உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دادری سانحہ: مغربی بنگال کے 90سے زاید مصنفین کی صدر جمہوریہ سے مداخلت کی اپیل

    کلکتہ:مغربی بنگال کے 90سے زاید دانشور اور مصنفوں نے صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ داداری سانحہ اور عقلیت پسندوں پر حملوں کے گناہ گاروں کو سزا دی جائے ۔

    کلکتہ:مغربی بنگال کے 90سے زاید دانشور اور مصنفوں نے صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ داداری سانحہ اور عقلیت پسندوں پر حملوں کے گناہ گاروں کو سزا دی جائے ۔

    کلکتہ:مغربی بنگال کے 90سے زاید دانشور اور مصنفوں نے صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ داداری سانحہ اور عقلیت پسندوں پر حملوں کے گناہ گاروں کو سزا دی جائے ۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      کلکتہ:مغربی بنگال کے 90سے زاید دانشور اور مصنفوں نے صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ داداری سانحہ اور عقلیت پسندوں پر حملوں کے گناہ گاروں کو سزا دی جائے ۔ خط میں کہاگیا ہے کہ ان واقعات کے ملزمین کے خلاف کارروائی میں سست روی اور انصاف دلانے کے تئیں حکومت کے عزم میں کمی کی وجہ سے ہم لوگ مایوس ہیں۔ خوف و ہراس کے ماحول میں اظہار رائے کی آزادی خطرے میں ہے۔اس کی وجہ سے ہماری مشترکہ زندگی خطرے میں ہے اس لیے ہم آپ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ اس معاملے میں مداخلت کریں ۔ 94شخصیتوں نے جنہوں نے اس خط پر دستخط کیا ہے۔ ان میں شاعر شنک گھوش، نریندر ناتھ چکرورتی ، مصنگ نبنیتا دیب سین، بانی باسو، شرشندو مکھرجی ، شمریش مجمدرا ، ٹھیٹر کے ماہر رودرا پرساد سین گپتا اور پنٹر وسیم کپور شامل ہیں ۔


      عقلیت پسند نریندر دھا بولکر اور ایم ایم کلبرگی اور گائے کا گوشت کھانے کے شبہ میں اخلاق احمد کو اخلاق کیے جانے کو شخصی آزادی پر حملے سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی حقوق خطرے میں ہیں ۔اس لیے ہم آپ سے اپیل کرتے ہیں ملک کی جمہوریت اور بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے فوری قدم اٹھائے جائیں ۔


      خیال رہے کہ اس سے قبل مغربی بنگال کے کئی مشہور مصنفین اور ساہتیہ اکاڈمی ایوارڈ یافتہ شخصیتوں نے دادری سانحہ اور ملک بھر میں فرقہ پرستی میں اضافے کے خلاف ایوارڈ لوٹانے کے سلسلے سے عدم اتفاق ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے خلاف احتجاج بڑے پیمانے پر کیا جانا چاہیے تھا۔


      مغربی بنگال کے مشہور شاعر نریندر ناتھ چکرورتی جنہیں ’’ اولنگا راجا‘‘ نامی کتاب پر 1974میں ایوارڈ سے نوازا گیا تھا نے ایوارڈ لوٹائے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انتہائی قابل مذمت عمل کے خلاف یہ معمولی احتجاج ہے ۔چکرورتی نے کہا کہ میرے خیال سے یہ احتجاج کرنے کا صحیح طریقہ نہیں ہے ، میں اس طرح کے احتجاج سے متفق نہیں ہوں بلکہ یہ احتجاج کا بہت ہی سستاطریقہ اور بچکانہ حرکت ہے ۔


      87سالہ مصنف نے کہا کہ ساہتیہ اکاڈمی ایک خود مختار ادارہ ہے ۔ایوارڈ لوٹائے جانے سے اکاڈمی کی عظمت اور وقار مجروح ہوا ہے کہ جب ان معاملات سے اکاڈی کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ ان واقعات کے خلاف احتجاج بڑے پیمانے پر ہونا چاہیے جس میں عوام کی شمولیت ہوتاکہ اس کے خلاف پیغام دور دور تک جا سکے ۔


      چکرورتی کے بیان سے اتفاق کرتے ہوئے ساہتیہ اکاڈمی ایوارڈ یافتہ شنکھا گھوش نے کہاکہ اس کے خلاف احتجاج کیلئے دوسرا طریقہ اختیار کرنا چاہیے کیوں کہ اکاڈمی حکومت کا ادارہ نہیں ہے بلکہ یہ خود مختار ادارہ ہے اور یہ ایوارڈ حکومت کے دباؤں میں نہیں دیا گیا ہے ۔


      ساہتیہ اکاڈمی ایوارڈ یافتہ بابریر پارتھا نے کہا کہ مجھے یہ ایوارڈ حکومت نے نہیں دیے ہیں ، مجھے چالیس سال قبل یہ ایوارڈ دیا گیا تھا آخر کیوں میں اس ایوارڈ کو واپس کروں؟1988میں ساہتیہ اکاڈمی کا انعام حاصل کرنے والے شری شندو مکھو پادھیائے نے ایواراڈ واپس کیے جانے کو بے معنیٰ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دادری سانحہ اور فرقہ پرستی میں اضافہ کے خلاف احتجاج کرنے والوں کا میں احترام کرتا ہوں۔میرے خیال سے ان احتجاج سے نتائج برآمد نہیں ہونے والے ہیں۔


      ایوارڈ یافتہ سمریش مجمدرا نے کہا کہ اس طرح کے واقعات کے خلاف احتجاج ضروری ہے مگر میرے خیال سے یہ احتجاج کرنے کا صحیح طریقہ نہیں ہے ۔ اس درمیان بنگلہ زبان کی مشہور شاعرہ مندک رنتا سین نے ساہتیہ اکاڈمی کا ایوارڈ واپس کرنے کا اعلان کیا ہے ۔

      First published: