہ شہریت قانون کے خلاف احتجاج میں آرجے ڈی اپنی پوری حمایت دے رہی ہے اس کا فائدہ پارٹی کو حاصل ہوگا لیکن دلچسپ یہ بھی ہیکہ آرجے ڈی خواتین کے احتجاج میں بھی ٹھیک سے شرکت نہیں کر سکی ہے لیکن اسی مدّعا پر انتخاب جیتنے کا خواب دیکھ رہی ہے۔


وہیں، آرجےڈی لیڈر عارف حسین کا کہنا ہیکہ سی اے اے، این پی آر اور این آر سی کے معاملے پر جےڈی یو سے مسلمان، دلت اور غریب طبقہ سخت ناراض ہے۔


سی اے اے، این پی آر کے معاملے نے جےڈی یو کے مسلم ایم ایل اے کو بھی مشکل میں ڈال دیا ہے۔ ذرائع سے ملی جانکاری کے مطابق سیمانچل میں جے ڈی یو کے کئی ایم ایل اے انتخاب قریب آتے آتے پارٹی بھی بدل سکتے ہیں۔ حالانکہ فی الحال جے ڈی یو کے مسلم لیڈر اس بات سے انکار کر رہے ہیں ساتھ ہی مسلم ایم ایل اے اس معاملے پر صاف طور سے کچھ کہنے سے بچ رہے ہیں۔ لیکن یہ طے ہیکہ انتخاب قریب آتے آتے سیمانچل کا سیاسی منظر نامہ بدل جائےگا۔ یہی وجہ ہیکہ جے ڈی یو سیمانچل میں اپنے لیڈروں پر خاص توجہ دے رہی ہے اور لوگوں کو پارٹی سے قریب بنائے رکھنے کی مہم میں جٹی ہے۔

ادھر سیمانچل میں ایم آئی ایم نے بھی سی اے اے، این پی آر اور این آر سی کے معاملے پر تحریک چھیڑ رکھی ہے۔ ایم آئی ایم گزشتہ ضمنی انتخاب میں کشن گنج سیٹ سے اپنا کھاتہ کھول چکی ہے۔ پارٹی کے لیڈروں نے دعویٰ کیا ہیکہ آئندہ اسمبلی انتخاب میں ایم آئی ایم سیمانچل کی کئی سیٹوں پر کامیاب ہوگی۔ سبھی سیاسی پارٹیاں اپنی اپنی حکمت عملی پر کام کرتی نظر آرہی ہیں۔ مسلم علاقہ ہونے کے سبب تمام سیاسی پارٹیوں نے اپنی پارٹی کے مسلم لیڈروں کو سیمانچل کو فتح کرنے کا کام سونپا ہے۔ جبکہ سیمانچل میں آج بھی لوگوں کو بنیادی سہولتیں دستیاب نہیں ہیں۔ روزگار کی کمی کے سبب یہاں سے لوگوں کے ہجرت کرنے کا سلسلہ لگاتار جاری رہتا ہے۔ ناخواندگی کی مار اپنی جگہ ہے اور بنیادی سہولت کی کمی اپنی جگہ۔ مزہ کی بات یہ ہیکہ سیمانچل کے ان بنیادی سوالوں پر نہ ہی اپوزیشن حملہ کرتی ہے اور نہ برسر اقتدار پارٹی اس سلسلے میں کام کرنا پسند کرتی ہے۔ ان کی نظر ووٹوں پر ٹکی ہوتی ہے اس لئے انتخابات کے موقع پر سیمانچل لگاتار سرخیوں میں بنا رہتا ہے۔
First published: Feb 06, 2020 02:00 PM IST